غزل

یہ تحریر 25 مرتبہ دیکھی گئی

چودہ برس جمال کا سورج طلوع ہوا
پھر اس کے خدوخال کا سورج طلوع ہوا

دنیا بسیط رات میں کھاتی تھی ٹھوکریں
پھر یوں کہ اک خیال کا سورج طلوع ہوا

ذہنوں کی سر زمین تھی بنجر کٹھور شور
جب تک نہیں سوال کا سورج طلوع ہوا

کی اس نے ہم سے پرسشِ احوال جس طرح
زخموں پہ اندِ مال کا سورج طلوع ہوا

جو خواب دیکھتے تھے وہ سب خواب ہو گئے
جب تک کہ ان پہ حال کا سورج طلوع ہوا

ہر شخص شاد کام تھا ہر شخص بے گمان
جب شہر پر زوال کا سورج طلوع ہوا

میں ہار مان کر بھی اسے جیت نہ سکا
مجھ پر نہ اس کے حال کا سورج طلوع ہوا

دنیا جہاں پہ مجھ کو سمجھتی تھی اب گیا
مجھ پر وہیں کمال کا سورج طلوع ہوا

جتنا بڑا زوال ہے اتنا بڑا سوال
ہم پر ہی کیوں وبال کا سورج طلوع ہوا

ہم پر وبال بن کے اتر آئی چپ کی ریت
دنیا پہ قیل وقال کا سورج ہوا