دانائی اور خلوص کا پیکر

یہ تحریر 1336 مرتبہ دیکھی گئی

“میں ایسے شخص کی نسبت کفر کے فتوے پر کیوں کر دستخط کر سکتا ہوں جس کو میں نے اپنی آنکھ سے آں حضرت صلعم کے ذکر پر چشم پر آب اور زار زار روتے دیکھا ہے۔”
مولوی سراج الدین احمد سنبھلی
سرسید کی زندگی میں ان کے مخالفین کی کمی نہ تھی۔ عجیب بات یہ ہے کہ آج بھی ان کی تعداد میں کمی نہیں آئی۔ سب سے بڑی شکایت ان سے یہ تھی اور ہے کہ وہ انگریزوں کی حکومت کے حق میں تھے۔ خیر، سرسید تو محکوم تھے اور برطانیہ اس وقت دنیا کی سپر طاقت تھا اور اس سے تصادم کی راہ اختیار کرنا اپنی تباہی کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ ہمیں پہلے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیے۔ آزاد ہوئے ستر سال سے زیادہ ہو گئے اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے جان و دل سے وفادار ہیں۔ امریکہ کی خاطر اپنے پانؤ پر آپ کلہاڑی مارنے کو تیار رہتے ہیں۔ پاکستان سے زیادہ امریکہ کے بہی خواہ ہیں۔ ہمارا مقتدر طبقہ ملک سے پیسہ چوری کر کے باہر کے بینکوں میں جمع کراتا رہتا ہے اور دوسرے ملکوں میں بڑی بڑی جائیدادیں خریدتا ہے۔ ان کی آبرو کبھی داغ دار نہیں ہوتی۔
1857ء میں مسلمانوں نے بالخصوص انگریزوں سے بے تدبیری سے لڑ کر دیکھ لیا تھا اور اس کا انجام ان کے حق میں اچھا نہ ہوا تھا۔ انگریز مسلمانوں سے خائف تھے، ہندوؤں سے نہیں۔ اس بدگمانی کا تدارک اسی طرح ہو سکتا تھا کہ ثبوت فراہم کیے جاتے کہ ہم بیرونی حکومت کے ساتھ صلح صفائی سے رہنا چاہتے ہیں اور سرسید اپنے افعال اور اقوال سے یہ تاثر دینے میں کامیاب رہے۔ انھی کے کہنے سے مسلمانوں کو احساس ہوا کہ اگر انھوں نے نئے نظام میں تعلیم حاصل نہ کی تو بالکل پچھڑ کر رہ جائیں گے۔ اس کا کچھ اندازہ ان اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے جن کے مطابق 1875ء میں تمام ہندوستان میں مسلمان گریجویٹس کی تعداد صرف بیس تھی اور ہندو گریجویٹس کی تعداد 846 تک جا پہنچی تھی۔ ہندوؤں کو شعور تھا کہ تیزی سے بدلتی دنیا میں تعلیم کی کیا اہمیت ہے۔ ویسے بھی ہندو ایک اعتبار سے انگریزوں کو اپنا محسن سمجھتے تھے اور انھیں یقین تھا کہ انگریزوں کے زیرِ سایہ رہ کر وہ مسلمانوں کو دوبارہ غالب نہ آنے دیں گے۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ انگریز کبھی ایک آدمی ایک ووٹ کے فارمولے پر کاربند ہوئے تو پھر حکومت کبھی مسلمانوں کے ہاتھ میں نہیں آ سکے گی۔ اکثریت ہندؤوں کی جو تھی۔ اس بنا پر سرسید کا یہ مشورہ مسلمان کانگریس میں شمولیت اختیار نہ کریں بہت اہم اور دوراندیشی پر مبنی معلوم ہوتا ہے۔ ان کو یہ تو پتا نہیں تھا کہ برصغیر بالآخر تقسیم ہو جائے گا اور بعض صوبوں میں حکمرانی کا حق، بلا شرکت غیرے، مسلمانوں کے ہاتھ میں آ جائے گا لیکن یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کی فکر کی اصابت نے پاکستان کی تخلیق میں کچھ نہ کچھ کردار ادا کیا ہے، بالواسطہ ہی سہی۔ انھوں نے بنارس کے انگریز کمشنر سے جو 1867ء میں کہا تھا اس پر آج بھی، حیرت کے ساتھ، غور کرنے کی ضرورت ہے۔ سرسید نے کہا تھا: “اب مجھ کو یقین ہو گیا ہے کہ دونوں قومیں کسی کام میں دل سے شریک نہ ہو سکیں گی۔ ابھی تو بہت کم ہے۔ آگے آگے اس سے زیادہ مخالفت اور عناد ان لوگوں کے سبب، جو تعلیم یافتہ کہلاتے ہیں، بڑھتا نظر آتا ہے۔ جو زندہ رہے گا وہ دیکھے گا۔” کمشنر نے کہا: “اگر آپ کی یہ پیشین گوئی صحیح ہو تو نہایت افسوس ہے۔” سرسید نے کہا: “مجھے بھی نہایت افسوس ہے مگر مجھے اپنی پیشین گوئی پر پورا یقین ہے۔” گارساں دے تاسی کا یہ جملہ بھی معنی خیز ہے۔ “ہندو اپنے تعصب کی وجہ سے ہر ایک ایسے امر سے مزاحم ہوتے ہیں جو ان کو مسلمانوں کی حکومت کا زمانہ یاد دلائے۔” آخر 1971ء میں اندرا گاندھی نے یہ جملہ یونہی نہیں کہا تھا کہ “ہم نے ہزار سال کی غلامی کا بدلہ لے لیا ہے۔”
الطاف حسین حالی کی زندہ جاوید تصنیف “حیاتِ جاوید” کو مدلل مداحی قرار دے کر مخاصمت کا اظہار کیا گیا تھا۔ یہ جملہ چست کرنے والے کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ غیرمدلل مداحی سب سے آسان کام ہے۔ مدلل مداحی کے لیے محنت بھی درکار ہوتی ہے اور عقل بھی۔ حالی نے یہ سوانح عمری بڑی ذہانت سے مرتب کی ہے اور ہمارے سامنے سرسید احمد کی ایسی تصویر سامنے آ جاتی ہے جس کے رنگ ماند نہیں پڑیں گے۔ تصنیف کے لائق مدون، حافظ صفوان محمد چوہان، نے صحیح لکھا ہے کہ “سنار کی قیراط تولنے والی تکڑی میں ہاتھی نہیں تل سکتا۔” ادب کی کسوٹیاں “حیاتِ جاوید” کا پاسنگ بھی نہیں سہار سکتیں۔” حالی کی نیک نیتی کا یہ ثمرہ ہے کہ “حیات جاوید” گزشتہ سوا سو سال میں مسلسل شائع ہوتی رہی ہے۔ صفوان صاحب اس کو ادبی متن کا درجہ نہیں دینا چاہتے۔ ایک حد تک ان کی بات درست ہے کہ کتاب میں نہ مبالغہ ہے نہ رنگیں بیانی۔ لیکن عبارت کی سلاست اور اپنے خیالات کو سہولت سے ادا کرنے کا قرینہ “حیاتِ جاوید” کو کچھ نہ کچھ ادبی شان ضرور عطا کرتا ہے۔ کوئی کتاب، خواہ اسے کسی نہایت اہم موضوع سے سروکار ہے، اگر عبارت کی دل نشینی سے محروم نظر آئے تو چند سال سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتی۔
سرسید کا متجسس ذہن ہمیں حیران کرتا ہے۔ اردو میں آثاریات پر پہلی کتاب انھوں نے لکھی۔ ہومیو پیتھی کا علم ہوا تو اس پر بھی توجہ دی۔ ہومیو پیتھی کے طریقِ علاج کو متعارف ضرور کرایا۔ انھوں نے خود کو کبھی معالج تصور نہیں کیا۔ پھر بھی یہ کیا کم ہے کہ ہومیوپیتھی میں ایک متبادل اور مفید طریقِ علاج کی جھلک دیکھ لی۔ مسلمانوں کی ان تصانیف پر توجہ دی جو اہم مگر نایاب تھیں، جیسے “آئین اکبری”۔ اپنی قائم کردہ سوسائٹی سے بعض مفید کتابوں کے اردو تراجم بھی شائع کیے لیکن جیسا حالی نے لکھا ہے: “افسوس ہے کہ ان کی کسی تجویز پر الاماشا اللہ کوئی معتدبہ توجہ قوم یا قومی انجمنوں کی طرف سے نہیں ہوتی۔” ہماری یہ روش آج بھی برقرار ہے۔ اسی امر پر تحقیق کرنے پر سرسید نے زور دیا کہ جو علوم مسلمانوں کو یونانیوں سے حاصل ہوئے ان پر ازخود کتنا اضافہ کیا۔
