بَرسرِ باد ہوا اپنا ٹھِکانا سرِ راہ کام آیا مِرا آواز لگانا سرِ راہ یہ ...

O غمِ زمانہ سہو، جورِ مہرباں کی طرح یہ سُود وہ ہے کہ لگتا ہے ...

کیوں ہم کہیں کہ وقت کا مارا ہے لکھنؤ جیسا بھی ہے جناب، ہمارا ہے ...

(شعبہ اردو،لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی،لاہور کی استاد ڈاکٹر تقدیس زہرا سے ایک مکالمہ) تقدیس ...

بھولی بسری ایک کہانی سن رکھی ہے دل نے اک دیوار گریہ چن رکھی ہے ...

(۳) یہاں اتنا پشتیم کے مکالمے داستان پر لکھنے والے کی شعوری یا لا شعوری ...

وہ ڈھلکتی جوانی کی عورت اور ڈھلتی عمر کا مرد اس پر تعیش ایونٹ کے ...

70 کے دہے میں لکھنؤ کے سرپھرے نوجوانوں کی ایک ادبی انجمن ‘مجلس حملہ آوراں’ ...

(۲) ان کدو گل گامیش کے اس خیال سے پریشان تو ہوتا ہے لیکن شمس ...

میں نے ساحل سے کوئی سیپی اٹھائی دیر تک سنتا رہا گہرے سمندر کی صدا ...