(نقش) نا جانے کیوں میرے ذہن سے آہستہ آہستہ تیرے نقش مٹنے لگے ہیں تیرے ...
O رات بھر آسماں پہ جاگتے ہیں مُجھ سے بیزار ثابت و سیّار روز رہتی ...
وہ جن ہاتھوں نےکھلونوں سے کھلنا تھاجس عمر میںجھولوں پہ جھولنا تھایہ کسی کی ستم ...
گھر کی اور گھر کی حفاظت میں کھڑی دیوار کے درمیاں میں ایک مکڑی کا ...
تم نے نہیں دیکھا کہ تمہاری بے التفاتی نے تکلفات کو جنم دے دیا تم ...
شام درِ وجود پہ دستک دیے جا رہی ہے دُھند کا مٹیالا جال وقت کا ...
گڈ بائی مسٹر چپس اب تو ایسے حفظ ہوچکا تھا۔ کچھ بچیاں اونگھ رہی تھیں ...
تمہیں سونگھنے کے لیے خوشبو کا مہنگا ہو جانا ضروری ہے دنیا کے سستے کولونز ...
جب وہ لہجہ خمار سے بھر جائے دل، نظر اعتبار سے بھر جائے کس کو ...
میں پیدائشی طور پر پرندہ صفت آوارہ تھی نہ جہانگردی میری گُھٹی میں شامل تھی ...





