اپنی حراست میں گزری ہوئی زندگی

یہ تحریر 439 مرتبہ دیکھی گئی

“کلیات” چھ مجموعوں پر مشتمل ہے۔ پہلا مجموعہ “پیاس بھرا مشکیزہ” 1994ء میں شائع ہوا تھا اور چھٹا “شش جہات” 2021ء میں۔ چار سو سے کچھ زیادہ غزلیں۔ گویا یہ شعری سرمایہ ستائیس برس کی کشمکش کا حاصل ہے۔ غزل کا ہر شعر، ہر نظم، کشمکش سے کم نہیں کیوں کہ ہر کھرا شاعر یہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ اپنے آپ کو کتنا ظاہر کرے، کتنا چھپائے۔ کبھی کبھی یہ فیصلہ کرنے میں غلطی بھی ہو جاتی ہے۔ جو چھپانا چاہتے ہیں وہ ظاہر اور جسے ظاہر کرنا مقصود تھا وہ پوشیدہ۔ چلمن سے کب تک لگے بیٹھے رہیں!
معلوم نہیں کلیات میں وہ سب غزلیں شامل ہیں جو اس تقریباً ربع صدی میں قمر رضا شہزاد نے کہیں۔ شاید بعض غزلوں کو مسترد کر دیا ہو۔ یہ خوب ہے، اور ایسا کم ہوتا ہے، کہ انھوں نے کسی شاعر یا نقاد کو تقریظ نما تحریر لکھنے پر اکسایا نہیں۔ اس میں تو مضائقہ نہیں۔ مشکل یہ ہے کہ خود بھی دو چار جملوں سے زیادہ کچھ نہیں لکھا۔ یہی کہا ہے کہ “میری غزل کی عمارت میں زیادہ تر میری اپنی ہی مٹی استعمال ہوئی۔” یعنی یہاں سنگ و خشت کی تعمیر سے واسطہ نہیں، مٹی کا حرم سامنے ہے۔ ہم مٹی ہی سے اگے ہیں اور مٹی ہی میں مل جائیں گے۔
غزلوں میں کیا کہا گیا ہے، کس طرح کہا گیا ہے، اس کی تفسیر مشکل ہے۔ غزل کا ہر شعر بجائے خود ایک نظم ہے اور ردیف اور قافیہ سلائی کا کام کرتے ہیں تاکہ غزل بکھر نہ جائے۔ چناں چہ کسی غزل گو کی ترجیحات، خود سے یا دوسروں سے یا دنیا سے لگاؤ یا رکاؤ کا سراغ لگانا آسان نہیں ہوتا۔ چار پانچ سو اشعار سے، جو مزاج کے لحاظ سے، اکثر ایک دوسرے کی ضد ہوتے ہیں، ادھورے سدھورے مطالب برآمد کرنا آزمائش سے کم نہیں۔ اسی لیے غزل پر پراگندہ خیالی کا الزام عائد ہوتا رہا ہے۔
اپنی حراست میں زندگی سے کیا مراد ہے؟ ہم سب فرداً فرداً اپنی “میں” کے اسیر ہیں جس کے بارے میں ہمیں زیادہ معلوم نہیں۔ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی حرکات، افعال، فکر، نفرتوں اور محبتوں کے خود ذمے دار ہیں۔ یہ درست نہیں۔ “میں” ہمیں اپنا آلہء کار بناتی ہے اور اس “میں” سے جو شاید لامحدود ہے ہم ناواقف ہیں۔ اقبال نے خود سے آگاہ نہ ہونے کی جو بات کی تھی وہ محض خیال آفرینی یا عجز نہیں۔ اس نامکمل واقفیت کا اظہار قمر رضا شہزاد کے کلام میں جا بجا نظر آتا ہے۔
تو مجھے حلقہء یاراں میں کہاں ڈھونڈتا ہے
میں تو خود اپنی رفاقت میں بھی کم ہوتا ہوں

