غزل

یہ تحریر 264 مرتبہ دیکھی گئی

دوسرے کنارے سے یوں پکارنے والے
کون تیری خاطر اب اِس طرف دیا بالے

روشنی غضب اُجلی جیسے تیرا چہرہ ہو
ساتھ ساتھ چلتے ہیں سائے بھی بہت کالے

کون ہے جو آئے گا ، اب کوئی نہیں آتا
دل کے در پہ پھیلے ہیں مدتوں سے یہ جالے

گم ہوئے ہیں خود ہم بھی اور وہ بھی گم شاید
گم رہی کے ہم نے بھی روگ یہ عجب پالے

وقت کے ٹلانے کے یوں تو سو بہانے ہیں
جھریوں کو چہرے کی کوئی کس طرح ٹالے

عقل سے ہیں پیدل بھی ، جہل میں مکمل بھی
ایسے خود پرستوں سے واسطہ نہ رب ڈالے

تجھ کو ہوش آئے گا ، اے سہیل اس لمحے
اس گلی میں جا کر جب جان کے پڑیں لالے

سلیم سہیل
http://auragesabz.gamecraftpro.com/%d8%b3%d9%84%db%8c%d9%85-%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84/