(2) ایک مرتبہ کہیں باہر تشریف لے گئے چار پانچ ماہ میں واپس آئے۔ میں ...

اے زلفِ گہر بار رخِ یار سلامت اے آئینہ رو آئینہ رخسار سلامت افسردگیِ عاشقِ ...

وطن کی مٹی گواہ رہنا کہ میں نے تیرے کھیتوں میں خواب کاشت کیے تھے ...

معجز ِقلم، سحر ِرقم حسن رضا اقبالی ۲۰۱۲ء کی ایک سہانی شام جب ہوا کے ...

بُجھتی آنکھ کی لو کے پیچھے کانپتی دُنیا شاد رہے یہ خواب سی دُنیا خاک ...

دستک دوں جس پہ شہر میں وہ در کوئی نہیں پھرتا ہوں کوچہ کوچہ مرا ...

پرندے کی آنکھوں میں حیرت نہیں تھی، جزیرے پہ تنہا خدا تھا، کہ مَیں تھا، ...

ملازمو ! مزدورو ! کلرکو ! کاری گرو ! اپنی خدمات نیلام کرتے رہو ، ...

O جو دل میں گونجتی ہے بات وہ کہنے نہیں دیتی مگر دنیا مجھے خاموش ...