غزل

یہ تحریر 513 مرتبہ دیکھی گئی

O

دل ہے تو دل کو ساتھ تمھارا بھی چاہیے
اِس انجمن کو انجمن آرا بھی چاہیے

ہاں ڈوبتے ہوؤں کی بڑھانے کو بیکسی
حدِّ نظر پہ کوئی کنارا بھی چاہیے

ہم زندہ اس لیے ہیں کہ ملتے نہیں ہو تم
مرنے کو کوئی جان سے پیارا بھی چاہیے

خونِ جگر جلا کے بھی ہوتی نہیں غزل
اِس میں کچھ اُس طرف کا اشارا بھی چاہیے