دن رات کے آنسوسحر وشام کی آہیں

یہ تحریر 243 مرتبہ دیکھی گئی

دیباچہ

یہ کتاب میری زندگی اور ادبی زندگی کاایک اہم حوالہ ہے۔میں کلیم عاجز کی تخلیقی شخصیت کے بغیر اپنی تعلیمی اور تدریسی زندگی کاتصور نہیں کر سکتا۔2000کے آس پاس جے این یو میں ایک کتاب کامنصوبہ بنایاتھا۔اس سلسلہ میں کچھ بزرگوں اور دوستوں کو خطوط بھی لکھے گئے لیکن منصوبے کو عملی جامہ پہنایانہیں جاسکا۔کچھ مضامین البتہ جمع ہو گئے تھے مگر اطمینان نہیں ہوا۔اب جب کہ اپنے طور پر کتاب میں نے مکمل کر لی ہے تو ایک محرومی اور کم مائیگی کااحساس ہوتاہے۔اس کی وجہ شاعری اور شخصیت کی آہٹوں کو سننے اور محسوس کرنے کی ایک خلش ہے۔ جتناکچھ سوچااور محسوس کیااس کی روداد کم سے کم دودہائیوں پر تو ضرور مشتمل ہے۔یہ روداد کلیم عاجز کے مطالعہ ہی کی نہیں بلکہ میرے ذہنی سفر کی روداد بھی ہے۔اس عرصے میں ذہن مختلف سمتوں میں بھٹکتارہا۔وطن میں ہوں یادہلی میں کلیم عاجز کی تخلیقی شخصیت نہ ذہن سے محوہوئی اور نہ نگاہ سے اوجھل۔کبھی کبھی تو ایسا ہواکہ پورے پورے دن ان کاکوئی شعر پڑھتااور گنگناتارہا۔یہ سوچے بغیر کہ اس میں معنی کی کتنی جہتیں ہیں اورکیا فنی باریکیاں ہیں۔معنی کی جہتیں اور فنی باریکیاں میرے ادبی مطالعہ کے ساتھ ساتھ اپنی موجودگی درج کراتی رہی ہیں۔مگر ایسابھی ہواکہ ان اصطلاحوں سے ذہن بیزار ہو گیا۔جب شاعری کو پڑھتے ہوئے اصطلاحیں فوراً یاد آجائیں تو اسے پڑھنے والے کی ذہانت کہاجائے گالیکن ٹھیک اسی وقت یہ خیال بھی سر اٹھاتاہے کہ شاعری انہیں اصطلاحو ں کاحوالہ بن کر یہ بتاتی ہے کہ اصطلاحیں اچھے شعر میں تہہ نشیں ہوتی ہیں مگر قاری اپنی ترجیحات کی بناپر انہیں تیرتاہوادیکھناچاہتاہے۔معنی کی کثرت اور معنی کی جہت نے اذہان کو اتنامسحور کرلیاہے کہ اب شعر کی قرأت کامسئلہ اس کے علاوہ کچھ باقی نہیں رہا۔گو کہ صورت حال کچھ تبدیل ہوئی ہے۔ کلیم عاجز کی شاعری کے ساتھ یہ سفر ذہنی کے ساتھ ساتھ حسی بھی رہاہے۔بلکہ حسیت کاحصہ زیادہ رہاہے۔جب شعر مکمل احساس اور کیفیت بن جائے تو پھر خیال نہ خیال بندی کاآتاہے اور نہ ہی کثرت معنی کا۔مجھے معلوم ہے کہ یہ باتیں کچھ لوگوں کو حیران کریں گی لیکن مجھے اپنے اس موقف کے اظہار میں کسی طرح کی پریشانی نہیں ہے۔کلاسیکی،نوکلاسیکی،جدید اور جدید تر شاعری کو تھوڑابہت پڑھنے کے بعد میری یہی سمجھ بنی ہے کہ شاعری کی اصل طاقت شاعری میں پوشیدہ ہے۔ہر شاعر کو معلوم ہے کہ اسے کس طرح اپنی انفرادیت کو قائم کر ناہے۔کسی اچھے شاعر کی انفرادیت دوسرے شاعر کی انفرادیت کے لیے خطرہ نہیں ہوتی۔