ملا نہ مجھ سے نہ پوچھا کسی سے حال کبھی گیا تو آیا نہ اس ...

یہ کس نے لا رکھے میرے سرہانے ڈھیر خوشبو کے؟ میں سمجھا کہ ابھی شاید ...

دُعا کی دَسَتکوں سے وَا نہ ہوں گے دَر ابھی اور لَبِ دَریا کَٹیں گے ...

جاناں ! میں آج کل لیبارٹری میں ایک کشتی بنا رہا ہوں ، جس میں ...

[4] (۷) ایک سو، چو مصرعی نظموں کے مجموعے میں، جواپنی کم و بیش معصومانہ ...

پھول بزمِ ناز میں پہنچے گلستاں چھوڑ کر ”کوئے جاناں کو چلے آہو بیاباں چھوڑ ...

نگہت کے آنکھ میں ستر سال سے رکا ہوا آنسو، آنکھ کے کونے سے بہہ ...

بہتے ہوے پانی میں دو پھُول خوش خط تحریر اور کمرے میں داخل ہوتی ہوئی ...