سکے کے دو رخ

یہ تحریر 1397 مرتبہ دیکھی گئی

جیم عباسی کا ناول دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ ایک میں انقباض کی کیفیت ہے، دوسرے میں انبساط کی؛ یا آسان لفظوں میں، ایک میں گھٹن ہے، دوسرے میں کُھلا پن۔ دونوں حصوں میں بیانیہ کی رفتار میں بھی فرق ہے۔ ایک میں واقعات بہت ہیں، ہیجانی کیفیت ہے، سختیاں ہیں۔ دوسرے حصے میں گفت و شنید پر زور ہے، اپنی کہنے اور دوسرے کی سننے کی آزادی ہے۔ اختلاف رائے کی گنجائش ہے۔ یہ متضاد دنیائیں سندھ میں موجود ہیں، ایک دوسرے کو چھوتی بھی ہیں لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کے درمیان کوئی سرحد موجود ہے جو دکھائی نہیں دیتی؛ غیرمرئی ہونے کے باوجود اپنا احساس دلاتی رہتی ہے۔
سائیں سید عبدالرحمٰن شاہ نے اپنے گانؤ میں ایک نظام راج کر رکھا ہے جو آمرانہ معلوم ہوتا ہے۔ پابندیوں نے ہر کسی کو جکڑا ہوا ہے۔ ننگے سر سونا منع ہے۔ مرد ٹوپی پہن کر اور عورتیں دوپٹا لے کر سوتی ہیں۔ کالر والی قمیض پہننے کی اجازت نہیں۔ نماز باجماعت پر نہ پہنچنے والے کو سزا ملتی ہے۔ اس کی کوئی حد نہیں۔ سزا دینے والا جتنے ڈنڈے چاہے مارے، جہاں چاہے مارے۔ نماز نہ پڑھنے کے علاوہ پگڑی نہ باندھنے پر چار پانچ بید، مسواک نہ دکھانے پر بھی چار پانچ بید۔ پہلی رکعت پر نہ پہنچنے پر دو عدد ڈنڈے فی رکعت۔ تہجد میں غیرحاضری کی سزا دو بید یا بیس پچیس بار اٹھک بیٹھک۔ بڑوں پر تین وقت، مغرب، عشا اور فجر، باجماعت ادا کرنے کی پابندی۔ جو غفلت برتتا اس پر لازم تھا کہ عشا کے بعد دو گھنٹے گانؤ میں پہرہ دے یا دو روپیے فی نماز جرمانہ ادا کرے۔
لڑکوں پر یہ پابندی بھی تھی کہ وہ بغیر اجازت گانؤ سے باہر نہ جا سکتے تھے۔ صرف جمعے کو جمعے کی نماز کے بعد عصر تک کہیں گھومنے جانے کے مجاز تھے۔ پہلے پہل سزا دینے کا اختیار کامل شاہ کے پاس تھا جو سادیت پسند تھا۔ لیکن جب اس نے کسی آدمی کا بازو توڑ دیا اور دو آدمیوں کو نماز میں سستی برتنے پر بیوی بچوں سمیت گانؤ سے نکال دیا تو سائیں نے اسے بڑوں کا احتساب کرنے سے روکنا بہتر سمجھا۔
ناول کے شروع میں سائیں ایک شخص کو برا بھلا کہتے ہیں: “نظام کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ شہر کا ناپاک گھی لا کر کھاتا ہے بے حیا۔ ہم اسی لیے اپنا گھر بناتے ہیں۔ اپنی چکی لگائی ہے کہ بے نمازی لوگوں کے آٹے والی چکی میں ہمارا آٹا نہ پسے۔ خبردار، جو کسی نے شہر کی بنائی ہوئی کوئی چیز کھائی یا ہوٹل پر چائے پی۔ وہ یہاں سے خارج ہے۔ اپنے مرشد کے بتائے راستے پر چلو۔”
سائیں کے دوسرے خلیفہ نے، جو قدرے معقول آدمی ہے، گانؤ میں اسکول کھولنے کی کوشش کی اور ناکام رہا۔ اس نے شکایتاً سائیں سے کہا: “میری نیت صرف یہ تھی، بچے لکھ پڑھ جائیں، ان کو دنیاداری آ جائے۔ زمانے میں اٹھنا بیٹھنا سیکھ لیں۔”

