غزل

یہ تحریر 617 مرتبہ دیکھی گئی

موسم  سے جو نِکھر سکتا ہے

موسم  اُسی  پہ  بپھر سکتا ہے

مرنے  کی  دھمکی  دینے  والا

سچ مُچ   بھی  تو  مر سکتا ہے

جو کہتا ہے کہ بھول چُکا ہوں

کب   وہ   ایسا   کر سکتا ہے

اور کِسی  کے غم میں دِوانہ

تیرا  نام  بھی دھر سکتا ہے

تیری بہت سی چاہت سے بھی

چاہنے   والا    ڈر  سکتا  ہے

چڑھا تو ہے رنجش کا دریا

کِسی بھی وقت اُتر سکتا ہے

کر جو نہ پائیں فرشتے نہ شیطاں

وہ   کر  بندہ   بشر  سکتا   ہے

صبر آ جائے جو مان لے خالد

کبھی  وہ دِل  سے اُتر سکتا ہے