ویرانے میں آبادی کے نقش بناۓ یادوں نے دشت دل میں کیسے کیسے پھول کھلاۓ ...

اب عرش سے یہ خاک نشیں دور تو نہیں اے آسمان تجھ سے زمیں دور ...

کیا حسن تھا کہ جس کی فضا لے گئی مجھے کن وادیوں میں شب کی ...

آنکھوں میں ہجوم ہے تو کیا ہے سیلاب_ نجوم ہے تو کیا ہے بے علم ...

خوشی کے رنگ تو اس پار کیوں سمجھتا ہے یہ در ہے سامنے دیوار کیوں ...

کیسے جاتے غم سے آگے ہم اور تم سنگ تھے چشم_نم سے آگے ہم اور ...

کسے خبر کہ بگڑنا ہے یا سنورنا ہے کٹھن سہی ہمیں اس راہ سے گزرنا ...

آنکھوں سے اک خواب گزر کر جیسے دور بکھر جاتا ہے تیرے آنے کا موسم ...

پھول بھی تھا ہاتھ میں پتھر بھی تھا اک سفر اندر تھا اک باہر بھی ...

وہی سیر باغ دنیا وہی تیری خوش لباسی وہی آگ زندگی کی وہی میری بد ...