شعری اسالیب میں اگراتنی گنجائش ہے تو ایک قاری کی حیثیت سے ہمارے ذہن میں بھی وسعت ہونی چاہیے۔کلیم عاجز کے اشعار کبھی اتنے یاد تھے کہ اتنے تو میر وغالب کے بھی یاد نہیں تھے۔اس کی وجہ یہ نہیں کہ اس میں کسی شعور کادخل تھا۔بس ایک گھریلواور مقامی ماحول تھا جس نے ابتداہی سے کلیم عاجز کی شاعری کو گھر آنگن کی شاعری بنادیاتھا۔یہ گھر آنگن دوسروں کے لیے اہم ہو یانہ ہو اس شخص کے لیے تو یقینا اہم ہے جس نے پہلی مرتبہ شاعری میں درد کی لذت اور احساس کی شدت کو محسوس کیا۔ناقدین نہ ان دنوں میرے لیے مسئلہ تھے اور نہ وہ آج میرے لیے مسئلہ ہیں۔کلیم عاجز کے سلسلے میں میں نے کسی نقاد کی بات مانی اور نہ ان کی پرواہ کی۔بلکہ اپنے عہد کے بعد بزرگ ناقدین سے اس تعلق سے سخت گفتگو بھی ہوئی۔میری طاقت کلیم عاجز کی شاعری رہی ہے اور ان کے بہت سے مخالفین اور ناقدین کی کمزوری ان کاتعصب رہاہے۔ایک موقع پر میں نے کہہ دیاتھاکہ میں آدھے گھنٹے سے کلیم عاجز کے بارے میں گفتگو کر رہاہوں۔یہ گفتگو نہ کلیم عاجز سن رہے ہیں اور نہ زمانہ سن رہاہے۔وہ کو ن سی طاقت ہے جس نے مجھے آپ سے یوں مخاطب کیاہے۔مجھے معلوم ہے کہ آپ کے پاس رسمی اور رواجی باتوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔بنیادی طورپر ایک خوف ہے جو آپ کے دل میں چھپابیٹھاہے۔آپ میں اتنی ہمت نہیں کہ آپ سچی بات کہہ سکیں۔ گذشتہ چار پانچ دہائیوں میں آپ نے جو کچھ لکھاہے اس میں ایک خوف کاعنصر شامل ہے اور یہ خوف متن کے اندر سے نہیں بلکہ متن کے باہر سے آیاہے۔جوخوف کلیم عاجز کی شاعری کے اندر ہے اس میں اترنے کاحوصلہ نہیں ہے۔ایماندارانہ متن کیاہوتاہے اور اس کی کیاطاقت ہوتی ہے یہ آپ کو معلوم ہے مگر آپ اس خوف کی نفسیات سے اتنے خائف ہیں کہ کم سے کم آج کی یہ گفتگو اس کاکچھ زیادہ بگاڑ نہیں سکتی۔اتناوقت جب اس خوف کی نفسیات کے ساتھ گزار لیاہے تومیں کیسے آپ کو باہر نکال سکتاہوں۔یہ چند باتیں یاد آرہی ہیں اور نہ جانے کیاکچھ اس رات کی گفتگو میں میری زبان سے نکل گیاتھالیکن احترام میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔میں ان کے علم کاحوالہ دیتارہامگر یہ بھی کہتارہاکہ وقت کے ساتھ ساز باز کرناکسی صاحب علم کو زیب نہیں دیتا۔کب تک دھوکے میں رہیں گے اور دھوکے میں رکھیں گے۔خوش ہونے اور خوش کرنے کی بنیاد میں اگر دنیاداری شامل ہے تو اس سے زیادہ ذلت کی بات اور کیاہوگی۔ خوش ہونے اور خوش کرنے کی روش اگر زندگی اور ادب کاعنوان اورحاصل بن جائے تو اس وقت سے ڈرناچاہیے۔تالیوں کی گڑگڑاہٹ کی عمر کتنی کم ہوتی ہے۔کلیم عاجز کی شخصیت اور شاعری نے مجھے یہ حوصلہ دیاکہ میں وقت کی دھاراکو موڑ تو نہیں سکتالیکن اس کے خلاف کھڑاہوسکتاہوں۔