The Savage God

یہ تحریر 337 مرتبہ دیکھی گئی

اس کتاب کا علم شمیم حنفی صاحب کی ایک گفتگو سے ہوا تھا۔ ایک شام ان کے گھر پر ادب میں موت اور خودکشی کا ذکر نکل آیا۔ دوران گفتگو انہوں نے اس کتاب کا بطور خاص ذکر کیا اور یہ بھی کہا کہ بلراج مین را اس پر ’شعور‘ کا نمبر نکالنا چاہتے تھے۔ تم مین را کی لائبریری میں دیکھنا شایدکتاب مل جائے۔ بلراج مین راکی ذاتی لائبریری میں کتاب مل گئی۔ کتاب ایسے وقت میں ملی جب شمیم صاحب رخصت ہوچکے تھے۔ Al Alvarez کی اس کتاب کا ان کے ذہن پر گہرااثر تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہاتھاکہ موقع ملے تو اس کا ترجمہ کرنا۔ کم وبیش ایک سال ہوا سلیم الرحمن صاحب سے کتاب کی حصولیابی، بلراج مین را کے منصوبے اور شمیم حنفی صاحب کی دلچسپی کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ کتاب کا نام سنتے ہی ان کی زبان سے Alvarez نکل آیا۔ اس سے اندازہ ہوا کہ 60 اور 70کی دہائی میں چند ایسی کتابیں تھیں جو دہلی اور لاہور کے سنجیدہ حلقے میں یکساں طور پر مقبول تھیں۔ سلیم الرحمن صاحب نے کتاب کے بارے میں چند باتیں بتائیں اور اس کو بالاستیعاب پڑھنے اور پھر کچھ لکھنے کا مشورہ دیا۔ یہ مختصر سی تحریرمحمد سلیم الرحمن صاحب کی تحریک کا نتیجہ ہے۔


Alfred Alvarez پانچ اگست 1929 کو پیدا ہوئے اور 23 ستمبر 2019 کو 90 سال کی عمر میں انتقال ہوا۔ انگریزی شاعر ناول نگارمضمون نگار اور نقاد کی حیثیت سے انہیں شہرت ملی۔ ’The Savage God‘ خاص طور پر گفتگو کا مرکز بنی رہی۔ Alvarez کی کتابوں کی تعداد 21 ہے۔ انہوں نے مختلف موضوعات پر غور وفکر کا سلسلہ جاری رکھا۔
موت اور خودکشی یہ دو ایسے موضوعات ہیں جن میں ادیبوں اور شاعروں کی دلچسپی کبھی ختم نہیں ہوگی۔ اردو میں 60 اور 70 کی دہائی موت اور خودکشی کے لیے بطور خاص یاد رکھی جائے گی۔ اب اردو میں کوئی کتاب ان موضوعات پر آتی ہے تو کچھ لوگ اسے یہ کہہ کر رد کرتے ہیں کہ اب ان مسائل میں کیا رکھا ہے۔ خصوصاً وہ لوگ جنہوں نے موت اور خودکشی پر انگریزی اور فرانسیسی ادیبوں کی تخلیقات پڑھی ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ اب موت اور خودکشی کے تعلق سے کوئی نئی جہت پیدا کرنا مشکل ہے۔ پھر بھی کم سے کم خودکشی ایک ایسا موضوع ہے جو آج بھی انسانی معاشرے کی ایک بڑی سچائی ہے۔ موت کی عمر خودکشی سے زیادہ لمبی ہوتی ہے یا خودکشی کی عمر موت سے زیادہ بڑی ہوتی ہے؟۔ اس سوال کا جواب صرف موت ہی فراہم کر سکتی ہے۔ لیکن خودکشی فطری طور پر انسانی معاشرے کی یادداشت کو جھنجھوڑتی ہے اور ایک طویل عرصے تک ذہنوں سے محو نہیں ہوتی۔ اس معنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ خودکشی کی عمر موت کے مقابلے میں لمبی ہوتی ہے۔اسی عرصے میں کامیو کی’A Happy Death‘ اور ’Erwin Stengel کی کتاب Attempted Suicide‘ بھی مطالعے میں آگئی۔ اس طرح ’دی سیویج گاڈ‘کئی دوسرے متون کے ساتھ کچھ زیادہ توجہ طلب بن گئی ہے۔ ’The Savage God‘ 1971 میں شائع ہوئی اور یہی پہلا ایڈیشن ہے جو بلراج مین را کے مطالعہ میں تھا۔ جگہ جگہ مین را نے لال روشنائی سے نشانات لگائے ہیں۔ ان نشان زد جملوں کو پڑھنے سے مین را کی قرأت کا تجربہ ایک حد تک سامنے آجاتا ہے۔ یہ کتاب مجموعی طور پر اردو کے ادبی حلقے کے لیے نئی ہے لیکن ایک مرتبہ اس کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے۔ خودکشی کے بارے میں جو آگہی کتابوں کے وسیلے سے حاصل ہوتی ہے اس کی حیثیت بڑی حد تک نظریاتی ہوتی ہے۔کوئی تحریراسی وقت نظریاتی بنتی ہے جب موضوع کے بارے میں علمی اور معروضی طور پر سوچاجائے۔علم جب احساس میں تبدیل ہونے لگتاہے توپھر تحریر صرف نظری نہیں رہ جاتی۔خود کشی کے بارے میں جتنی باتیں بھی لکھی یاپڑھی جائیں وہ ایک حیرت کاسبب ہمیشہ بنی رہتی ہے۔خودکشی اپنی ذات سے انتقام ہے یازمانے سے دونوں ہی باتیں موقع اور محل کے اعتبارسے درست ہوسکتی ہیں۔اپنی ذات سے انتقام ہو یازمانے سے دونوں کے بارے میں ہر شخص گہرائی کے ساتھ غور نہیں کرسکتا۔سارامسئلہ توغوروفکرکاہے۔انسان کی داخلی دنیارفتہ رفتہ کن تصورات اور خیالات کے ساتھ بنتی جاتی ہے اس کاعلم تو اس شخص کوبھی بہت تاخیر سے ہوتاہے اور کبھی ہو بھی نہیں پاتا کہ یہ دنیااس کی گرفت سے باہر ہے۔خودکشی ایک اندھیری دنیاکاسفر ہے یایہ دنیا پہلے سے انسانی وجود میں بستی ہے۔اس موضوع پرغور کرتے ہوئے جوخیالات تخلیقی اور نظری طور پر ذہن میں ابھرتے ہیں ان سب کو یکجاکرکے دیکھاجائے تو اس کاحاصل خودکشی ہے۔
Alvarez کے والدین کے بارے میں کہاجاتاہے کہ انہوں نے بھی خودکشی کی کوشش کی تھی۔ظاہر ہے کہ اپنے والدین کو کسی انتہائی صورت حال کی طرف جاتے ہوئے دیکھناگویا دل ونگاہ کو اس صورت حال کاگواہ بناناہے۔انسان زندگی میں بہت سی گواہیوں سے انکارکردیتاہے۔یاچیزیں اسے اتنی متاثر نہیں کرتیں کہ وہ ہر جگہ خود کو ایک گواہ کے طور پر پیش کر سکے۔لیکن قدرت کاعجیب نظام ہے کہ والدین کے تعلق سے کوئی بھی واقعہ زندگی کاعنوان بن جاتاہے۔’The Savage God‘کے پیش لفظ کامطالعہ اس لیے ضروری ہے کہ دیکھاجاسکے کہ Alvarez کی اس کتاب کی جڑیں کتنی دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔
”جب میں اسکول میں تھاتووہاں ایک غیرمعمولی طور پرنرم مزاج اور غیر منظم فزکس کااستاذ تھاجو خودکشی کے بارے میں مسلسل مزاحیہ اسلوب میں بات کررہاتھا۔وہ ایک چھوٹے قد کاآدمی تھاجس کاچہراسرخ تھا،جو ایک گہرے سرمئی رنگ کی شال سے ڈھکاہواتھا۔ ایک پریشان مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پرتھی۔کہاجاتاہے کہ اس نے اپنے بیشتر ساتھیوں کے برعکس کیمرج میں اپنے سبجکٹ میں اول درجہ حاصل کیاتھا۔ایک دن سبق کے اخیر میں اس نے نرم انداز میں کہاکہ جو بھی اس کاگلہ کاٹتاہے اسے ہمیشہ احتیاط سے اپناسر بوری میں ڈالناچاہیے،ورنہ وہ ایک خوفناک گندگی چھوڑ دے گا۔سب ہنسنے لگے پھر ایک بجے کی گھنتی بجی اور تمام لڑکے لنچ کے لیے روانہ ہوگئے۔فزکس کے استاذ سائکل چلاکر سیدھے گھر پہنچے۔اپناسر بوری میں ڈالااور گلاکاٹ لیا۔میں بہت متاثر ہواماسٹر کو بہت یاد کیاگیاکیوں کہ اس تاریک سماج میں اچھاآدمی تلاش کرنا مشکل تھا۔