کردار کا کردار……راکھ کا زاہد کالیا

یہ تحریر 319 مرتبہ دیکھی گئی

”راکھ“ مستنصر حسین تارڑ کی ایک اہم تخلیق ہے۔ یہ ناول پچاس، ساٹھ اور ستر کی دہائیوں کی معاشرتی اور سیاسی تاریخ ہونے کے علاوہ ایک تہذیبی ورثہ بھی ہے۔ اِس کی قرات کے دوران میں قاری اُس لاہور کو دیکھتا ہے جس کے ساتھ وہ آج شناسائی کھو چکا ہے۔ ناول کی کہانی کھولنے کے لیے اہم اور غیر اہم کرداروں کا ایک مرقع ہے۔ کردار کہانی میں جسم کے بازو اور ٹانگوں کی طرح ہوتے ہیں جو وقوعوں اور حالات کو حرکت میں رکھتے ہیں۔ تفصیلی مطالعہ تین کرداروں کو ایسے طور سامنے لاتا ہے کہ وہ کہانی کی مجموعی اثر پذیری اور اُس کے ادبی مقام کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

دراصل نتیجہ خیزی ایک کردار کے مقام کا تعین کرتی ہے۔ کردار کہانی کے اندر جسمانی موجودگی کے بجائے اپنی عملیت سے واقعات و حالات پر اثر انداز ہو، کہانی کی روانی کو بڑھاوا دینے کے بجائے اُس پر اپنا نقش ثبت کرے۔ ”آگ کا دریا“ میں گوتم نیلمبر کی غیر عملیت اُسے ایک بے جان سا کردار بنا دیتی ہے۔ کہانی میں وہ اُس لکڑی کی طرح ہے جو لہروں کے رحم و کرم پر ہوتی ہے۔ اِسی طرح یوسا کے ناول “The War of the End of the World” میں بیرن ڈی کنیا بروا اپنے تمام تر ذرائع کے باوجود مذہبی جنونیت کی نہ تو تائید کر سکتا ہے اور نہ مخالفت، یہاں تک کہ جنونی اُس کی جاگیر کو نذر آتش کر دیتے ہیں اور وہ مایوسی دور کرنے کے لیے یورپ کے تفریحی دورے پر چلا جاتا ہے۔ ”راکھ“ میں مشاہد علی مرکزی کردار ہے لیکن اُس کی غیر عملیت اُسے کسی حد تک بے جان بنا دیتی ہے۔ وہ موم کی طرح ہے جسے مستنصر حسین تارڑ جو شکل چاہے دے دیتا ہے۔ دوسرا اہم کردار فاطمہ کا ہے۔ فاطمہ ایک مختصر دور انیے کے لیے ناول میں اپنی وجودی حاضری دیتی ہے۔ وہ اپنا مذہب تبدیل کر کے ہندو کے ساتھ شادی کر لیتی ہے۔ شادی کے جلد بعد اُس کی بینائی جاتی رہتی ہے اور اُس کا خاوند اِس کوشش میں رہتا ہے کہ وہ فاطمہ کی آنکھیں بن جائے۔ اِس عمل میں وہ بوتل کی گہرائی میں ایسے ڈوبتا ہے کہ باہر نہیں نکل سکتا۔ فاطمہ کے دونوں بیٹے بابری مسجد گرانے والے بنیاد پرست ہندوؤں میں شامل ہیں کیوں کہ اُنھوں نے ثابت کرنا ہوتا ہے کہ اُن کی ماں کے پرانے مذہب کا اُن پر کوئی اثر نہیں۔ فاطمہ، شکست خوردہ لیکن زندگی کی تمنائی، اپنے باپ کے ساتھ خیموں میں صحرائی زندگی گزارنے کے بجائے انگلستان جا کر اپنی ایک جاننے والی کے ہمراہ بوڑھے لوگوں کے ساتھ زندگی گزارنے لگتی ہے۔ فاطمہ اندھی ہے اور جذبوں کو اندھے پن کی آنکھ سے محسوس کرتی ہے۔ اُس کے اندر کسی گہرائی میں مشاہد علی کے لیے محبت کی ایک دبی ہوئی چنگاری ہے جو بجھی نہیں اور فاطمہ اُسے ہوا دینے کے لیے لاہور آتی ہے۔ فاطمہ کے فیصلے مستنصر حسین تارڑ نہیں وہ خود کرتی ہے۔

