نیلگوں لاحاصلی میں

یہ تحریر 471 مرتبہ دیکھی گئی

پروین طاہر کی نظموں کا پہلا مجموعہ “تنکے کا باطن” 2005ء میں شائع ہوا تھا۔ اس کی اشاعت کے چار شال بعد ان کا جواں سال بیٹا فوت ہو گیا۔ یہ ایسا صدمہ ہے جس کی شدت کو صحیح معنی میں ماں ہی محسوس کر سکتی ہے۔ اس فراق کے بعد ہوش کہاں سلامت رہتے ہیں۔ شاعری کی طرف توجہ کہاں جا سکتی ہے۔
لیکن شعر کے فن نے جس کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے ہوں وہ دوبارہ اس جہان میں قدم رکھنے سے کیسے باز آئے۔ شعر کی طرف یہ مراجعت ایک سطح پر باطنی شفایابی ہے۔ غم بھی اس معنی میں حقیقی ہے جب اس کے ساتھ رہنا سیکھ لیا جائے۔ اور یہ وابستگی، لاکھ اداس کرنے والی سہی، انسانوں کا مقدر ہے۔
پروین طاہر کا پہلا مجموعہ میری نظر سے نہیں گزرا۔ اس لیے یہ کہنے سے قاصر ہوں کہ انھوں نے، اظہار کے لحاظ سے سے، اپنی شعری سطح کو برقرار رکھا ہے یا ایک دو قدم آگے بھی بڑھی ہیں۔ بہرحال، جو ماحضر ہے، اس کو دیکھنا، پرکھنا اور سمجھنا ہوگا۔
مجموعے کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک کا عنوان “عروضِ جاں” ہے اور دوسرے کا “عروضِ دل”۔ پیش لفظ میں وہ کہتی ہیں: “میری تخلیقی ترجیح اب بھی نظم ہے مگر ان برسوں میں غزل کے اوزان اور بحور نے میرے تخلیقی باطن کو متاثر کیا۔” اس بات میں وزن ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جو نظم گو غزل کی نئی پرانی روایت سے آشنا نہ ہو وہ کبھی اچھی نظم نہیں لکھ سکتا۔
اس نئے مجموعے میں بعض نظمیں اچھی ہیں اور چند ایک ایسی جن کو، اگر پچھلے پچاس برسوں کی نظموں کا انتخاب مقصود ہو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ایک شکایت نظم لکھنے والوں سے رہی ہے اور وہ یہ کہ نظم کی ٹھیک طرح تدوین نہیں کرتے ۔بعض مصرعے یا بند حذف کرنے سے شاید کچھ ابہام پیدا ہو جاتا ہو، جو قابلِ اعتراض نہیں، لیکن نظم جامع معلوم ہونے لگتی ہے۔ یہ شکایت دوسروں ہی سے نہیں خود سے بھی ہے کہ اپنی بعض نظموں پر نظر ڈالتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ فلاں فلاں مصرعوں کو قلم زد کر دیا جاتا تو بہتر ہوتا۔ نظم پر اتنا ہی بوجھ ڈالنا چاہیے جتنا وہ اٹھا سکے۔
مثلاً “تری اک نظر کے نیاز میں” میں جو نفاست موجود ہے اس تک رسائی آسان نہیں۔ لیکن اس کے آخری چار مصرعے نہ ہوتے تو اس کی توانائی اور بڑھ جاتی۔ یا آخری مصرع کو کسی اور انداز سے ادا کیا جاتا۔ اسی طرح “ایس ایم ایس” کے پہلے اور آخری چار مصرعے مل کر ایک بہتر نظم ثابت ہو سکتے ہیں۔ درمیان کے آٹھ مصرعوں سے نظم میں جذباتیت در آتی ہے۔ خیر، یہ منصب شاعر ہی کو زیب دیتا ہے کہ کس طرح اپنے کلام کو کانٹے چھانٹے۔ تبصرہ کرنے والے کی رائے پر توجہ دینا ضروری نہیں۔
“محیط روشن کرو” ، “میری ہستی میرا نیل کمل” ، “بکھراؤ”، “ایک غیر روایتی قصیدہ (اس لیے قابلِ ذکر ہیں کہ اس میں ہندی لفظوں کی موجودگی اوپری لگنے کے بجائے نظم میں گھل مل گئی ہے) “کیا روگ لگا ہوتا ہے” ، “نیلگوں کائی” ، “اس کی سچل کھٹی” ، “نادیدہ غم” ، “فیس بک” اور “ہمیں آپ کی ضرورت ہے” ایسی نظمیں ہیں جو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔
یہ خیال بھی اتا ہے ، جو غلط بھی ہو سکتا ہے، کہ پروین طاہر اگر غزل کی طرف توجہ دیں تو شاید خود کو اور زیادہ منوا سکیں۔
نیلگوں کائی از پروین طاہر
ناشر: صریر پبلی کیشنز، راولپنڈی
صفحات222؛ آٹھ سو روپیے