اُٹھ پائے تو اِس اُفتاد نگر سے نکلیں گے لامعلوم ہیں ہم معلوم کے ڈر ...

دُکھ کڑی مُسافت کا راستوں کو کیا معلوم منزلوں پہ کیا گُزری فاصلوں کو کیا ...

دلِ خوش خواب ہے گُزرے زمانوں میں کہ تم ہو زرِ کم یاب ہے اِن ...

کِس کو ملنی ہے یہاں کس پہ فضیلت نہیں طے سَر کو رہنا ہے کہ ...

ہَم سے نالاں بھی وہ رہتے ہیں بِچھڑتے بھی نہیں ہَم سَفرَ اَور کوئی راہ ...

مال و مَنال بھی رہا جامِ سِفال بھی رہا دَستِ کِرشمہ ساز میں، اور ملال ...

بھُول جاتا ہُوں کہِ پہلے بھی مِلا ہوں تجھُ سے تُو نے رکھّا ہے یہ ...

جاں بکف جام بَلَب کچھُ بھی نہیں لَوٹ آیا ہوں سَبَب کچھُ بھی نہیں کَون ...

دیواروں سے ٹکرانا سَر رُکنا مت پانی ہو جائیں گے پتّھر رُکنا مت دِہلیزیں، زنجیریں ...

ختم ہوتی ہے دلِ شوریدہ کی گرمی کہاں دیکھنے والے ہماری خاک کو چھُو کر ...