یہ بتاسکتاہوں کہ وقت کس طرح لوگوں کو استعمال کرتاہے اور لوگ جھوٹ بولنے لگتے ہیں۔جھوٹ بولنے کی روش میں جب علمیت،ذہانت اور ہوشیاری شامل ہو جائے تو اس کی تہہ بہت دبیز ہو جاتی ہے اور زمانہ تمیز نہیں کر پاتا۔دھیرے دھیرے جھوٹ کی دبازت کاراز کھلتاہے اور لوگ سمجھنے لگتے ہیں کہ ادب میں دنیاداری اور دنیاسے ساز باز کرلینے کامطلب کیاہے۔کلیم عاجز کی شخصیت اور شاعری سے عقیدت کامطلب یہ ہرگز نہیں کہ اسے فنی اور ادبی بنیادوں پر نہ دیکھاجائے۔فنی بنیادیں اکثر اوقات تعصب کاپردہ بن جاتی ہیں۔لوگ یہ نہیں بتاسکتے کہ جن فنی بنیادوں کی وہ بات کررہے ہیں وہ شاعری میں کہاں کہاں اور کس طرح موجود ہیں۔کلیم عاجز کی شاعری نصف صدی کے عرصے تک اپنی ایماندارانہ روش اور جہت کے ساتھ سماعتوں سے ٹکراتی رہی۔اس نے وہ رس نہیں گھولاجس سے وقت فوری طور پر شاعری کااور شاعر گرویدہ ہو جاتاہے۔اگر چہ اس آواز میں کشش بہت تھی سوز بہت تھا۔شاعر کاپور اوجود شاعری کی علامت بن گیاتھا۔وجود کس طرح شاعری کاپیکر بن جاتاہے اس کی مثال کلیم عاجز کی شخصیت رہی ہے۔جسے ہم ترنم کہتے ہیں وہ ایک طرح کانہیں ہوتا۔ترنم کی روایت بہت شاندار رہی ہے۔لیکن کبھی یہ محسوس کرنے کوشش نہیں کی گئی کہ جس ترنم کارخ داخل کی طرف ہے۔جس کی تشکیل اتنے بڑے حادثے نے کی ہے اور جو ترنم دراصل درد کانغمہ بن گیاہے اسے زمانے کے ترنم سے الگ کر کے دیکھاجائے۔سچ یہ ہے کہ بے حسی زندگی کو آسان بنادیتی ہے۔ادب کو پڑھتے اور پڑھاتے ہوئے بھی بے حسی زندگی کاوہ مفہوم سمجھاتی ہے جس سے آنے والازمانہ بھی پناہ مانگے گا۔ادب میں بے حسی کامفہو م اس کے سوااور کیاہو سکتاہے کہ متن کو ہم اس طرح نہ دیکھ سکیں اور پڑھ سکیں جس کاوہ متقاضی ہے۔ایک اچھامتن کس طرح ہماری بے حسی کی نذر ہو کر پامال ہوتا رہتاہے اور یہ پامالی اگرخاموشی کے ساتھ ہو تو ہی قابل برداشت ہے لیکن جب اسے محفل میں زبان مل جاتی ہے تو زیادہ افسوس ہوتاہے۔کلیم عاجز کی شخصیت اور شاعری نے کوئی انقلاب پیداکیاہو یانہ کیاہولیکن اس نے اپنی طاقت کاجس طرح لوہامنوایاوہ ایک واقعہ ہے۔اس عمل میں نہ کوئی اسٹیج سجایاگیا،نہ کوئی حلقہ بنایاگیا۔کسی شاعرکو اپنی شاعری پر اتنا اعتماد ہو اس کی مثال ذرا کوئی ڈھونڈ کر تو لائے۔نہ صرف بھروسااپنی شاعری پر بلکہ بھروسااپنے قارئین اور سامعین پر بھی اسی درجے کارہاہے۔انہوں نے ایک موقع پر گر چہ یہ شکایت کی تھی کہ۔
تم ہی سننے کاسلیقہ بھول بیٹھے ورنہ ہم
بات جس انداز سے کہتے تھے کل کہتے توہیں