مسیحیوں کی طرف سے اسلام پر جو اعتراضات ہو رہے تھے اور رسول اللہﷺ کی ذاتِ مبارک پر جو الزامات لگائے جا رہے تھے ان کا جواب دیا۔ انگریزوں کی غلط فہمیوں کے ازالے کی غرض سے “اسبابِ بغاوتِ ہند” کے عنوان سے کتاب لکھی۔ ان کا سب سے اہم کام علی گڑھ کالج کی تعمیر تھی۔ اس سلسلے میں بھی ان کی خاصی مخالفت ہوئی لیکن حق یہ ہے کہ کالج کے قیام سے مسلمانوں میں، براہِ راست یا بالواسطہ، یہ احساس بیدار ہوا کہ تعلیم کے شعبے سے بے اعتنائی کے نتائج نہایت تکلیف دہ ہوں گے۔ تاہم ہندوؤں اور مسلمانوں کے تعلقات میں بڑھتی ہوئی سرد مہری کے باوجود سرسید کے مزاج میں تعصب نہ تھا۔ تقریباً دو سو ہندو طالبِ علم علی گڑھ کالج سے مختلف امتحانوں میں کامیاب ہوئے۔
کالج کی عمارتوں کی تعمیر کا خود خیال رکھا۔ برسوں بلاناغہ، سخت سے سخت موسموں میں، خود مدد پر جا جا کر بیٹھے اور سامنے راج مزدوروں اور سنگ تراشوں سے کام لیا۔ کالج کے باغ کی تیاری میں پہروں دھوپ اور لُو میں پھرے۔ زمین ہموار کی، ہل چلوائے، روشیں بنوائیں اور دور دور سے پودے منگوائے۔ تعمیر وغیرہ سے متعلق ہر کام ان کو اپنی رائے سے کرنا پڑتا تھا۔ کوئی انجنیئر یا اوورسیر نہ تھا جس سے صلاح کی جاتی نہ کوئی لائق مستری تھا جس کی تجویز یا رائے پر اطمینان ہو۔ جن دیہاتی معماروں سے کام لیا گیا انھوں نے اس قسم کی عمارتیں نہیں بنائی تھیں۔ ان وقتوں کے باوجود کام نہایت عمدگی سے مکمل ہوا۔ حالی لکھتے ہیں: “ہم نے سنا ہے کہ بعض یورپین انجینئروں نے کالج اور بورڈنگ پارٹس کی عمارتوں کو دیکھ کر تعجب ظاہر کیا ہے اور جب ان کو یہ معلوم ہوا کہ بغیر کسی تعلیم یافتہ انجینئر کی صلاح اور مشورے سے یہ عمارتیں تیار ہوئی ہیں تو اور بھی زیادہ متعجب ہوئے۔”
ادب میں سرسید کا کوئی بہت بلند مقام نہ سہی لیکن انھوں نے اپنی تحریروں میں سادہ اسلوب کو رواج دیا جس کی تقلید کی گئی۔ کہا جا سکتا ہے کہ اس ضمن میں غالب کو اولیت حاصل ہے اور کچھ شواہد شاید رجب علی بیگ سرور کے خطوط سے بھی مل جائیں۔ بہرحال غالب اور سرور نے سلیس اردو کو اپنے خطوط میں برتا۔ سرسید کے پیشِ نظر سادہ تحریر کی افادیت یہ تھی کہ ان کے لکھے کو سہولت سے سمجھ لیا جائے۔ تحریر ہو یا تقریر افادی پہلو ہمیشہ ان کے پیشِ نظر رہا۔ سرسید کی گھریلو زندگی اور خلوص پر جتنا زیادہ غور کیا جائے اتنی ہی زیادہ حیرت ہوتی ہے کہ ایسے دور میں، جب مسلمان ادبار کا شکار تھے، ایسا ہمدرد اور محنتی فرد ان کی صفوں سے کس طرح نمودار ہو گیا۔