لیکن اس کے بعد ہونے والے اسکینڈل کی تمام خاموشی اورگونج میں یہ کبھی میرے ذہن میں نہیں آیاکہ اس نے کچھ غلط کیاہے۔بعد میں،میں ڈپریشن کاشکار ہو گیا اور سمجھناشروع کیا۔یہاں تک کہ ماہر نفسیات بھی اس موضوع پرگریز کرتے نظر آتے ہیں۔۔۔میری تحقیق جتنی تکنیکی تھی اتناہی زیادہ مجھے یقین آتاگیاکہ میں نے خودکشی کو ادب کے نقطہ نظرسے بہتر طور پر دیکھاہے۔یہ تخلیقی لوگوں کی تخیلاتی دنیاکو کیسے اور کیوں کررنگ دیتاہے۔نہ صر ف ادب ایک ایسا موضوع ہے جس کے بارے میں کچھ جانتا ہوں بلکہ یہ ایک نظم وضبط بھی جس کاتعلق ہر چیز سے زیادہ ہے۔یہ کتاب یہ جاننے کی کوشش ہے کہ یہ چیزیں کیوں ہوتی ہیں۔اس کاآغاز سلویاپلاتھ کی یادداشت سے ہوتاہے۔نہ کہ صرف اس کو خراج تحسین کے طور پر کیوں کہ میرے خیال میں وہ ہمارے وقت کی سب سے زیادہ باصلاحیت مصنفین مین سے ایک تھیں۔میں چاہتاتھاکہ کتاب شروع ہوتے ہی ایک تفصیلی کیس ہسٹری کے ساتھ ختم ہو“۔
Alvarez نے کامیو کے دی متھ آف سیسی فس اورکچھ دوسری تحریروں کاحوالہ دیاہے۔ایک عام آدمی اور ایک ذہین آدمی خود کشی کے بارے میں کیاسوچتاہے ان سب معاملات پر سنجیدگی سے غور کیاہے۔وہ خودکشی کے بارے میں کسی بھی رویے یاخیال کو رد نہیں کرتے۔وہ اس بات سے کچھ پریشان بھی ہیں کہ لوگ تفصیلات اور تجاویز پیش کرتے ہیں اور ہر گفتگو میں وہ ان سے کام لینا چاہتے ہیں۔انہیں یہ دعوی ہے کہ یہ کتاب حوالہ جات اور تفصیلات کاایک عمدہ نمونہ ہے۔انہوں نے اس کتاب کی تخلیق کو فراخ دلانہ پیشگی اور فکری آزادی بتایاہے۔وہ سلویاپلاتھ کی اس زندگی کو دیکھنے کی شدید خواہش کااظہار کیاہے جو موت سے پہلے کی ہے۔انہوں نے پیش لفظ میں یہ بھی لکھاہے کہ خودکشی کے موضوع پر ایک غیر کی طرح بات کرناکچھ اور ہے اور اسے محسوس کرکے موضوع گفتگو بنانا کچھ اور۔’The Savage God‘ کے بارے میں یہ چند باتیں ملاحظہ کیجیے۔
1 یہ سلویاپلاتھ کی ایک یادداشت سے شروع ہوتی ہے اور مصنف کی اپنی خودکشی کی کوشش پر ختم ہو جاتی ہے۔
2 ثقافت خود کشی کو کس طرح دیکھتی ہے اور خودکشی فنون پر کیااثرات مرتب کرتی ہے۔جو لوگ خود کشی کی طرف راغب ہوتے ہیں وہ اکثر خود کواس کی طرف گامزن پاتے ہیں۔لوگ کسی خاص موڈ میں خود کشی کافیصلہ کر لیتے ہیں اور وہ خود کشی نہیں کرتے۔گویاگزرتے وقت کے ساتھ خودکشی کے ارادے سے چھیڑ چھاڑ کرناایک معنی میں خودکشی کے فطری فیصلے کو رسوا کرناہے۔ خودکشی کے فیصلے کو ٹالنا ایک معنی میں مشق کی طرح ہے۔یاپھر طوالت خود کشی کو بے دلی سے بچاناچاہتی ہے۔وہ اس لیے کہ بے دلی کے ساتھ خود کشی نہیں ہو سکتی۔
3 خودکشی کے جو مضافات ہیں ان کی طرف نگاہ اکثر اوقات نہیں جاتی اور خودکشی ہی موضوع گفتگو بن جاتی ہے۔ Alvarez نے خود کشی کے مضافات کو دیکھاہے۔لیکن خودکشی کے نفسیاتی پہلو پر اتنی توجہ صرف نہیں کی جتنی کہ کی جاسکتی ہے۔نفسیاتی گرہوں کو سمجھے اور کھولے بغیرکوئی بیانیہ بھی بہت پر اثر نہیں ہو سکتا۔
4 اس کتاب کو اپنے موضوع پر کلاسک کادرجہ حاصل ہے یاابھی اسے نو کلاسک کہاجائے گا۔اس کافیصلہ وقت ہی بہتر طور پر کرسکتاہے۔
28/01/2023