غزل

یہ تحریر 233 مرتبہ دیکھی گئی

O

ہم خاک کے ذرّوں کو بُھگتنی ہے سزا
سیلاب کی گر نہیں، بگولوں کی سہی

اپنا ہی سہی، ہاتھ گریباں میں تو ہے
زنجیر ہے زنجیر، اُصولوں کی سہی

حائل ہے وصال میں تب و تابِ جمال
دیوار ہے درمیان، پھولوں کی سہی

جو تیرہ سرشت ہیں اُنھیں کیا حاصل
ہر قوم میں روشنی رسولوں کی سہی

اِس تپتے ہوے دشتِ سفر میں خورشید
یہ چھاؤں غنیمت ہے ببولوں کی سہی