ٹھہرو۔۔۔۔۔۔۔! کسی نے افواہ چھوڑی ہے، کہ مجھے، تم سے محبت ہے۔ سنو!  مجھے تم ...

دھوپ دریا کے اس پار ہے اور کشتی اس کنارے پانی کسی کا طرف دار ...

O کہاں گئے وہ زمانے کہ آدمی کے لیے فروغِ جلوہ باطن اصول ہوتا تھا ...

o شکوہ غم وہ کرے جو رنج کا خوگر نہیں میرا چاکِ سینہ تو محتاجِ ...

‎اب کی بار وہ جدا کیا ہوا ‎جاڑے کا موسم آتے ہی ‎میرے ہینڈز فری ...

“سنکرتی کے چار ادھیاے” کو پڑھتے اور ترجمہ کرتے ہوئے “دنکر کی ڈائری” کا خیال ...

اپنی کوتاہیوں میں ملبوس ہم اِدھر اُدھر تکتے ہیں۔ روشنیاں اور سایے آس پاس گردش ...

نرم و ملائم اور آرام دہ کرسی پر بیٹھے ہوئے، یوذاسیف خیال کی تنہائی میں ...

کہتے ہیں جب کوئی ملکوں ملکوں پھرتا ہے تو اسکی نظموں میں پہاڑوں پہ اترتی ...