خواب کی لہروں نے دیکھا تھا کنارا شوق خود ہی بن گیا تھا اک ستارا ...

آئنہ دیکھتے رہنے سے بھلا کیا ہوگا عکس رخ اس کا تو آنکھوں سے جھلکتا ...

کہانی نامکمل ہے ہماری ابھی دریا میں ہلچل ہے ہماری سماعت میں بھرا ہے شور ...

پہلے ہوتا تھا ایک گھر اپنا نام ہے اب تو دربدر اپنا دل کی ہر ...

کہاں اپنا نشاں پاۓ گی دنیا نئی دلچسپیاں پاۓ گی دنیا یہ جس میں ہم ...

جب تمھاری یادوں کی روشنی اترتی ہے پھول کھلنے لگتے ہیں زندگی سنورتی ہے دھوپ ...

کس کس خبر کو خواب سے وہ جوڑ کر گیا ہے ہر موڑ پر ہی ...

چلتے چلتے آ نکلا ہے شہر میں لڑکا گاؤں کا دھوپ بہت دیکھی ہے اس ...

شام کہیں لہرائی جاگی آنکھوں میں تنہائی جاگی پھر چمکے موتی اندر کے دریا کی ...

ہو جاۓ کہاں اس کی شروعات کا کیا ہے دل ہو تو محبت میں مقامات ...