اے زباں اپنے کہے کو بھی نہ اپنا فن سمجھ غیب سے سُن کر سناتی ...

O بھیگی بھیگی ابرِ غم کی اک ردا سی دل میں ہے آنکھ تک آتی ...

(2) دریائے زندگی کس قدر تنک آب ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے دوسرا کنارہ نظر ...

(1)   شاہنامۂ فردوسی سے میرا پہلا تعارف لڑکپن میں ہوا۔ میری عمر یہی کوئی ...

O عینِ دریا میں بھی تر ہو نہ سکے خوب ہیں ہم محفلوں محفلوں تنہا ...

O چادرِ ابر میں سورج کو چُھپانے کے لیے وہ پسِ پردہ بھی بیٹھے نظر ...

O لیا ہے خاک میں خود کو مِلا، مِلا نہیں کچھ یہ کارِ زیست عبث ...

O کُچھ اور تو ہم بے ہُنروں سے نہ بن آئی جب زخم لگا، زخم ...

O عافیت کہتی ہے پھر ایک ستمگر کو بلائیں ریگِ ساحل کی طرح اپنے سمندر ...

O نہ کر ستم کی شکایت، اگر زیادہ ہے تُجھی سے ربط بھی اے بے ...