O جم کر شفق پہ ابرِ بے تاب سو گیا ہے یا رنگ میں ٹھہر ...

O دنیا کے ساتھ میں بھی برباد ہو رہا ہوں کس کس کو کھو چکا ...

O چاک پر صبح و مسا، کون چڑھاتا ہے مجھے نوبہ نو شکل میں لاتا ...

O بس اب یہی ہے کہ سب کچھ جلا کے رکھ دیا جائے پھر اِس ...

O طبع برہم ہے، ہوا تیز ہے، خاک اُڑتی ہے دل کی آگ اے مرے ...

O نگاہ سے نہیں ہٹتے ترے در و دیوار یہ میرے ساتھ کہاں چل پڑے ...

“کئی چاند تھے سرِ آسماں” اپنی نوعیت کا انوکھا ناول ہے۔ ثقافتی ثروت سے مالا ...

O کسی کے دل میں سمانا، کبھی نہ چاہتا تھا میں اِس عذاب میں آنا، ...

O شبِ غُربت میں جو خوشبوئے وطن پاس آئی دیر تک سانس نہیں، صرف تری ...

اے زباں اپنے کہے کو بھی نہ اپنا فن سمجھ غیب سے سُن کر سناتی ...