یہ سن کر سائیں کو غصہ آ گیا۔ بولے: “اللہ پاک نے اپنی عبادت کے لیے انسان کو پیدا کیا، تم انھیں دنیا میں لگانا چاہتے ہو؟۔۔۔ دریا میں جو مچھلیاں ہیں انھیں رب نے تیرنا سکھایا ہے یا اسکول نے؟ پرندے جو صبح شام بولیاں بول کر رب کا ذکر کرتے ہیں تو کیا انھیں اللہ پاک رزق نہیں دیتا؟ کیا یہ رزق روزی کے لیے اسکول جانے کے محتاج ہیں؟” غرض گانؤ کے لوگوں کے خیال میں سائیں خوش تو ان کے لیے جنت کے دروازے کھلے۔ سائیں ناراض تو جہنم کے سوا کوئی ٹھکانا نہیں۔
پاکیزگی پر مریضانہ حد تک زور ہے۔ جو لکڑیاں گھر میں ایندھن کے لیے لائی جاتی ہیں انھیں بھی تین مرتبہ پانی سے دھو کر پاک کرنا پڑتا۔ سائیں کہیں دعوت پر جاتے تو کھانے پینے کی ہر چیز گھر سے جاتی۔ میزبان ان اشیا کی قیمت ادا کرتا۔
گویا سائیں نے اپنی طرف سے گانؤ کو پاک صاف رکھنے کے لیے ایک Cordon Sanitaire قائم کر رکھا تھا۔ لیکن ایسے تمام حصاروں میں، خواہ فرد قائم کرے یا حکومت، رخنے ضرور ہوتے ہیں یا پیدا ہو جاتے ہیں۔ انھیں رخنوں سے آئے دن ہنگامے ہوتے ہیں اور احتساب کی نوبت آتی ہے۔
دل چسپ واقعات تو بہت سے ہیں۔ ایک واقعے کو، پڑھنے والے کی مرضی ہے، نیم طنز سمجھے یا نیم مزاح۔ سائیں اپنے حکیم کے پاس گئے۔ انھیں اپنی عمومی صحت کی فکر درپیش نہیں۔ صرف قوتِ باہ میں اضافہ مطلوب ہے۔ آخر چار بیویاں جو ہیں۔ حکیم نے ایک نسخہء خاص کی بڑی تعریف کی۔ اس تعریف کو سن کر سائیں کا اشتیاق دوچند ہو گیا۔ لیکن حکیم نے تان یہاں پر توڑی کہ “مجھے خدشہ ہے کہ آپ اسے استعمال کرنا مناسب نہ سمجھیں گے۔” سائیں اس بات کی تہ تک نہ پہنچ سکے تو حکیم نے وضاحت کی: “نسخے میں مغزیات، جواہر اور اصیل چوزے کام آتے ہیں اور دیسی گندم اور دیسی گھی بھی ملایا جاتا ہے۔ آپ تو کسی اور کا گندم اور گھی استعمال ہی نہیں کرتے۔” لیکن سائیں نے نسخہ استعمال کرنے کا کوئی جواز نکال لیا۔ نسخہ ایسا ہو تو خود ساختہ اصولوں کو بھلا دینا ہی بہتر ہے۔
یہ خیال آ سکتا ہے کہ سائیں کو اپنا اقتدار قائم رکھنے اور حق زوجیت ادا کرنے کے سوا کسی بات سے سروکار نہ ہوگا۔ لیکن سائیں ذہین آدمی ہیں اور انھیں پتا ہے کہ بڑے بیٹے ہاشم کے بجائے، جو خاصا نالائق واقع ہوا ہے، چھوٹا بیٹا، سلیمان ہی ان کی گدی سنبھالنے کے لائق ہے۔ وہ اپنی کتابوں کا ذخیرہ بھی سلیمان کے سپرد کرتے ہیں (جنھیں بعد ازاں ہاشم نے نذرِ آتش کر دیا)۔ کچھ عرصے بعد جو مردانہ قوت کی دواؤں کے بے محابا استعمال سے سائیں بیمار ہو کر اس جہان سے رخصت ہوئے تو گھر میں فساد پھیلا۔ سلیمان شاہ کی قابلیت اور مقبولیت ہاشم شاہ کو ذرا نہ بھائی۔ اور اس نے سلیمان شاہ کو ٹھکانے لگانے کا سوچا۔ یہ بات سلیمان کی ماں کو پتا چلی تو اس نے بیٹے سے کہا کہ تو فوراً یہاں سے شہر چلا جا ورنہ تیرے ساتھ بری ہوگی۔ سلیمان نے ماں کے مشورے پر عمل کیا اور شہر چلا گیا۔ یہاں کتاب کا پہلا حصہ ختم ہوا۔
دوسرے حصے میں سلیمان صوفی حیدر بخش کی بیٹھک میں (جس کا نام ہی مے کدہ ہے) نظر آتا ہے۔ یہاں ہر طرح کی گفتگو کی آزادی ہے۔ گانے بجانے اور ناچنے پر بھی کوئی قدغن نہیں۔ ملاجمن اور رام داس میں، جو اپنے اپنے طور پر اسلامی اور ہندوانہ افکار اور عقائد کی نمائندگی کرتے ہیں، احثا بحثی ہوتی رہتی ہے مگر دل آزاری کی نوبت نہیں آتی۔ یہ وسیع المشربی سائیں کے گانؤ کے جابرانہ نظام کا عین الٹ ہے۔ یہ ضرور ہے کہ اس میں پہلے حصے کی سی ہنگامہ خیزی نہیں ہے۔ تبادلہء خیال اور تصوف کی باریکیوں کے ذکر اذکار پر زور ہے۔ ناول کی معنویت میں فرق نہیں آتا، اس کا پیرایہ بدل جاتا ہے اور رفتار بھی۔
جیم عباسی نے بڑی کامیابی سے سندھ کےدیہی ماحول کی عکاسی کی ہے۔ اس ناول سے اردو فکشن کی ثروت مندی میں اضافہ ہوا ہے۔ جیم عباسی نے چند اچھے افسانے بھی لکھے ہیں۔ افسوس ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کتابوں اور رسالوں کی آمد و رفت تقریباً ناممکن ہو گئی ہے۔ اگر جیم عباسی کا ناول کوئی بھارت میں شائع کر دے تو یقین ہے کہ وہاں کے اردو حلقوں میں اس کی خاصی پذیرائی ہوگی۔
رقص نامہ از جیم عباسی
ناشر: آج کی کتابیں، کراچی
صفحات: 336؛ سات سو روپیے