یہ شکایت اس وقت پیداہوتی ہے جب یہ احساس ہو کہ زمانہ تبدیل ہو رہاہے۔اس کے تقاضے تبدیل ہورہے ہیں۔سننے کاسلیقہ یہ صرف شعر گوئی کااسلوب نہیں ہے بلکہ زندگی کااسلوب ہے۔شاعرکو اپنے جس انداز پر اصرار ہے اس کی طاقت کااندازہ اسی وقت ممکن ہے جب شاعری کو اس کے دائرہ کار میں رہ کر پڑھاجائے۔شاعری کاجدید یاقدیم ہو جانا یہ سب کچھ اس وقت بے معنی معلوم ہو تاہے جب شعر دبے پاؤں دستک دینے لگتاہے۔مسئلہ شعر کی قرأت کے ساتھ ساتھ ہماری ایمانداری کابھی ہے۔یہ ایمانداری جس اخلاقیات کو سامنے لاتی ہے اس کاتعلق ہر شخص سے اپنااپناہے۔ کوئی کسی کے بارے میں کیاکہہ سکتاہے۔صوفیوں کامسلک اپنی ذات کی طرف اگر دیکھنارہاہے تو اس کامطلب اور کچھ نہیں کہ وقت ہمیں جتناخراب کرتاہے یاکرسکتاہے اس کا ذمہ دارصرف وقت کو نہیں ٹھہرایاجاسکتا۔
کلیم عاجز کی شخصیت اور شاعری پر یہ صفحات کسی منصوبے کے تحت وجود میں نہیں آئے۔ جب جی چاہااور طبیعت آمادہ ہوئی تو کچھ قلم بند کر لیا۔ان کی زندگی میں ایک طویل مضمون لکھاتھا جو وہاب اشرفی کے رسالہ ’مباحثہ‘ میں شائع ہوا۔اس مضمون پر کئی خطوط بھی اگلے شمارے میں شائع ہوئے۔خود کلیم عاجز نے مضمون کو پڑھ کر مجھے خط لکھا تھاجس کاپہلاصفحہ کتاب کی پشت پر موجود ہے۔بقیہ تمام صفحات کلیم عاجز کے انتقال کے بعد وجود میں آئے۔میں نے کہیں لکھاہے کہ کلیم عاجز کے بارے میں جتنی گفتگو کی ہے یہ صفحات تو اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ایک وقت تھا کہ میں بولتاجاتاتھا۔گو کہ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے لیکن لکھنے کاعمل دیر سے شروع ہوا۔تقریر کی طاقت نظریاتی طور پر تو بعد میں سمجھ میں آئی۔مگر کلیم عاجز کے سلسلے میں یہ بات بہت پہلے سمجھ میں آگئی تھی کہ اپنی بات کو فوری طور پر اور پوری قوت سے دوسروں تک پہنچانے کاوسیلہ تو تقریر ہی ہے۔اب جو یہ تحریر کتاب کی شکل میں ہے مجھے نہیں معلوم کہ جو کچھ تقریر میں کہتارہااس کاکتناحصہ یہاں آسکاہے۔میں اس مسئلہ پر غور کر تارہااور کچھ افسردہ بھی ہوتارہا۔یہ صفحات کلیم عاجز پر میری گفتگوؤں کا بدل تو ہرگز نہیں ہو سکتے۔کاش وہ باتیں میں یاد کر پاتااور قلم بند کرسکتا۔ایک زیاں کااحساس ہوتاہے۔تقریر نے کچھ اپنابھی کام کیاہوگامیں اس سلسلے میں کو ئی دعوی نہیں کر سکتا۔لیکن کتناکچھ کہتے ہوئے سوچاتھااورسوچتے ہوئے کہاتھاکون جانے؟۔میں جانتاہوں اور میں بھی کیاجانتاہوں۔بس اتنامعلوم ہے کہ جو کچھ کہاتھااس میں دکھاوا نہیں تھا۔کوئی خارجی دباؤ نہیں تھا۔جن شعروں کے بارے میں کہاتھا ان کے ساتھ ایک لمبی رفاقت تھی۔شعروں کو یاد نہیں کیاتھاوہ یاد ہو گئے تھے۔