غزل

یہ تحریر 585 مرتبہ دیکھی گئی

ہمیشہ کسی امتحاں میں رہا
رہا بھی تو کیا اس جہاں میں رہا

نہ میں دور تک ساتھ اس کے گیا
نہ وہ دیر تک ہمرہاں میں رہا

وہ دریا پہ مجھ کو بلاتا رہا
مگر میں صفِ تشنگاں میں رہا

میں بجھنے لگا تو بہت دیر تک
اجالا چراغِ زیاں میں رہا

قفس یاد آیا پرندے کو پھر
بہت روز تک آشیاں میں رہا

رہی دیر تک موت سے گفتگو
میں جب حلقہ۶ رفتگاں میں رہا

نہ گل کوئی دل کے شجر پر کھِلا
نہ کوئی ثمر شاخِ جاں میں رہا

یہ خانہ ہمیشہ سے ویران ہے
کہاں کوئی دل کے مکاں میں رہا