جہاں تک مدلل مداحی کی بات ہے تو سچ یہ ہے کہ حالی سرسید کے عقیدت مند تھے اور ان سے یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی تھی کہ وہ اپنے ممدوح پر جا و بے جا نکتہ چینی کریں۔ اس کے باوجود جو باتیں انھیں کھٹکیں ان کا بلاتامل ذکر کر دیا ہے۔ لکھتے ہیں: “اس بات سے انکار نہیں ہو سکتا کہ آخر عمر میں سرسید کی خودرائی یا جو وثوق ان کو اپنی رایوں پر تھا وہ حدِ اعتدال سے متجاویز ہو گیا تھا۔ بعض آیاتِ قرآنی کے وہ ایسے معنی بیان کرتے تھے جن کو سن کر تعجب ہوتا تھا کہ کیوں کہ ایسا عالی دماغ آدمی ان کم زور اور بودی تاویلوں کو صحیح سمجھتا ہے۔”
سر سید کی تفسیر میں اس بات پر زور تھا کہ قرآن میں کوئی بات ایسی نہیں جو سائنسی حقائق کے خلاف ہو۔ یہ سوچ غلط تھی کیوں کہ سائنس کوئی مقدس چیز نہیں۔ جن نظریوں کو ایک وقت میں صحیح سمجھا جاتا ہے نئی تحقیقات کی روشنی میں انھیں کلّی یا جزوی طور پر مسترد کرنا لازم قرار پاتا ہے۔ قرآن الہامی کتاب ہے۔ اس میں درج ہر بات کو سائنسی معیارات پر پرکھنا عبث ہے۔ جس کائنات کا ہم حصہ ہیں اسے سمجھنے میں ہم کبھی کامیاب نہ ہو سکیں گے۔ جس دنیا میں ہم رہتے سہتے ہیں اس کے کتنے ہی گوشے ابھی تک سربستہ راز ہیں۔
تعلیم کے ضمن میں جو حالی نے لکھا یا سرسید نے کہا اس کی سچائی اب کُھل کر ہمارے سامنے آ چکی ہے۔ حالی کہتے ہیں: “چھتیس برس کے تجربے سے ان کو اس قدر ضرور معلوم ہوا ہوگا کہ انگریزی زبان میں بھی ایسی تعلیم ہو سکتی ہے جو دیسی زبان کی تعلیم سے بھی زیادہ نکمی، فضول اور اصلی لیاقت پیدا کرنے سے قاصر ہے۔” ایک سوال کے جواب میں سرسید نے کہا: “گورنمنٹ کی تعلیم اس اثر کے پیدا کرنے سے اس لیے قاصر رہتی ہے کہ مضامینِ تعلیم بے شمار ہیں اور کسی ایک مضمون میں لیاقت کافی نہیں ہوتی۔ اس ملک کے عام لوگوں کی رائے کثرتِ مضامینِ تعلیم کے خلاف ہے۔ “حالات ذرا نہیں بدلے۔ آج بھی طالب علموں کو بہت سے مضامین بلاوجہ پڑھائے جاتے ہیں اور جو عملی زندگی میں ان کے کسی کام نہیں آتے۔
ایک بڑی غلطی سرسید نے یہ کی کہ شام بہاری لال کو ملازم رکھا۔ یہ شخص بارہ سال بطور ہیڈکلرک کام کرتا رہا۔ سرسید کو اگاہ بھی کر دیا گیا تھا کہ شام بہاری لال پنجاب میں سرکاری ملازم رہ چکا ہے اور وہاں سرکاری روپیہ غبن کرنے کی علت میں سزائے قید پا چکا ہے۔ سرسید نے کوئی توجہ نہ دی۔ نتیجہ یہ شام بہاری لال کالج کا ایک لاکھ روپیہ غبن کرنے میں آسانی سے کامیاب ہو گیا اور جی بھر کر عیاشیاں کرتا رہا۔ سرسید کی خوش قسمتی تھی کہ یہ غبن ان کی زندگی میں ظاہر ہو گیا ورنہ ان پر الزام لگتا کہ وہ کالج کا فنڈ خورد برد کر گئے۔ سوچنا پڑتا ہے کہ سرسید نے اتنی بے پروائی کا ثبوت کیوں دیا۔ دراصل مسلمانوں میں یہ خیال راسخ تھا اور کسی حد تک آج بھی سننے میں آتا ہے کہ امرا اور شرفا چوں کہ عمدہ حسب نسب رکھتے ہیں اس لیے کوئی غلط کام نہیں کرتے اور کم اصل اور نیچ ذات کے لوگوں سے خیر کی توقع رکھنی حماقت ہے۔ یہ خیال سراسر مہمل ہے۔ سرسید نے سوچا کہ شام بہاری لال اچھے کائستھ خاندان سے ہے اور ایک دفعہ غلطی کر بیٹھا ہے تو دوبارہ نہیں کرے گا۔ اس سادہ لوحی کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ انیسویں صدی کے آخر میں ایک لاکھ کی رقم آج کل کتنے روپیوں کے برابر ہوگی، اس کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے۔ کروڑوں روپیوں سے کیا کم ہوگی۔
1889ء میں سرسید نے حسب ضابطہ ٹرسٹیوں کے تقرر اور دیگر انتظامات کے لیے ایک کوڈ بنایا۔ ایک دفعہ کی رو سے اپنے فرزند سید محمود کو جوائنٹ سکریٹری بنا دیا۔ حالی نے سرسید کے اس اقدام کا دفاع کیا ہے جس کی تائید نہیں کی جا سکتی۔ اس تقرری سے سرسید کے بعض پرانے ساتھی ناخوش ہوئے اور کالج کے معاملات سے لاتعلق ہو گئے۔ یہ سرسید کی غلطی تھی اور اس سے یہ تاثر ملتا تھا کہ یہ فیصلہ اپنی اصل میں ملوکانہ وضع رکھتا ہے۔
ایک اور واقعہ بھی خاصا ناگوار ہے۔ مارچ 1897ء کو رئیس پالن پور کالج کے ملاحظے کے لیے آئے۔ انھوں نے کالج کو پانچ سو روپیے چندہ دیا۔ غضب یہ کیا کہ دو ملازموں کو پچاس پچاس روپیے انعام میں دے گئے۔ یہ ان دنوں خاصی بڑی رقم تھی۔ سرسید نے تقاضا کیا کہ انعامی رقم بھی چندے کے طور پر کالج کو دے دی جائے۔ اس پر ملازم رضامند نظر نہ آئے۔ چناں چہ سرسید نے دھمکایا کہ اگر تم نے میرا کہا نہ مانا تو تمھیں فی الفور ملازمت سے برطرف کر دیا جائے گا۔ ملازموں نے مجبور ہر کر رقم سرسید کو تھما دی۔ اس حرکت کو بلیک میلنگ کے سوا کوئی نام نہیں دیا جا سکتا۔
کچھ عرصہ پہلے ایک مضمون نظر سے گزرا جس میں سرسید کو اوسط درجے کا آدمی قرار دیا گیا تھا۔ معلوم نہیں مضمون نگار کس بلند و بالا پیڈسٹل پر تشریف فرما تھے۔ سرسید کی شہرت تو برقرار رہے گی۔ مضمون نگار کا نام کسی کو یاد رہے گا۔ اس میں شک ہے۔
یہ کہنے میں مضائقہ نہیں کہ صفوان صاحب نے “حیاتِ جاوید” کی تدوین میں بڑی ذہانت کا ثبوت دیا ہے اور ایک ایسا متن مرتب کیا ہے جو ہمیشہ کارآمد اور مستند معلوم ہوگا۔ ہمارے ہاں کتابوں کی تدوین اور پروف خوانی پر یوں ہی سی توجہ دی جاتی ہے۔ کمپوز کرنے والوں کے “ایجادِ بندہ” قسم کے کمالات اس پر مستزاد ہیں۔
بہرحال، صفوان صاحب کے تردد سے ایک قابل اعتبار متن ہمارے سامنے آ گیا ہے جو حواشی ہیں اور وہ بھی کام کے ہیں۔ فرہنگ کی افادیت الگ ہے۔ نئے پڑھنے والے صحافیانہ زبان کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ ان الفاظ کو سمجھنا ان کے لیے مشکل ہے جو پڑھنے اور سننے میں نہیں آتے۔ “اسبابِ بغاوتِ ہند” کا اردو متن اور انگریزی ترجمہ بھی صفوان صاحب الگ سے چھپوا چکے ہیں۔ اس کتاب پر آیندہ کبھی بات ہوگی۔
حیاتِ جاوید از مولانا الطاف حسین حالی
تدوین: حافظ صفوان محمد چوہان
صفحات: 1106؛ بارہ سو روپیے