ان شعروں کے بارے میں جب سوچتاتھاتو کوئی کیفیت اور کوئی احساس سوچ کے عمل کو کھنڈت کر تاتھا۔محسوس ہوتاتھا کہ جیسے فکر،زبان اور احساس یہ الگ الگ نہیں ہیں یایہ سب ایک ہی کیفیت کے الگ الگ نام ہیں۔نقادوں کی طرف دیکھنابند نہیں کیا۔تنقیدیں پڑھتارہا۔سوالات قائم کرتارہا۔مگر کلیم عاجز کی شاعری کسی اور طرح سے دنیامیں لیے پھرتی رہی۔ زمانہ کچھ اور کہتاتھا۔کلیم عاجز کی شاعری کچھ اور کہتی تھی۔زمانہ وقت کامفہوم سمجھاتاتھا کلیم عاجز کی شاعری وقت کاکسی اور طرح سے وقت کامفہو م سمجھاتی رہی۔
ہوشیاری کاتقاضاتھاکچھ اور
بے خودی کچھ اور سمجھاتی رہی
کلاسیکی استعارے کاوقار قائم رکھتے ہوئے کلیم عاجز کی شاعری کلاسیکی استعارے کو اپنے طور پر برتنے کاسلیقہ سکھاتی رہی۔ لوگ اس شاعری کو کلاسیکی کہتے رہے اور وہ جدید زمانے اور جدید ذہن کو اپنی جانب متوجہ کرتی رہی۔لوگ مشاعرے کی دنیا میں ان کی آواز پر سر دھنتے رہے، سسکنے کی آوازیں بھی آتی تھیں۔اسی صورت حال میں کوئی قاری ان کی شاعری کو تنہائی میں پڑھتارہااور گنگناتارہا۔آنکھیں اس خاموش قاری کی بھی نم ہوتی رہیں اور یہ نمی اس وقت زیادہ بڑھ جاتی جب ”وہ جوشاعری کاسبب ہوا“کادیباچہ مطالعہ میں آجاتا۔
دن رات کے آنسو سحر وشام کی آہیں
اس باغ کی یہ آب وہوایاد رہے گی
آنسوؤں کی یہ فراوانی حیران کرتی تھی۔یہ باغ اس زمانے میں کس طرح اتناہرابھرا رہاجب کہ آنکھیں زمانے کی خشک ہورہی تھیں۔آنسوؤں کی یہ فراوانی ایک ذاتی تجربے کے ساتھ تاریخ کے تشدد کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہے۔اب یہ تمیز مشکل ہے کہ اس دامن میں کتنا آنسو فرد واحد کی آنکھ کاہے اور کتنا اس تاریخ کے کھنڈر کاہے جس میں انسانی زندگیاں دیکھتے دیکھتے پامال ہو گئیں اور چند گھنٹوں میں سنگی مسجد کے در ودیوار خون سے لہو لہان ہو گئے اور وہ کنواں جو اس وقت تک پانی سے بھراہواتھاخشک مٹی کی طرح لوگوں کااستقبال کرنے کو تیار بیٹھاتھا۔وہ پانی کتنا خون سے لال ہواہوگا۔اس نے تصور بھی نہیں کیاہوگاکہ جو پانی نمازیوں کے وضو کے لیے کنویں میں اتراہے وہ ایک دن اس طرح وضو کاسامان فراہم کرے گا۔کب سے سنگی مسجد کے بارے میں سنتارہا۔میں نے فیصلہ کر لیاتھاکہ کتاب کی اشاعت سے پہلے ایک مرتبہ اس عظمت گہوارہ جسے شہادت گہہ الفت کہناچاہیے پر حاضر ہوں گا۔ورنہ تو ان صفحات کی اشاعت کاکوئی جواز نہیں ہے۔سنگی مسجد کے دروازے اور اس کے اندورنی حصے کی تصویر کلیم عاجز کی تصویر کے ساتھ سرورق کاحصہ ہے اور اب اس کے بارے میں کچھ لکھنے کی مجھ میں ہمت نہیں ہے۔اس سفر کی ایک مختصر سی روداد اس کتاب میں موجود ہے۔

27/04/2023