چند پہلے قدم

یہ تحریر 430 مرتبہ دیکھی گئی

اظہار ہاشمی افسانہ نویسی کے کوچے میں نووارد ہیں لیکن ان کے پہلے مجموعے میں تنوع کی کمی نہیں۔ ایک افسانے میں خودکشی پر آمادہ ایک نوجوان کی شیطان سے ملاقات کا ذکر ہے۔ ایک اور افسانہ سیارگانی جسم یا نسمہ (astral body) کی زبانی بیان ہوا ہے۔ یاد نہیں آتا کہ اس موضوع پر اردو میں کسی اور نے لکھا ہو۔ شیطان سے مکالمہ کچھ ایسا بعید نہیں بلکہ بعض حضرات کے افسانے پڑھ کر گمان ہوتا ہے کہ شیطان نے بہکا کر لکھوائے ہیں۔ خیر، ان باتوں سے اظہار صاحب کو کوئی سروکار نہیں۔

غالباً سب سے بہتر افسانہ “شہر آشوب” ہے۔ خیال آتا ہے کہ شاید یہ حقیقت پر مبنی ہو۔ اس میں کوئی بات ایسی نہیں جس پر یقین نہ لایا جا سکے۔ دلچسپی اول تا آخر برقرار رہتی ہے۔ ناصحانہ انداز کچھ کھٹکتا ہے۔ لیکن اگر یہ بڑی حد تک حقائق کی ترجمانی کرتا ہے تو اس کی موجودگی ناگزیر ہے۔

“جنسِ ارزاں” ایک خواجہ سرا کی اذیت بھری زندگی کے بارے میں ہے۔ کبھی سمجھ میں نہیں آیا کہ خواجہ سراؤں کو حقارت کی نظر سے کیوں دیکھا جاتا ہے۔ گلہ تو فطرت سے ہونا چاہیے کہ انھیں ایسا کیوں بنایا۔ چوں کہ ان کو غیرفطری یا برا سمجھ کر معاشرے کے حاشیوں کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے اور اس طرح پچھڑنے کے بعد اگر وہ زندہ رہنے کے لیے ایسے ذرائع اختیار کرتے ہیں جو معاشرے میں اکثریت کی نظر میں غیراخلاقی ہوتے ہیں تو الزام ان پر نہیں اکثریت پر آنا چاہیے۔ اپنی نظر میں نیک لوگ برائی کی طرف انھیں دھکیلتے بھی خود ہیں اور پھر ان کی برائیاں بھی کرتے ہیں۔ افسانہ پڑھ کر ان ظلم رسیدوں سے ہم دردی محسوس ہوتی ہے۔ یہ افسانہ دراصل ناول کا تقاضا کرتا تھا۔ سردست تو یہ ناول کا پلاٹ دکھائی دیتا ہے۔ ممکن ہے اظہار صاحب کبھی اسے ناول کی شکل دے دیں۔ افسانہ تو انھوں ہی نے لکھا ہے۔ اسے پھیلانا چاہیں تو ان کی مرضی۔

“بَچھڑے کی محبت” میں اپنی داسنت میں ایک ناکام اور مایوس نوجوان ریلوے سٹیشن پر اس ارادے سے آیا تھا کہ ریل گاڑی کے آگے آ کر خودکشی کر لے۔ اتفاقاً اس کی شیطان سے ملاقات ہو گئی۔ وہ اسے اپنے ساتھ مختلف محفلوں میں لے گیا جہاں عظمت، قیادت، دین داری اور نیکی کے دعوے دار اپنے اقوال و افعال سے لوگوں کو مرعوب کرتے دکھائی دیے۔ شیطان کی مدد سے نوجوان ان کے دلی خیالات معلوم کرنے میں کامیاب ہو گیا اور اسے پتا چلا کہ ابتدا میں چاہے ان کے ارادے بھلے ہوں شیطان انھیں غرور میں مبتلا کرکے صحیح راستے سے ہٹا دینا ہے۔ غرور ہی تباہی کی طرف پہلا قدم ہے۔ اگر سوچ درست نہ ہوتو نیکی بھی تکبر کی طرف لے جاتی ہے۔ آخر میں شیطان اسے واپس سٹیشن پر لے آیا اور کہا کہ ٹرین آنے والی ہے۔ یہ تمھارے لیے آخری موقع ہے۔ یہاں افسانہ ختم ہو جاتا ہے۔ کہہ نہیں سکتے کہ بالآخر نوجوان نے کیا کیا۔ شاید خودکشی نہ کی ہو۔ آخر آنکھوں سے پردہ جو اٹھ گیا تھا۔

