غروبِ شہر کا وقت

یہ تحریر 526 مرتبہ دیکھی گئی

ایک پُرانا تاریخی شہر، اپنی عظمتوں کی شام سے دوچار، اپنی ثقافت، اپنی محبوبی، رہن سہن، تعلیم، عدل و انصاف اور وسیع المشربی پر اُچٹتی، اُداس نظر ڈالتا ہوا، جو آخرکار غروب کی دل دوز ساعت میں موجود تو رہے گا مگر تقریباً گُم شدہ، جیسے خالی ہوتے گھروں میں سائے اور صدائیں رہ جائیں۔ اُسامہ صدیق کے ناول میں اسی منہ چُھپاتے شہر کی داستان ہے۔ اس میں اگر جا بجا طنز و مزاح کے چھینٹے نہ ہوں تو بالکل دل خراش معلوم ہونے لگے۔


تاریکی کے انھیں پھیلتے دھبوں میں کہیں کہیں روشنی کی بندکیاں بھی ہیں جو خود کو برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔ لاہور کے بارے میں ایک ناول جس کا در و بست روایتی ناولوں سے بالکل الگ تھلگ ہے۔ آوازوں کے ان تانوں بانوں میں ایک ہوائی مخلوق کی آواز بھی شامل ہے جو اس بگاڑ سے اتنی ہی ناخوش ہے جتنے بعض دوسرے حسّاس انسان۔ یہاں عدل و انصاف کا نام نہیں، قبضہ گروپوں کے حریص مسخروں کے کرتبوں سے مسخر ہونے والوں کا ہجوم ہے۔ ایک شہر جو رونقِ خیال و احوال تھا ٹوٹ پھوٹ کر حقیقی ملبوں میں تبدیل ہوتا نظر آتا ہے۔ اُسامہ صدیق نے اپنے زورِ قلم سے اس کی افسردگی اور زوال کو گویا مصوّر کر دیا ہے۔ ناول نگار دُنیا کو بدل تو نہیں سکتے لیکن ہمارے سُود و زِیاں کا حساب ضرور رکھتے ہیں۔