کہیں ستارے کو رات کم ہے

یہ تحریر 1068 مرتبہ دیکھی گئی

جسم شکستوں سے چُور، تخیل کیفیت سے معمور۔ ہمارے عہد میں غزل کو اپنا شعار بنانے والوں میں اکبر معصوم کے کمال کو سراہنا ہماری مجبوری ہے۔ مجبوری اس لیے کہ اس کے کلام سے، پڑھنے کے بعد، ہم پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔ اس کے شعر ہمارے ذہن میں اٹک جاتے ہیں۔ وہ کبھی روشنی سے روشن تر ہونے لگتے ہیں۔ کبھی یہ لگتا ہے کہ جھلملا کر بجھنے ہی والے ہیں۔ یہ دونوں کیفیتیں، اندھیرے سے روشنی کی طرف اور روشنی سے اندھیرے کی طرف سفر، ہمارے جینے یا جیے جانے کی کوشش کی عکاسی کرتی ہیں۔
اکبر معصوم نے ایسی زندگی نہیں گزاری جس میں رجائیت یا طمانیت کی گنجائش ہو۔ وہ ایک لاعلاج مرض میں مبتلا رہا۔ جتنی تکلیف اٹھائی اس میں تو بالعموم لوگوں کے ہوش و حواس بجا نہیں رہتے۔ شعر کہنے کے لیے جو ذہنی استحکام درکار ہے وہ انھیں نصیب نہیں ہوتا۔ لیکن اکبر معصوم کی ذات میں جو تخلیقی جوہر پنہاں تھا جاں گسل مرض اسے چھونے بھی نہ پایا۔ اس کی اردو شاعری کے دو مجموعے موجود ہیں۔ چند ایک غزلیں ایسی ہیں جو بعد میں کہی گئیں۔ ایک مجموعہ پنجابی غزلوں کا بھی ہے جو چھپا تو سہی مگر کوشش کے باوجود دستیاب نہ ہوا تھا۔ وہ بھی اس کلیات میں شامل ہے۔ کلیات کو انعام ندیم اور کاشف حسین غائر نے مرتب کیا ہے۔ یوں کہیے کہ دوستی کا حق ادا کر دیا ہے۔ یہاں دوستی کے علاوہ شعر شناسی کا ذکر بھی آنا چاہیے علاوہ ازیں کلیات میں احمد جاوید اور عباس عالم کے مضامین شامل ہیں۔ احمد جاوید نے حسبِ معمول اکبر معصوم کے کلام کا اپنے مخصوص فلسفیانہ انداز میں جائزہ لیا ہے۔ احمد جاوید خود بھی اچھی غزل کہتے ہیں۔ اس لیے اکبر معصوم کی انفرادیت کو اجاگر کرنے میں کامیاب ہیں۔ عباس عالم نے مختلف انداز میں اکبر کو سراہا ہے۔ غزل کو کسی غیر مربوط ڈرامے کی طرح پڑھنے پر توجہ دلا کر (کہ مکالمہ تو اس کی جان ہے، خواہ خود کلامی ہو یا کسی سے مخاطبت) شرح کی ایک نئی جہت کو سامنے لایا گیا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ اکبر کے کلام میں عاشق اور ناصح یک جان ہو گئے ہیں ندررت سے خالی نہیں۔ شمیم حنفی کی رائے بھی قابل ذکر ہے۔ لکھتے ہیں کہ “اظہار و بیان کی آہستہ روی اور سادگی سے پیدا ہونے والے مدھم راگوں سے مرتب ہونے والی کیفیت میں کشش بہت ہے ۔۔۔۔ مجموعی طور پر وہ صرف ایک مانوس اور جانے پہچانے تجربوں سے بھری ہوئی دنیا کے شاعر نہیں ہیں۔ وہ ہمیں ایک جہانِ نامعلوم کا راستہ بھی دکھاتے ہیں۔”
اکبر معصوم کی شعری صلاحیت اس کے اندرون سے اس طرح ابھری ہے جیسے باطنی تطہیر یا شفایابی کا انداز ہو۔ وہ بار بار اصرار سے یہ کہتا ہے کہ میں ظاہری طور پر خستہ و شکستہ اور ناکام سہی لیکن ہتھیار ڈالنے والوں میں سے نہیں۔ دیکھو میں کیا کہتا ہوں اور کس جان داری سے کہتا ہوں۔ مجھ میں کوئی شے زندہ ہے اور زندہ رہے گی۔ اس لیے ہم اسے یاد کرتے ہیں اور یاد کرتے رہیں گے۔
ان غزلوں میں روایتی مضامین تو بے شک ہیں لیکن ان کے سیاق و سباق پر نئے زمانے کا سایہ بھی ہے۔ یہ نمائشی طور پر جدید نہیں، کھرے پن اور نئے پن سے مالامال ہیں۔ نئے دور کے تقاضے اور ہیں اور بعض دفعہ بہت سفاک بھی۔ ہمارے سامنے ایک سراب ہے جس پر کبھی اصل کا اور کبھی فریب کا گمان ہوتا ہے اور خود شاعری کا فن بھی اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے کشمکش سے دوچار ہے۔ ہم غلط سمت میں جا رہے ہیں۔ یا تباہ ہو جائیں گے یا ٹھوکر کھا کر سنبھلیں گے۔ کچھ معلوم نہیں۔ اس نقطہء نظر سے دیکھا جائے تو اکر معصوم کا یہ شعر ایسی ہول ناکی کا حامل ہے جس کی تاب لانا مشکل ہے:
خوب ہے یہ تری دنیا بھی مگر میرے لیے
اب یہ اک لفظ ہے جس کا کوئی مفہوم نہیں
یا یہ شعر ملاحظہ ہو جس میں دنیا گویا تلپٹ ہو کر رہ گئی ہے:
آنکھ لگتے ہی وہی دھوپ نکل آتی ہے
رات کو سایہ اشجار کہاں سے لاؤں
ایک پہلو یہاں عجیب ہے۔ پہلے مجموعے “اور کہاں تک جانا ہے” میں کہیں بھی اپنا تخلص استعمال نہیں کیا۔ دوسرے مجموعے “بے ساختہ” اور پنجابی غزلوں میں تخلص کا مسلسل التزام ہے۔ اس فرق کی کیا وجہ ہے، یہ میری سمجھ میں نہ آ سکا۔ اتنا ظاہر ہے کہ تخلص سے کام لینے یا نہ لینے میں ارادہ شامل ہے۔
اکبر معصوم کے کلام پر احمد جاوید اور عباس عالم نے اتنا کچھ کہہ دیا ہے اور میں بھی ایک انگریزی کالم میں اظہارِ خیال کر چکا ہوں کہ سردست کوئی نئی بات نہیں سوجھتی۔ ہم اکبر معصوم کے شکرگزار ہیں کہ خوف اور مایوسی کی فضا میں، جو ہم سب پر مسلط ہو چکی ہے، وہ دکھا گیا ہے کہ شاعری میں، بالخصوص غزل میں ابھی جان باقی ہے۔
گلِ معانی (کلیاتِ اکبر معصوم)
مرتبین؛ انعام ندیم اور کاشف حسین غائر
ناشر: رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی
صفحات: 352؛ پندرہ سو روپیے