تیزاب کی کاشت

یہ تحریر 217 مرتبہ دیکھی گئی

آج کچھ گھڑیاں فرصت کی ملیں ، تو شیخو کی منسراج سے محبت کی یاد گار ہرن مینار کے اندر واقع اپنے دلپسند کوچے میں جا نکلی ۔ جھروکوں سے آتی خوشگوار ہوائیں صدیوں پرانے راز گنگناتی، انوکھے راگ چھیڑتی ادھر سے ادھر اڑی پھررہی تھیں ۔ سبزہ آنکھوں کو ٹھنڈک بخش رہا تھا اور جیسے روح پر لدے ان دیکھے بوجھ تالاب کے پرانے پانیوں میں ڈوبتے جارہے تھے ۔


ڈھلتی شام ، پرندوں کی ڈاریں سورج کے روپہلے رنگ اور پانی کی مہک سے لبریز ہوا ۔میں ایک دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئ وقت جیسے ٹھہر سا گیا ۔
پھر جیسے کسی نے گہری نیند سے جھنجھوڑ کر جگادیا ۔۔
کوئ مہین سی آواز میں کہہ رہا تھا
” میں مہاجر ہوں ”
ایک سرگوشی ہوا کے دوش پر سنی
“میں بھی بہت دور سےآئ ہوں ”
پھر ایک اور مدھم آواز کان میں آئ
” پتہ نہیں اور کتنی دور پناہ ملے گی یہاں جگہ بہت کم ہے ”
میں چونکی یہ کون لوگ ہیں ۔ کہاں سے ہجرت کی کن دیسوں سے آئے اور کہاں کو جاتے ہیں ۔ سرسراہٹ سی سنائ دی ۔ کئ رنگین تتلیاں تھیں ، کچھ پیلے کالے رنگوں کی شہد کی مکھیاں تھیں بھنورے ، جگنو اور پروانے تھے ۔ چند محنتی چیونٹیاں ،طویل مسافت کے صدموں سے نڈھال بلبلیں ، شکر خورے ، فاختائیں ، قمریاں تھیں ہد ہد ، کالی کوئلیں بھی تھیں کچھ اداس الو تھے ۔ ایک تھکاماندہ عقاب ، کچھ مور اور توتے ۔ میں چونکی یہ لٹا پٹا قافلہ کہاں سے آگیا ۔ ہجرتوں کے موسم تو کب کے گذر گئے اب تو بہاروں کی چاپ کے سننے کے دن ہیں۔
شاید میں بھی انہی کے قالب میں ڈھل گئ تھی ، رنگین چڑیا بن گئ تھی . تھکی تھکی ایک مینا بار بار تالاب کے پانی سے چند قطرے پیتی اور پھر خود پر ڈالتی ، کبھی آسمان کی طرف دیکھتی میں نے پوچھا
” کیا ہوا ”
سسکی لے کر بولی
“میری پیاس نہیں بجھتی کب سے پانی نہیں پیا
وہاں ہرطرف زہریلا پانی تھا
اندھی ڈالفن مرگئ “
میں تڑپ کر رہ گئ وہ ڈالفن سندھ کے زندگی بخش پانیوں میں اٹھکھیلیاں کرتی پھرتی تھی
“کب کیسے ہوا یہ ” میں نے پوچھا
مینا کرلائ
“داہنے کنارے کسی مل کا فضلہ آرہا تھا وہ وہاں پھنس گئ زخم زخم کردیا تیزابی پانی نے ۔پیاس تو نہ بجھی ہماری ، میرے کتنے ہی ساتھی اس زہر کو نہ سہہ سکے وہیں تڑپ تڑپ کر مرگےء ۔ سب پانی زہریلے کردئے ظالموں نے ۔ “
مسافتوں کا مارا ایک بگلا بولا
” میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل منچھر زہر کا پیالہ بن چکی ،کلری جھیل آلودہ ہوگئ ، ہنا جھیل کب کی سوکھ گئ ، دریاؤں اور سمندر کے ساحل کچرے اور صنعتی فضلے کے کوڑے گھر بن گےہیں ، دریا دلدلوں کی شکل اختیار کرگئے ہیں ۔ جہاں پانی ہے وہاں گندے نالوں کی غلاظت کی بھر مار ۔
اب تو ادھر پردیسی پرندے بھی نہی آتے ۔ “
