O رات بھر آسماں پہ جاگتے ہیں مُجھ سے بیزار ثابت و سیّار روز رہتی ...

O آج پھر ذہن میں یکجا ہیں زمانے تینوں اے زباں بول کہ لب سے ...

O کہاں گئے وہ زمانے کہ آدمی کے لیے فروغِ جلوہ باطن اصول ہوتا تھا ...

O اک بات کہی، کہنے کے لیے بہتے رُخ پر بہنے کے لیے موجوں کا ...

لہو پھر مرا گنگنانے لگا پُرانے ترانے سنانے لگا اُگا ذہن میں اک شجر سایہ ...

O دل ہے تو دل کو ساتھ تمھارا بھی چاہیے اِس انجمن کو انجمن آرا ...

O نہیں ہے جب سے ترا التفات میرے لیے شکن شکن ہے جبینِ حیات میرے ...

O اِس جہاں سے کہ اُس جہاں سے آئی خاک میں روشنی کہاں سے آئی ...

O حرف میں مہک نہیں آنکھ میں سخن نہیں انجمن میں اب کہیں کیفِ انجمن ...

رہوں خموش تو جاں لب پہ آئی جاتی ہے جو کچھ کہوں تو قیامت اُٹھائی ...