نابلد نظم

یہ تحریر 97 مرتبہ دیکھی گئی

تم نے نہیں دیکھا
کہ تمہاری بے التفاتی نے
تکلفات کو جنم دے دیا
تم نے نہیں سوچا
کہ تمہاری خاموشی نے
مجھے نظم در نظم عطا کی
تمہارے نابلد شکوٶں نے
آگ کو تپش اور
خام کو کندن کر دیا
تمہاری ہنسی نے
پھولوں کو دریا کا رستہ دیا
دریاٶں کے بند
زیادہ دیر رُکتے نہیں
(خشک پتیوں کی بات یہاں نہیں ہو رہی)

تمہارا التفات،
گناہ
اور بے رخُی، جہنم ہے
تمہاری محبت نے مجھے
التباس کے سُرخ کناروں سے تاک لیا ہے
اور اب اقرار کے جرمن شیفرڈز
تمہاری اداٶں کے جنگل میں
ملتفت ثبوت ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہانپ چُکے ہیں !