غزل

یہ تحریر 1067 مرتبہ دیکھی گئی

بزم جہاں میں کیا کہیں کیا کیا ستم ہوئے
برہم خدا سے ہم ہوئے، ہم سے صنم ہوئے

ہم اہل ذر کی دوغلی سیرت تو دیکھیے
پیری کا وقت آ یا تو روبہ حرم ہوئے

دام خدا، خدا نے سجایا تھا اس طرح
“اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم۔ہوئے”

بے سود ہے ہماری تمنا و آ رزو
اے دوست! ہم تو راہی مرگ و عدم۔ہوئے