تم نے خود اس دنیا کو اک گاؤں میں تبدیل کیا اب روزانہ اِس پر ...

اب کے ہمارے شہر میں شورِ نوا کچھ اور ہے سن تو رہے ہیں اور ...

نکل کے چاند ستاروں کے درمیان سے ہم نظر زمین سے آتے ہیں آسمان سے ...

جل کا کھٹکا بشر کو ضرور رہتا ہے شعور مرگ ہے اور بے شعور رہتا ...

ہر قدم سایۂ اشجار تھکا دیتا ہے راستہ جو نہ ہو دشوار تھکا دیتا ہے ...

ہو گئی خاموش لَو گل ہو گیا سب کا چراغ ہے مگر روشن ستونِ حرف ...

سنا ہے دل محبت میں بہت رسوائی سہتا ہے سنا ہے آنکھ روتی ہے تو ...

O بس اب یہی ہے کہ سب کچھ جلا کے رکھ دیا جائے پھر اِس ...

گری یہ اوس کہ بوسے جھڑے درختوں سے روا نہ تھا کہ صبا یوں لڑے ...

کہیں پہ دور افتادہ کسی چھوٹے سے قصبے کے بہت سنسان اسٹیشن پہ رک جانا ...