تیرے چہرے کی تحریر میرے جذبوں کی تفسیر تیرے جسم کی یہ قندیل میرے تخیّل ...
“ارے منی دیکھنا ، لیاف لے آیا دھنیے سے رامو ……………….. بہت ٹھنڈ پڑنے والی ...
تجھ سا ترا خیال مرے ساتھ ساتھ تھا شہر شب وصال مرے ساتھ ساتھ تھا ...
ذہین عورت کی ہر نشانی جو مجھ میں دیکھی، مکر گیا وہ تھا ہار جانے ...
۔۔۔ آج شہر میونخ کی اک شاہراہ پر خلافِ توقع کبوتروں کو دیکھ کر میری ...
کوئی یقین کرے نا کرے یہی سچ ہے جو دل کے غار سے پھوٹی وہ ...
نہ تم تاروں کی چھاں مانگو اور نہ چاند پکارو سائیں نہ تم پھول کو ...
گزارنی تھی عارضی امان میں گزار دی یہ زندگی کرائے کے مکان میں گزار دی ...
شیکسپیئر کے حالاتِ زندگی بہت کم معلوم ہیں۔ تاہم اس بات پر عام طور پر ...
۔۔۔۔۔۔ آنکھیں چھت میں گڑی رہیں گی۔ اندھا کمرہ، تنہائی کے سلکی لمس میں کھع ...






