غزل

یہ تحریر 185 مرتبہ دیکھی گئی

کس نے مُجھے مُجھی سے ہم آواز کر دیا
لا کر سخن میں فاش مرا راز کر دیا

مجھ سے زمانہ برسرِپیکار تھا مگر
میں نے زمانے کو نظرانداز کر دیا

منزل پہ اب پہنچ بھی گئے تو کریں گے کیا
سارا لہو تو صرفِ تگ و تاز کر دیا

خورشید! آج میں نے اُسے پا کے روبرو
آنکھیں تو مُوند لیں، درِ دل باز کر دیا