  ”راکھ“ کا تیسر ااہم کردار زاہد کالیا ہے۔ کالیے کا باپ بائیسکل پر پھیری لگا کر برتن بیچا کرتا تھا۔ بائیسکلوں پر متحرک بازار پچاس کی دہائی کا حصہ ہوا کرتے تھے۔ فکشن کا کمال یہ ہے کہ اِس میں کچھ باتیں ان کہی چھوڑ دی جاتی ہیں۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کی بیٹی ہندوستان جاتے ہوئے رو رہی تھی۔ نئے ملک میں باپ کے بغیر اُس کی زندگی؟ کیا وہ زندہ رہی یا راستے میں ہی ماری گئی؟ اُس کی شادی شدہ زندگی ہرپاگل باپ کے اثرات پہ کہانی کا وہ حصہ ہے جسے پیش نہیں کیا گیا اور ایسا سلسلہ جو کبھی ختم نہیں ہو گا۔ زاہد کالیے کو، جب وہ پھیری لگا کر برتن بیچا کرتا تھا، ایک دیسی میم نے اینٹیک نما کچھ برتنوں کا تقاضا کیا۔ اگر وہ دیسی میم اُس سے اُن برتنوں کی مانگ نہ کرتی تو کیا ہوتا؟ کالیا بائیسکل پر پھیری لگا کر برتن بیچتے بیچتے زیادہ سے زیادہ اپنے لیے کوئی چھوٹی سی دُکان کھول لیتا لیکن ایسے ہوا نہیں۔ وہ و قت کالیے کے شعور سے خود شعوری کی طرف کے سفر کا آغاز تھا۔ اُس کے سامنے مستقبل کا ایک خاکہ بن گیا جس میں اُس نے فوراً رنگ بھرلیے۔ اُسے اینٹیک ہی زندگی محسوس ہوئے اور وہ اُن کے پیچھے چل پڑا۔

   زاہد کالیا اَن پڑھ تھا۔ مشاہد علی کے ساتھ اُس کے یارانے کی بنیاد پرائمری سکول تھا جہاں دونوں کچھ عرصہ اکٹھے پڑھے اور پھر کالیے نے باپ کے ساتھ پھیری لگانا شروع کر دی۔ پیشہ ور افراد کے لیے اپنے پیشے کے عملی اور نظری پہلوؤں کا جاننا بہت ضروری ہوتا ہے۔ زاہد کالیا اینٹیک کولیکٹر بن گیا۔ ایٹیکس کا تعلق ماضی کے ساتھ ہوتا ہے اور ہر ماضی کی اپنی تاریخ ہوتی ہے۔ اچھے کولیکٹر کے لیے تاریخ دان ہونا لازمی ہے، اَن پڑھ کالیا ایک تاریخ دان تھا۔وہ ہر اینٹیک کو دیکھ کر، اُسے تاریخی منظر نامے میں رکھتے ہوئے، اُس دور کے فن کاروں کے فنی رویوں کی روشنی میں اُس کی معتبری کو جان جاتا۔ زاہد کالیا جیسے آدمی کا، جو اینٹیک کولیکٹر اور سمگلر ہے، کوئی نظریہ نہیں ہوتا۔ اُس کا ایک ہی نظریہ ہوتا ہے اور وہ ہے دولت اکٹھی کرنا۔ زاہد کالیا کو ایک دفعہ سمگلنگ کے الزام میں سزا ہوئی۔ اُس نے کمشنر کسٹم کو پیشگی ادائی کردی تھی لیکن پھر بھی اُسے مجرم بنا دیا گیا۔ سزا کاٹنے کے بعد کالیا کمشنر سے، جسے ایک بھاری رقم ادا کر دی گئی تھی، بدلہ لینے کا نہیں سوچتا، وہ اِس مسئلے کو یومِ حساب پر چھوڑ دیتا ہے۔ وہ امیر آدمی ہے، دنیا پھرا ہوا ہے لیکن اُس کے اندر پھیری والا ابھی زندہ تھا۔ وہ اپنے ساتھ ہوئی زیادتی کا بدلہ تعلقات کی وسعت کے ذریعے لے سکتا تھا، وہ اپنے کاروباری رویوں میں سفاک اور بے رحم ہے، پھر بھی وہ اپنے ساتھ کی گئی زیادتی کا حساب خدا پر چھوڑ دیتا ہے۔ جہاں زاہد کالیا خود شعوری سے خارج کی جانب بڑھ کر ایک کولیکٹر اور سمگلر بن جاتا ہے، اپنے معاملات کو یومِ حساب پر چھوڑ دینا خارج سے باطن کی طرف سفر ہے۔ ذہن کے کسی کونے میں چھپی غربت اور مذہبی توہمات ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ کمشنر کے ساتھ اپنے معاملات خدا پر چھوڑ دینے کے علاوہ زاہدکالیا ایک سیکولر آدمی ہے۔ بلیک لیبل وہسکی اور ہر طرح کی عورت اُس کی کمزوری ہے لیکن وہ اپنے قریب ترین دوست ڈاکٹر ارشد کو قادیانی ہونے کا طعنہ دینے سے باز نہیں آتا۔ گو ایسے طعنے ایک مذاق یا معصومیت میں کہی گئی بات کا درجہ رکھتے ہیں لیکن اُن کے پیچھے تعصب کی سیاہ رات چھپی ہوتی ہے۔ ایسی باتیں انسان اُسی وقت کہتا ہے جب وہ اپنے کسی تعصب سے خائف ہو۔ زاہد کالیا جب نشے میں دھت ہوتا تو شراب کی طاقت کے بل ہوتے پر وہ ڈاکٹر ارشد کو قادیانی ہونے کا طعنہ دیتا۔

