نظم

یہ تحریر 96 مرتبہ دیکھی گئی

ہم اس مشترکہ نیند سے کبھی نہیں جاگے
جس کے لیے ہم دونوں نے
یکساں مقدار میں خواب آور گولیاں کھائی تھیں
وہ فیصلے کا دن تھا
اور ہم اپنے پپوٹوں پر
بیداری کا پتھر ڈھوتے ڈھوتے تھک گئے تھے
اس گہری نیند میں جانے سے پہلے
ہم کیا کچھ نہیں کر لینا چاہتے تھے
مگر کچھ زیادہ نہیں کر پائے
اس دن بھی تمہیں رنج تھا
کہ تم نے ابھی پوری دنیا نہیں گھومی
اور میں بھی بہت سی کتابیں نہیں پڑھ سکا تھا
مہنگے کافی ہاؤس سے جاگنے والوں کا
وہ آخری کپ جو ہم نے پیا
اور وہ یادداشتیں جو ہم نے دہرائیں
کسی اور کو یہ معلوم بھی ہوتا
تو ہمیں مسکراتا دیکھ کر
اس خبر کو واہمہ سمجھتا
مگر ہم کسی سے کہہ ہی تو نہیں پائے

کچھ لوگ
آج بھی ہمیں نیند میں چلتا ہوا دیکھ کر
سمجھتے ہیں کہ ہم سے زیادہ بیدار
اس دنیا میں اور کوئی نہیں
اور ہم جیسا ہونے کی خواہش کرتے ہیں
مگر وہ نہیں جانتے
کہ سونے سے قبل جو شے
آپ کے تجربے، شعور یا لا شعور میں
موجود نہ ہو
اس کا خواب نہیں دیکھا جا سکتا۔۔۔