کتنی دیر خاموشی میں گذر گئ ہم سب چپ رہ کر گلابی اندھی ڈالفن کا ماتم کررہے تھے ۔
فاختہ کو کندھا چاہئے تھا آنسو بہانے کو ، اس کے پر ملگجے تھے اور گیت گلے میں گھٹ گئے تھے
وہ کسی وسیع آنگن میں آگے پرانے پیڑ کی باسی تھی کئ نسلوں سے ۔ اس گھر کے بڑے چل بسے اور بچے دور روشنیوں کے شہروں میں جابسے ۔ آنگن میں اگے پیڑ اور ان پر بنے گھونسلے سب شاپنگ پلازہ کھا گیا ۔ درخت تو وہیں کسی میز ، کرسی دروازے یا چوکھٹ میں ڈھل گئے اور پکھیرو بے گھر بے وطن ہوگئے ۔
اس کے ساتھ بیٹھی محنتی چیونٹی تھک چکی تھی رونکھی ہوکر بولی
” پہلے ہمارے لیے آٹارکھتے تھے کونوں میں گھر کے اور اب زہر مار پاوڈر “
ہد ہد کے پر نچے تھے عقاب کی کھا ل دکھائ دیتی تھی ۔ مور رقص بھول گےء تھے ۔ رندھے گلوں سے آواز بھی نہ نکلتی تھی ۔ سرگوشی سی تھی بس نیل کنٹھ کی
” فضا ئیں زہر سے بھرد یں ۔ زہریلے سپرے ، بیج پر زہر ، پانی میں زہر ,
تتلیاں ، بھنورے جگنو تو ختم ہی ہوگےء اور وہ بہت بڑے پروں والے تیز چونچ والے گدھ وہ سب تو مرگےء “
سوگ طاری تھا سب چپ تھے
پہاڑی مینا بولی ہولے سے
” تم لوگوں کو پتہ ہے درخت کاٹ کر پہاڑوں سے وہاں شہر آباد کررہا ہے ہوٹل ہی ہوٹل مکان ہی مکان ہر طرف اور گھٹن ہی گھٹن “
ایک فاقہ زدہ مورنی حسرت سے بولی
” اگر ان میں سے ہر ایک ہر سال ایک پودا لگاتاتو سوچو کتنے درخت ہوتے کتنے چین سے رہتے ہم سب ”
میں سب سنتی گئ اور شرمندگی کے عمیق غاروں میں ڈوبتی گئ ۔
ہاں اگر ہم انسان کیک کاٹنے کے ساتھ ہر سالگرہ پر ایک بیج بوتے تو کیسا نخلستان ہوتا چہار طرف ۔
” بادل بھی دور سے رستہ بدل جاتے ہیں اس پتھر دل انسان کی پتھریلی بستیوں پر مینہہ بھی نہی برساتے ۔ وہ بھی وہیں جاتے ہیں نا جہاں سبزہ ہو پودے ہوں ۔ پھلواری ہو ۔ ”
بوڑھا الو گیان کہہ گیا تھا
” اور کوڑا ، ہر طرف کوڑے کے ڈھیر خود غرض انسان زمین سے صرف لے رہا ہے سب کچھ ۔ ”
کوئل بولی
” اگر یہ اپنے ہی کھاےء ہوےء پھلوں کے بیج لگادے خالی زمینوں پر سڑکوں کھیتوں اور ندی نالوں کے کناروں پر تو وہ بیج خودہی نمو پاجائیں لیکن ظالم پلاسٹک کے شاپر وں میں باندھ کر کوڑوں میں پھیک دیتا ہے ”
ایک قمری نے دہائ دی
” شاپر ہی شاپر ہر جگہ ہیں ۔ آج ہم مر رہے ہیں دیکھنا یہ شاپر ایک دن اس بد فطرت کی نسل کے لیےء کیسی مصیبت بنے گا کیسی خطرناک گیسیں نکلتی ہیں جب یہ شاپر جلتے ہیں مٹی اور فضا سب آلودہ ”
بلبل دکھیاری بولی
” لیکن ہم تو مر جائیں گے نا تب تک اس ظالم بے حس کی دردناک موت نہی دیکھ سکیں گے ۔ ”
تتلی نے آہ بھری
” ہاں ایک دن ترسے گا یہ ناقدرا میٹھے پانی کو صاف ہوا کو تم دیکھنا ”
گیانی الو بولا
” بس جلد ہی وہ وقت آجاےء گا جب سورج بے آب وگیاہ زمین پر قہر برساےء گا ۔ یہ جو آج دنیا کا حاکم بنا بیٹھا ہے یہ پچھتاےء گا ! دیکھنا ! بوند بوند پانی کو ترسے گا !