“مدافعت” میں ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو دارفر میں تعیناتی کے دوران میں جنسی بے راہ روی کی وجہ سے ایڈز میں مبتلا ہوا اور آخر تک اس بات کو چھپانے کی کوشش کرتا رہا۔ “اعتراف” میں ایک استاد نے، جس کا بے حد احترام کیا جاتا ہے، جلسہء عام میں اعتراف کیا کہ اس نے پوری نیک نیتی سے پڑھایا لیکن اس کے شاگرد نیک ثابت نہ ہوئے۔ اصل میں یہ ہمارے مروجہ تعلیمی نظام پر طنز ہے۔ ویسے بھی نیکی کی ڈگری تو کسی تعلیمی ادارے سے نہیں ملتی۔

“مسیحا” قریب الموت واردات کے بارے میں ہے جسے انگریزی میں مختصراً NDE کا نام دیا گیا ہے۔ بعض کیسز میں بظاہر مریض کی موت واقع ہو جاتی ہے لیکن چند منٹ بعد اس میں جان لوٹ آتی ہے۔ ان چند منٹوں میں اس کی روح جسم سے باہر رہ کر دیکھتی جاتی ہے کہ اردگرد کیا ہو رہا ہے۔ ایسے واقعات بہت سے پڑھنے میں آئے ہیں۔ اظہار ہاشمی چوں کہ خود ڈاکٹر ہیں اس لیے عجب نہیں کہ کسی ایسے مریض سے ان کا بھی واسطہ پڑا ہو۔ “پہنچی وہیں پہ خاک” مزاحیہ افسانہ ہے لیکن اندازِ بیان کچھ بوجھل ہے اور افسانے کے تاثر کو کمزور کر دیتا ہے۔ “وصالِ ہجر” کی خاص بات یہ ہے کہ اسے ہنر مندی سے ختم کیا گیا ہے۔ “سوئیٹر” میں بچوں نے جس ایثار کا مظاہرہ کیا ہے اس کی توقع ان سے نہیں کی جا سکتی۔ یہ افسانہ شاید ابتدائی ہو۔ بے پروائی اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ پہلے لڑکوں کی ٹولی کا ذکر ہے۔ پھر اسے نوجوانوں کی ٹولی اور آخر میں بچوں کی ٹولی بنا دیا ہے۔

کتاب میں جو سب سے مشکل افسانہ ہے اس کا ذکر یہاں کیا جاتا ہے۔ “جنج گھر والی” میں ایک بیس سالہ لڑکی کا قصہ ہے۔ اس کی شادی کے دن، دریا پار کرتے ہوئے، دلھا کی کشتی ڈوب گئی۔ دلھن پر سکتہ طاری ہو گیا۔ اس کے بعد وہ ہر کسی سے بے نیاز ہو کر جنج گھر میں اکیلی رہنے لگی۔ اس طرح تیس سال گزر گئے۔ انسانی ذہن کبھی سکون سے آشنا نہیں ہوتا۔ خیالوں کے ریلے کبھی ختم ہونے میں نہیں آتے۔ لوگ تنہائی سے بہت ڈرتے ہیں۔ اگر مجرموں کو چودہ سال قید کے بجائے دو ماہ قید تنہائی کی سزا دی جائے تو رہائی کے بعد یا تو پاگل ہو چکے ہوں گے یا ہمیشہ کے لیے جرائم سے توبہ کر لیں گے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک عورت نے تیس سال تنہائی میں کیسے گزارے؟ وہ کیا سوچا کرتی ہوگی؟ اس کہانی کے ساتھ تو ہزار صفحوں کے ناول میں بھی انصاف نہیں کیا جا سکتا۔ میں اپنے عجز کا اظہار کرتا ہوں۔ اگر حقیقت پسندی سے کام لوں تو ہزار صفحوں میں ایک دن اور رات کو بھی بیان نہ کر سکوں گا۔ معلوم نہیں یہ افسانہ حقائق پر مبنی ہے۔ اگر حقائق پر مبنی ہے تو جس عورت کا ذکر ہے وہ کوئی مافوق الانسان ہستی ہوگی۔

اظہار ہاشمی کے بیان پر ادبیت غالب ہے کہ اگر وہ سیدھی سادی زبان لکھنے پر توجہ دیں تو بہت کامیاب فکشن نگار بن سکتے ہیں۔

نیشِ عشق از ڈاکٹر اظہار ہاشمی

ناشر: زاہد پبلشرز، لاہور

صفحات: 186؛ 500 روپیے