     انسان اچھائی اور برائی کا مجموعہ ہے۔ اُس کے اندر برائی اپنی پیدا کردہ ہوتی ہے۔ اس برائی میں شعور سے خود شعوری کا سفر شامل ہے۔ وہ بُرا اِس لیے ہے کہ اُسے یہ اچھا ہونے سے سہل لگتا ہے۔ اگر بُرا ہونا مشکل ہوتا تو دنیا میں صرف اچھائی ہوتی اور چارلس ڈکنز اے ٹیل آف ٹوسٹیز کبھی نہ لکھتا۔ بائیسکل پر پھیری لگا کر برتن بیچنا مشکل کام تھا اور زاہد کالیا اینٹکیس کے وجود سے بھی بے خبر تھالیکن دیسی میم کے اشارے نے اُسے ملک کے امیر لوگوں کی صف میں کھڑا کر دیا۔ وہ اپنی دولت کو مزید دولت اکٹھی کرنے کے لیے استعمال کرتا، اُس کے لیے دولت ایک منزل نہیں ذریعہ تھی۔ وہ اپنے دوستوں کے لیے شاہ خرچی سے مجرا کرا رہا ہوتا لیکن وہاں اکثریت ایسے مہمانوں کی ہوتی جن سے اُس نے مراعات حاصل کرنا ہوتیں۔ وہ سوات میں اپنے دوست ڈاکٹر ارشد سے ملنے جاتا تو اُسے جانکاری ہوتی کہ کون سا مقامی کولیکٹر کیا کچھ چھپائے بیٹھا ہے،وہ اُن لوگوں کے ساتھ سودے کرنے چلا جاتا۔ یہ سب ایک طرح سے خود عرضی ہے۔ زاہد کالیا خود غرض تھا اِسی لیے وہ ایک کامیاب کولیکٹر اور سمگلر تھا۔ مستنصر حسین تارڑ نے اپنے بیانیہ عمل میں زاہد کالیا کو ایک کھلنڈرا اور لااُبالی سا شخص دکھایا ہے اور اُس کا خود غرض ہونا دراصل اُس کے رویوں میں چھپا ہوا ہے۔ مصنف نے کچھ کہے بغیر بہت کچھ کہہ دیا ہے۔

”راکھ“ میں زاہد کالیا کہانی کے بہاؤ کو بڑھاوا نہیں دیتا۔ مستنصر حسین تارڑ نے یہ کام مشاہد علی کے سپرد کر رکھا ہے۔ زاہد کالیا جو کہتا ہے عموماً اُس کے اُلٹ کرتا ہے اور یہ تضاد اُس کی عملیت کی وجہ بھی ہے۔

