رفیع الدین راز کی غزل

یہ تحریر 135 مرتبہ دیکھی گئی

اردو اصنافِ شاعری میں غزل کو آج بھی مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ جہاں آج کے غزل گو ایک دوسرے کی نقالی اور پیروی میں قدم بہکاتے نظر آتے ہیں وہیں ایسے شعراء کی حوصلہ افزا تعداد بھی موجود ہے جو غزل کی روایت سے جڑے رہنے کے ساتھ ساتھ اپنی الگ شناخت بنا لینے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں۔ اس قبیل کے شعراء میں ایک اہم نام رفیع الدین راز کا ہے ۔ ۔جن کی غزل روایت سے پیوست بھی ہے اور جدت و ندرتِ خیال سے مزین بھی ۔ دورِ جدید میں غزل کے نام پر جو آڑے ترچھے نظمیہ مضامین باندھے اور اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ اس گمراہ کن مشق کے انجام کے طور پر غزل کا بنیادی عنصر جسے تغزل کہتے ہیں جامد و ساکن ہو کے رہ گیا ہے بل کہ یوں کہیے کہ قریبِ موت ہے ۔ ایسے ماحول اور فضا میں رفیع الدین راز کی غزل سے رجوع کریں تو ہمیں اعلیٰ درجے کے تغزل سے بھر پور اشعار اور مصرعے صفحۂ قرطاس پر گلابی پتیوں کی طرح بکھرے خوشبو بکھیرتے ملتے ہیں۔ یہ خوبی بذات شاعر کی شعر سے سنجیدگی اور جذباتی وابستگی کو آشکار کرتی ہے ۔
ہمارے شاعر رفیع الدین راز کی غزل کو بغور دیکھیں تو معلوم پڑتا ہے کہ ان کے ہاں نو بہ نو مضامین کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے۔ وہ شعر کے ابلاغ اور اظہار پر فطری قدرت رکھتے ہیں۔جس کے باعث ان کی غزل کیفیاتِ شعری کا تسلسل بن گئ ہے ۔ ان کے ہاں خوب و زشت کا ایک خاص معیار ملتا ہے۔ جس پر کسی نظریہ سازی کے اثر کا الزام نہیں لگ سکتا بلکہ وہ اپنی ذہنی اپچ اور طبعی میلان کے تحت ان معیارات کو قائم کرتے دکھتے ہیں۔
تیکنیکی سطح پر ان کی غزل کی پختہ عمارت کی اساس ایک طویل مشق اور مطالعہ پر رکھی گئی ہے ۔ وہ بے محل ردیفی تجربوں کے بجائے سادہ ردیف پسند کرتے ہیں اور قافیوں کے فنکارانہ استعمال سے اشعار میں ندرت اور ایک نو کی پرکاری پیدا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
کہیں کہیں وہ مشکل اور جامد ردیف لاتے ہیں مگر وہ اپنے بھر پور امکانات لیے نظر آتا ہے۔
ان کے ہاں موضوعات اپنے عصر سے جڑے ہوئے ہیں ساتھ ہی رومانوی پہلو بھی ان کی شعری تفہیم کا حصہ بنتے ہیں۔ لیکن وہ پیشہ ور عاشقوں کی طرح نوبت و نقارے پیٹتے نہیں ہیں بلکہ ایک خاص زاویہ سے ان باطنی جذبات کا اظہار کرتے چلے جاتے ہیں۔ وطن سے دوری بھی ان کا ایک اہم موضوع ہے ۔ ان کے ہاں مہاجرت کا مضمون کئ المیوں، اداسیوں اور فطری محبتوں کے ساتھ وقوع پزیر ہوتا ہے ۔
رفیع الدین راز ماہرِ علمِ عروض ہیں ۔ دیکھا گیا ہے کہ اکثر عروضیوں کے لیے یہ علم ایک طرح کی شعری روک ، ایک حجاب اور عدم اعتمادی پیدا کر دیتا ہے ۔جس کی وجہ سے ضرورت سے زیادہ احتیاط ان کی شعری برجستگی اور تازگی کو گہنا دیتی ہے ۔ مگر راز کے ہاں ایسا نہیں ۔ کیونکہ وہ عروض کو اپنے شعری نظام پر حاوی نہیں ہونے دیتے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ شعری اظہار اپنے پورے اعتماد سے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
آخر میں بطور قاری اتنا کہنا چاہتا ہوں۔ یہ تو نہیں کہ ہمارے شاعر نے کوئی الگ اسلوب یا روایت سے آگے بڑھتے ہوئے کوئی
بلکل نئ شعری عمارت کی یافت کی ہے ہاں انہوں نے غزل کی کلاسیکی روایت میں رہتے ہوئے جدت و تازگی سے بھر پور شاعری کی ہے ۔ اگر آپ بےعیب اور تغزل سے بھرپور صاف ستھری شاعری پڑھنا چاہتے ہیں تو رفیع الدین راز کی شعری کائنات کی مسافرت اختیار کریں ۔ آپ یقیناً مایوس نہیں ہوں گے۔
نمونۂ کلام ملاحظہ فرمائیں:

ثمر نے آ کے جھکایا نہیں ہے سر اس کا
یہ انکسار ہے شاخِ شجر میں پہلے سے

ستائش کی تمنا میرے خدو خال کو بھی ہے
سو گاہے گاہے اپنے آپ کو بھی مان دیتا ہوں
میری غزلیں بہت سادہ سے پیراہن میں ہوتی ہیں
قوافی کو عموماً میں ردیف آسان دیتا ہوں

وسوسہ جب دلوں میں پلتا ہے
برف چھونے سے ہاتھ جلتا ہے

بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں ہستی کے تقاضے
ہر آن مرے شانے پہ اک بار نیا ہے
ہے صبر کی کوشش بھی وہی، میں بھی وہی ہوں
یہ دکھ ہے نیا، اور نہ یہ غم خوار نیا ہے

خود مجھے حیرت ہے اپنی جرأتِ کردار پر
تنگ آکر پاؤں اک دن رکھ دیا دستار پر

کب تک میں چھانتا رہوں یوں دربدر کی خاک
بتلا بھی دے مجھے مری مٹی کہاں کی ہے
تہذیب سو رہی ہے یہاں خاک اوڑھ کر
کیسے کہوں یہ قبر کسی بے نشاں کی ہے

نجانے کیوں یہ دنیا مختصر سے وقفۂ غم میں
ہمیں جب مسکراتا دیکھتی ہے مسکراتی ہے

کھل گیا ہے آنکھ پر شاید بصارت کا فریب
دل سے پوچھا ہے نظر نے روشنی کا ذائقہ
خاص اک نسبت ہے اس کی آدمی کی ذات سے
ہر کسی کے خون میں ہے بے حسی کا ذائقہ

کنجِ تنہائی میں ہم نے کیا گزاری ایک رات
درد کی لو سے چراغوں کو جلانا آگیا

چشمِ نم تو ہےوہی لیکن ضیا کچھ اور ہے
زخمِ تازہ پر نمک کا زائقہ کچھ اور ہے
جس تناظر میں اسے میری گواہی چاہیے
عبد اور معبود کا وہ سلسلہ کچھ اور ہے

چلا ہوں ذکر کرنے حسن کا بادل کا، آنچل کا
غزل ہے آج کی ، قصہ ہے یہ گزرے ہوئے کل کا
اسے ہر وقت رہنا ہی تھا میرے قریۂ جاں میں
مراسم محرمانہ تھے، تعلق بھی تھا پل پل کا