یہ کیسی دوئی ہے۔۔۔؟؟ برسوں سے میں اس گلی میں کھڑی ہوں میں یہاں مکیں ...

یاد نہیں آتا کہ شمیم حنفی سے میری پہلی ملاقات کب اور کہاں ہوئی تھی ...

ہم سب بیس برس بعد یک جا ہوئے ہیں اور وہ بھی واٹس ایپ گروپ ...

کون سے نُور کی زد پر ہے کہ شب کٹتی ہے تیری آمد کے قرینے ...

یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کسی کو اس سکول کا نام یاد نہ ہو ...

سارنگی روتی ہے آدھی رات کو دُور کہیں پر! بوسہ تنہا رہ جائے تو شعلہ ...

بے کسوں کے گُل یہاں چودہ طبق ہیں۔ جتنے بھی بدمست ہیں سب ہم ورق ...

O جانے کس کے کھوج میں پھرتا ہے بے کل آدمی آدمیّت سے گریزاں ہے ...