رومانوی تحریک کے دور میں وطن سے محبت ایک اہم جذبہ تھا۔ صنعتی انقلاب نے وطن پرستی کی اہمیت کو کم کر کے انسان کو مشین اور زر کے حوالے کر دیا یا مشین اور زر انسان پر اِس طرح حاوی ہو گئے کہ وطن پرستی اہم نہ رہی۔ ایسی کیفیت میں پرانی اقدار کا ٹوٹنا اور نئی کا وجود میں آنا قدرتی اَمر تھا۔ یہ شکست و ریخت کسی طے شدہ فارمولے کی وجہ سے نہیں ہوئی تھی، یہ تو مسافر کے نقشِ پا کی طرح تھی جنہیں آگے بڑھتے ہوئے وہ مڑ کر بھی نہیں دیکھتا۔ زاہد کالیا بھی اُسی نقشِ پا کا حصہ تھا لیکن وہ بظاہر وطن پرست تھا اور نظریہ پرست بھی۔ وہ اَن پڑھ تھا لیکن اُسے اپنے خطے اور مذہب کے تاریخی حقائق پر محققانہ عبور حاصل تھا۔ اِسلام آباد میں اُس کے آپس میں جڑے ہوئے دوگھر تھے جن کے تہہ خانوں میں اُس نے دو عجائب گھر قائم کر رکھے تھے جو اُس کا بہت ہی ذاتی سرمایہ تھا۔ اُس نے دنیا کے عجائب گھروں کی نایاب ترین اشیا وہاں جمع کر رکھی تھیں۔ یہ سب بیش قیمت چیزیں تھیں اور زاہد کالیا بار بار کہتاکہ اُسے دولت سے پیار نہیں اور اُس کے تہہ خانوں میں نایاب ترین اشیا کی شکل میں دولت کے انبار تھے۔ یہ اسلامی اور خطے کی تہذیبوں کو محفوظ کرنے کا عمل تھا کہ دولت جمع کرنے کا ذریعہ؟ کیا وہ نظریہ پرست تھا؟ زاہدکالیا کی عملیت کی سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ وہ، وہ کرتا ہے جو کہتا نہیں اور جو وہ کہتا ہے کرتا نہیں!

ہر کردار کی دو شناختیں ہوتی ہیں، پہلی میں وہ مصنف کا ایجنٹ ہوتا ہے اور دوسری میں کردار کا کردار۔ مشاہد علی ایک پیٹی بورژوا تھا اور وہ مستنصر حسین تارڑ کے عطا کیے مقام سے اوپر نہیں اُٹھ سکا۔ زاہد کالیا بائیسکل پر پھیری لگا کر برتن بیچنے والے کا بیٹا تھا۔ یہاں تک تو وہ مصنف کا ایجنٹ رہا، اُس کے بعد وہ برتن فروش کردار کا کردار بن جاتا ہے جسے اینٹیک کولیکٹر اور سمگلر بننے میں اپنے لیے بہتری نظر آئی۔ معاشرہ پیداواری ذرائع کا متلاشی رہتا ہے۔ زاہد کالیے نے یہ نظریہ اُس وقت ہی محسوس کر لیا تھا جب وہ پرائمری سکول میں مشاہد علی کا ہم جماعت تھا۔ مشاہدعلی معاشرتی اقدار کی شکست و ریخت سے آشنا تو تھا لیکن وہ اتنا کاہل یا آرام طلب یا راضی بر رضا تھا کہ اُس نے اپنے کردار کونیا کردار دینے کے بجائے مصنف کا ماوتھ پیس بننے کو ترجیح دی۔۔۔ وہ ایک پیٹی بورژوا ہی رہا۔ زاہد کالیے نے اپنے ذرائع خود پیدا کیے۔ وہ جینوئن اور نان جینوئن اینٹیک کو شناخت کر سکتا تھا اور نان جینوئن کو جینوئن بنانا بھی سیکھ چکا تھا۔ زاہد کالیے کے کردار کی ڈیویلپمنٹ میں اُس کا اپنا ہاتھ ہے۔ وہ جان گیا تھا کہ ایک اَن پڑھ اینٹیک کولیکٹر کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا جائے گا چناں چہ اُس نے اپنے آپ کو جدید تقاضوں کے مطابق باخبر رکھنا شروع کر دیا یہاں تک کہ وہ اپنی دلچسپی کے علاقوں کی تاریخ پر ایک سند بن گیا۔

زاہد کالیا اُردو ناول کے چند فعال کرداروں میں سے ایک ہے۔ وہ ایک ہم درد دوست تو تھا ہی لیکن ایک بے رحم سودے باز، موقع شناس اور خود غرض انسان بھی تھا۔ وہ ایسا کردار ہے جس نے اپنا ضابطہئ حیات طے کر لیا تھا اور وہ اُس پر پابند رہا۔ اُردو ناول کے کردار مصنفین کے ماوتھ پیس چلے آرہے ہیں، زاہد کالیا شعور سے خود شعوری کے سفر کو طے کرتے ہوئے مصنف کے الفاظ کے جالوں میں سے نکل کر صحیح معنوں میں کردار کا کردار بن کر لمبی عمر پاگیا۔

خالد فتح محمد کی دیگر تحریریں