ہوا تھم گئی چلتے چلتے شاخ ساکن ہوئی ہلتے ہلتے بھورے بادل ٹھر ہی گئے ...
اک بادشہِ حسن ہے اور عرش مکیں ہے اُس نُور کے پرتَو کی ضیا فرش ...
ادبی اصطلاح کے طور لفظ ’صنف‘ سے مراد ہے ،تحریر کی کوئی قسم۔ ...
O چادرِ ابر میں سورج کو چُھپانے کے لیے وہ پسِ پردہ بھی بیٹھے نظر ...
زینب اور دوسری ریپ ہونے والی بچیوں کے بارے میں لوگ کچھ بھی کہنے سے ...
پہلے پچکار کے دھیرے سے نکالی دنیا دل نہ مانا تو وہاں اور بسا لی ...
شفیع مشہدی کے ڈراموں کا مجموعہ’دوپہر کے بعد‘ ایک مدت ہوئی، یعنی ۱۹۸۲میں شائع ہوا ...
سرشاریاں بھی کھو گئیں اور بے خودی چلی گئی اس زندگی کا کیا کریں زندہ ...
O لیا ہے خاک میں خود کو مِلا، مِلا نہیں کچھ یہ کارِ زیست عبث ...
O کُچھ اور تو ہم بے ہُنروں سے نہ بن آئی جب زخم لگا، زخم ...




