غزل

یہ تحریر 141 مرتبہ دیکھی گئی

o

تمھارا اور مرا جو زندگانی کا سفر ہے
کہانی ہے یہ کوئی یا کہانی کا سفر ہے

یہ بستی خواب ہے یا خواب جیسی چیز کوئی
یہ کوئی راز ہے یا راز دانی کا سفر ہے

ہماری زندگی ہے یا کوئی احساسِ گزراں
یہ دریا ہے کہ دریا کی روانی کا سفر ہے

تمھارا ہی کرشمہ ہے میں چلتا جا رہا ہوں
مرے ہم رَہ تمھاری مہربانی کا سفر ہے

میں کوئے خاک میں ہوں اور نظر افلاک پر ہے
مگر درپیش مجھ کو لامکانی کا سفر ہے

عجب طرفہ تماشا ہے مجھے درپیش تابش
زمیں کے دوش پر ہوں جادوانی کا سفر ہے