چھپا ہوا ہوں کہیں اپنے خوف سے صاحب
کہاں ہوں میں مجھے میرا پتا نہ لگ جائے
میں کیسے ہاتھ ملاؤں یہاں کسی کے ساتھ
مری تو خود سے بھی کوئی دعا سلام نہیں۔
ایک اور کیفیت خالق سے گلے کی ہے:
ہر ایک ہاتھ میں یا کاسہء گدائی دے
وگرنہ سب کے لیے رزق بے حساب اتار
یہی محنتوں کا صلہ رہا تو پھر اے خدا
مجھے لطف رزق حلال میں نہیں آئے گا۔
جب نہیں کوئی اختیار مجھے
پھر جزا اور سزا تماشا ہے
رزقِ ہنر کاسہء تشہیر میں ہے۔ اپنا حصہ تو سب لے جائیں گے اور ہم ساری عمر قطار میں رہیں گے۔ یا اس سے بھی تکلیف دہ بات کہ اس آدمی کا کیا بنے گا جو کسی قطار میں نہیں۔ زندگی کے بعض پہلو جچے تلے انداز میں بیان کر دیے گئے ہیں۔ اگرچہ وہ خوش کن نہیں، جیسے جیتنے کے باوجود ہار کا ڈر اعصاب پر چھایا رہتا ہے۔ اس کاروبار محبت میں جو گنوایا ہے وہی بچا ہے مجھے۔ تھکے ہوئے سروں کو کیا علم کہ انکار کا راستہ الگ ہے۔ یہ بھی کہا ہے کہ نیا کچھ بھی نہیں: وہی باتیں بہ اندازِ دگر دہرائی جاتی رہتی ہیں۔ وہی لوگ، وہی گفتگو، وہی انداز؛ وہی کہانی، وہی قصہ گو، وہی کردار۔ مگر اس تکرار کے باوجود کوئی اکتاتا نہیں۔ لوگوں کی خوف زدگی کا یہ عالم کہ ہوا چلنے سے پہلے ہی چراغ گل کر دیتے ہیں۔ دورِ حاضر کی ریاکاری پر طنز کہ ابھی تو قتل کا فرمان جاری کر رہا ہوں۔ بعد میں مقتول پر گریہ بھی کروں گا۔ یا گھروں میں سچی خوشی نہیں ملتی کہ لہو کی سب نسبتیں تجارتی ہیں۔
غرض کہ ایک بگڑی ہوئی دنیا سامنے ہے جسے سدھارنے کی ہمت باقی نہیں رہی۔ شاعر حق پر ہے کہ یہ ہمت کسی میں بھی نہیں۔ نعرے بازیوں، جلسے جلوسوں، ٹی وی پر یا اخباری کالموں میں اپنی سیاسی، سماجی، اقتصادی سوجھ بوجھ کا رعب جمانے سے دنیا نہیں بدلتی؛ البتہ جیب بھاری یا ہلکی ہو سکتی ہے۔
رنج اور محرومی کی جس کیفیت سے دوچار ہونے کا موقع ملتا ہے (بلکہ موقع بھی کیا، یہ تقدیری امر ہے) وہ نئی تو نہیں لیکن زمانہ جتنا آگے بڑھتا جا رہا ہے بے بسی میں اسی تناسب سے اضافہ ہو رہا ہے۔ بے بسی نئی نہ سہی، مگر پہلے کچھ تیقنات تھے۔ وہ بھی اب کھوکھلے ہو چکے ہیں۔
تاہم یاس کے ان منظروں میں عزم کی چنگاریاں بھی ہیں اور شاعر ایسی دنیا بسانا چاہتا ہے جہاں کسی پر بھی کسی کی حکمرانی نہ ہو۔ دشوار زندگی بھی قبول ہے مگر جس میں کہیں کہیں آسانیاں بھی ہوں۔ یہاں منیرنیازی یاد آتا ہے جس نے کہا تھا کہ میں ایسی زندگی گزارنے کا تمنائی ہوں جو موجودہ زندگی جتنی مشکل نہ ہو۔ لیکن کیا اس دنیا میں یہ کبھی ممکن ہوا ہے یا ہوگا؟
مجموعی طور پر قمر رضا شہزاد ایسے شاعر ہیں جنھیں معاصرانہ الجھنوں کو شعر کا جامہ پہنانے کا ہنر آتا ہے۔ بہرحال، ان کی کاوش کہیں کامیاب ہے، کہیں نیم کامیاب، کہیں نیم دلانہ۔ کلیات میں اچھا برا سب رلا ملا ہوتا ہے۔ کوئی منصفانہ انتخاب ان کی خوبیوں کا شاید وافی احسان دلا سکے۔ لیکن ابھی تو انھیں، بقولِ خود، دشتِ ذات عبور کرنا ہے اور اس دشت کی ابتدا ہے نہ انتہا۔ کاش اس تلاش میں ایسی جہت تک جا پہنچیں جہاں لفظ اور طرح کے ہوں اور آہنگ اور طرح کا۔ عمر بھر صفِ دوستاں میں نہیں رہنا تو ہمیں حیران کرنے کا کوئی اہتمام بھی کریں۔
خاک زار از قمر رضا شہزاد
تقسیم کار: کتاب نگر، ملتان کینٹ
صفحات: 512؛ دوہزار پانچ سو روپیے