کہیں نہ کہیں ہمیں روز احساس دلایا جاتا ہے کہ تمہارا وجود موجود ھوتے ھوٸے ...

o وہ حسیں جو محوِ کلام ہے کوئی شعلہ رو سرِبام ہے میں چلا ہوں ...

اسی مُوسلادھار بارش میں دُھندلی شبیہیں، لبالب چھلکتی ہوئیں بلبلوں میں۔ یہی پل دو پل ...

میں پامال نہیں تھا مجھ کو رستے نے پامال کیا ہے جیون رین اندھیرا جنگل ...

-کشفی ملتانی کا مظفر گڑھ:- ۱۹۷۱ کا مہینہ ‘ستمبر کی چوبیس تاریخ—- مظفر گڑھ کالج ...

سیرت عشاق ہے ارباب صورت سے الگ ہے طریقہ ان کا ہفتاد و دو ملت ...

-میرا لاہورکہاں گیا؟: پنجابی کہاوت ہے”جنے لہورنئیں ویکھیا اوہ جمیاای نئیں”میں تولاہورمیں پیداہوا ہوں ہومگرآج ...

یہ زمانہ کیا ہے؟ شاید اک گزرگاہِ خیال جس پہ ہم جیسے کروڑوں سایے ہیں ...