ہمارے جسم بجھے چیتھڑوں کی صورت ہیں پروستے ہیں جنہیں چاندنی کے پھاہوں پر بِھگو ...
پھول بھی تھا ہاتھ میں پتھر بھی تھا اک سفر اندر تھا اک باہر بھی ...
O اِس بستی میں ہم کو بھی دو دن پتّھر ڈھونے ہیں قرض ہے کتنا ...
میں نے یہ چہرہ کب اور کہاں دیکھا ٹھہرا ہوا سیاہ پانی ٹوٹے ہوئے مکانات ...
(اسلام آباد لٹریچر فیسٹیول ۲۰۲۱کے اختتامی اجلاس میں کلیدی خطبے کے طور پر پڑھا گیا) ...
بولن سَوکھا ہاہ جَد توڑی جِبھ ناہی جَدوں تائیں سُنن دی رِیت ناہی پئی، سُنن ...
ہم جانتے ہیں کہ ہم جھوٹ جی رہے ہیں ہم جانتے ہیں کہ ہم قاتل ...
سُلگتے صحرا میں بُوند بَرسے تو معجزہ ہے لُہو برستا ہے اہلِ حُرمت کا بَخت ...
ترقی اور لوک ثقافت (۲۰۱۷ میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں پڑھا گیا ) یہ ...






