غزل

یہ تحریر 66 مرتبہ دیکھی گئی

زوال وحشتیں کرتا ہے غل مچاتا ہے
صدا کا قحط مگر ہے کہ بڑھتا جاتا ہے

خدا کے ساتھ ازل سے سبھی کا ناتا ہے
جب ابتلا سے گذرتے ہیں یاد آتا ہے

صبا سرگوشیاں کرتی ہے پھول کانپتے ہیں
جو دیکھتا ہے وہ رنگوں میں ڈوب جاتا ہے

کہیں ستارہ و گل ہیں کہیں صداو سکوت
عجب تماشائے عبرت کہ دل لبھاتا ہے

میں رخت باندھ کے بیٹھا ہوں راستے کا چراغ
گئے ہووں کی مجھے داستاں سناتا ہے

اک ایسا شخص جسے شکر کا قرینہ نہیں
جو سادہ دل سے وہ کہہ دے وہ اس کو بھاتا ہے

خدا کا نام مرا آخری سہارا تو ہے
وہی بناتا ہے مجھ کو وہی جلاتا ہے

فساد یہ ہے کہ تو روشنی کو آگ کہے
مراد یہ ہے کہ دل دل کو آزماتا ہے

کوئی قرینہ نہ ہو پھر بھی دل کہے گا یہی
جو کہکشائیں بناتا ہے وہ ہی داتا ہے