مَیں اِک نظم لکھوں گا لیکن سُنانے نہیں آؤں گا وہ بہت خوبصورت، بہت چنچلی ...

وہ جب کالی آندھی کی مانند شہر میں آتے تھے تو اسکول میں ہر طرف ...

دوسرا صفحہ: نگری نگری پھرا مسافر : میں کہ ابتداء سے ہی صحرا نورد ٹھہرا، ...

دُعا کی دَسَتکوں سے وَا نہ ہوں گے دَر ابھی اور لَبِ دَریا کَٹیں گے ...

o ذرا سا تھا مگر بے انتہا کیسے ہوا تھا میں مشتِ خاک سے بادِ ...

سب کےمشکل کشا،یا علی یا علی سب کے حاجت روا، یا علی یا علی میرے ...

یوں ہو تو مزہ ہے زندگی کا محتاج نہ ہو کوئی کسی کا یارا نہیں ...

بس اک خیال کہ ہے کون جس کو دیکھا تھا کسی وصال میں لرزاں جو ...

گھاس کی خوش بو ( نثری نظم ) اگر کوئی بوڑھا ، پھٹا پرانا کھلاڑی ...

سلیماں! مرے ساتھ لشکر نہیں تھا اکیلی تھی میں اور دن ڈھل رہا تھا مجھے ...