گاؤں میں ہر سال ہونے والی گندم کی کاشت نے مجھے سکھایا ہے نصیب کا ...
دنیا یہ پھیرا تو ایسے ہی رہا۔ سو میں کم دلچسپی لیتا ہوں۔ میری دلچسپی ...
تم میرا دل لے سکتی ہو جس میں دریا کی روانی ہے دریا، جس میں ...
اپریل کے دنوں میں اجنبی راستوں پہ یونہی کبھی چلتے چلتے چیری کے درختوں پر ...
وہ خواب جو کسی اور آنکھوں نے دیکھ رکھا ہو وہ منظر جہاں دو ہاتھ ...
جس کا ہو سراپا آپ محمود کیا شعر میں کیجے اس کو محدود گو پیشِ ...
اگر سچائی لکھنی ہے تو پھر سچائی ہی لکھو لکھو دِن ڈھل رہا ہے شاہراہوں ...
خداوندا! مرے تن میں رہے میرا لہو زندہ اگر میرا لہو زندہ تو میری جستجو ...
O جانے کس کے کھوج میں پھرتا ہے بے کل آدمی آدمیّت سے گریزاں ہے ...









