کئی سال ہوئے میری زندگی خزاں آلود ویران سڑکوں، پتھروں سے بنی تاریک خالی گلیوں، ...

روز مَرہ کی زندگی میں کھینچاؤ، الجھاؤ ہونے سے کوئی بدلاؤ کیوں نہیں آتا؟ جبکہ ...

دیو مالاؤں کے ستونوں پر کھڑی ہونے والی دیویاں شہزادوں کے پرستار ہونے کا انتظار ...

سانولی کون ہے کوئی نہیں جانتا کہ سانولی کون ہے مگر شاعری کے دربار میں ...

رفقائے مکرم! حال کچھ یوں ہے کہ الفاظ کے صوتی اظہار سے زبان نہیں بلکہ ...

وہ پرانے کلچر کی نئی دکان پر گھنٹوں ایک ہینڈ بیگ چننےمیں صرف کرتی ہے ...

المان میں رات کے اس پہر ایک ہی کرسی پر بیٹھے ایک ہی منظر کو ...

کالے بادلوں کے ماتھے سے ٹھنڈٰی شام قطرہ قطرہ جب میرے آتشیں سینے پہ گِری ...

ایک جہنم ہے جس میں جھوٹ پھیلانے والوں کو بنا سزا سنائے ہی دھکیل دیا ...

اپریل کے دنوں میں اجنبی راستوں پہ یونہی کبھی چلتے چلتے چیری کے درختوں پر ...