O پل جھپکنے میں کچھ پتا نہ ملا تم ملے یا کوئی فسانہ ملا دور ...

O سبزہ، کنارِ آبِ رواں، تازگی، درخت ہر گام، بانٹتے ہوے خوشبو نئی، درخت وہ ...

O سینہء سنگ میں شرار ہے کیوں خاک اندر سے لالہ زار ہے کیوں پیڑ ...

O کِھلیں جو گُل تو سُخن کا اسے بہانہ کہیں اسی بہانے غمِ ذات کا ...

O تھا درد کا درماں، نہ کسی بات کا حل تھا کیا زیست کی بنیاد ...

O جم کر شفق پہ ابرِ بے تاب سو گیا ہے یا رنگ میں ٹھہر ...

O دنیا کے ساتھ میں بھی برباد ہو رہا ہوں کس کس کو کھو چکا ...

O چاک پر صبح و مسا، کون چڑھاتا ہے مجھے نوبہ نو شکل میں لاتا ...

O بس اب یہی ہے کہ سب کچھ جلا کے رکھ دیا جائے پھر اِس ...

O طبع برہم ہے، ہوا تیز ہے، خاک اُڑتی ہے دل کی آگ اے مرے ...