مالک کائنات نے تو اسے اشرف المخلوقات بنایا تھا دھرتی پر اوتار تھا یہ لیکن یہ کتنا کوتاہ بین ہے سب سے نیچ مخلوق ۔ ہمارے ساتھ اپنی نسلوں سے بھی دشمنی کررہا ہے ۔ یہ احمق ! بڑا انسان بنا پھرتا ہے ”
میں لرز گئ اس بھیانک تصور سے ہی جب دنیا بنجر ہوجاےء گی اور تپتے صحرا ہونگے ہر طرف درختوں کے ساےء سے محروم ۔
” نہیں ہم اتنے برے نہی نہ ہی ایسے ظالم ہیں – – – ”
میں اچانک بول اٹھی کب تک سنتی فرد جرم اپنی جاتی کی ۔ وہ سب چونک گےء پھر خاموش انتقامی نظروں سے مجھے دیکھنے لگے ۔ میں سہم کر دیوار کے ساتھ اور سرک گئ ۔ سب سے پہلے ایک تیز زہریلی سوئ کی چبھن محسوس ہوئ ، شہد کی مکھی تھی ۔ پھر تو سبھی اپنے نوکیلے ناخن اور چونچیں لے کر مجھ پر حملہ آور ہوگےء ۔ میرا سانس گھٹ رہا تھا جسم سے گوشت ادھڑ رہا تھا جیسے تیزاب ڈال دیا ہو ۔ آنکھیں زہر یلے دھوئیں سے اندھی ، حتی کہ بال تک ہوا کی زہرناکی سے جھڑنے لگے ۔ دم گھٹنے اور جلنے کی اذیت ، بس اذیت ہی اذیت تھی ۔ پھر جیسےروح درد سہنے میں جسم کا ساتھ نبھا نہ سکی میں بادلوں میں تیر رہی تھی ۔ نہیں یہ میری روح تھی جبکہ نچا کھسٹا جسم تو وہیں دیوار کے ساتھ ٹکا ہوا تھا ۔ لیکن ان کی بدلے کی آگ نہ بجھی تھی ابھی تک وہ سب مجھے بھنبھوڑ رہے تھے ۔
پھر میں دور نکل آئ بادلوں کے ساتھ اڑتی ۔وہ کہاں برستے درخت تھے نہ سبزہ بس عمارات کے جنگل اگے تھے دھواں نما بد بودار دھند تھی ۔ چٹیل میدان تھے اور لاشیں تھیں ۔ کہیں چولستان میں موروں کی کہیں مچھلیوں کی زہریلے پانیوں میں ڈوبی ، پرندوں کے گھونسلے اجڑ چکے تھے ، جگنو تتلی محنتی مکھیاں کہیں نہیں تھیں ۔ ہر طرف ہواوں میں زہریلی دواءں کی بو تھی ۔ نہ گھاس کے ہرے بھرے میدان تھے نہ بلندوبالا درخت نہ ان کی بلند ترین چوٹیوں پر شاہینوں کے بسیرے نہ ہی درختوں کے تنوں میں توتوں کے گھر ۔
آہ
پھر بادل کے ساتھ پرواز کرتی پہاڑوں سے گزری درختوں کے کٹے ہوےء تنے تھے ،آرا مشینیں چل رہی تھیں ۔عمارتیں ہی عمارتیں۔ مشینوں کی دھواں اگلتی چمنیاں جوریت سیمنٹ بنا رہی تھیں جنگلوں میں آبادیاں بنانے کے لیےء ۔ مگر ان بد ذاتوں نے یہاں کے باسیوں کو دیس نکالا دے دیا تھا ۔
وہ سب مظلوم اور سچے تھے جو کچھ انہوں نے میرے ساتھ کیا وہ حق پر تھے ان کی بستیوں پر قابض انسان دھرتی کو خود غرضی سے اجاڑ رہاتھا جابجا غلاظت کے ڈھیر لگا رہا تھا ۔
کیا ہوگا اس مٹی کا ہم سب کو جیون دینے والی ماں کا ۔ میں دکھ سے سوچ رہی تھی ۔
پھر جیسے کوئ زوردار آواز آئ دل دہلادینے والی گونج جس نے مجھے بادلوں سے زمین پر لاپٹخا ۔
میں وہیں منسراج کی یادگار پر صدیوں پرانی دیوار سے ٹیک لگاےء بیٹھی تھی یہ کیسا خواب تھا جو میری روح کو جھنجھوڑ گیا تھا ۔ سورج زردی بکھیرتا ڈوبنے کو تھا اور وہ سب معصوم ، مظلوم ، مہاجر ادھر ادھر سرجھکاےء بیٹھے تھے ۔
میرے ہاتھ پاوءں آنکھیں سب سلامت تھیں۔
میں سوچنے لگی کہ یہ چرند پرند جنہیں ہم بلا امتیاز جانوروں میں شمار کرتے ہیں کبھی اپنے گھونسلوں اور ٹھکانوں کو برباد نہیں کرتے اور ایک ہم ہیں کہ اشرف المخلوقات ہونے پر اتراتے بھی ہیں اور اپنے ہی گھر یعنی اس دھرتی ماتا پر تیزاب کی کاشت سے باز بھی نہی آتے ۔ خدایا ہم نے ان پرندوں اور جانوروں سے بہت کچھ سیکھا لیکن اپنے گھر کو سنبھالنا اور محفوظ رکھنا کب سیکھیں گے ۔