خواب، خیال میں

یہ تحریر 447 مرتبہ دیکھی گئی

ٹھہرو۔۔۔۔۔۔۔!

کسی نے افواہ چھوڑی ہے،

کہ مجھے،

تم سے محبت ہے۔

سنو! 

مجھے تم سے محبت نہیں۔

اور ہاں۔۔۔

جسے تم پیار سمجھتی ہو،

میرے ہاں ایک دو پل کی لطافت ہے۔

جسے تم محبت کا نام دیتی ہو،

وہ محبت نہیں۔

 ہوس ہے

ایسی ہوس، جو ہونٹوں کی پوستگی سے شروع

اور وصل پر ختم۔

تمہارے عشق کو

میں پسند کا نام دیتا ہوں

سچ کہوں!

مجنون ہوں۔ 

رشتے بنایا کرتا ہوں۔

مگر

 تمہارے ساتھ مجھے پسند کا رشتہ بھی 

گوارا نہیں

لیکن ذرا سوچو!

جس کو میں عشق سمجھتا ہوں 

اس کی انتہا کیا ہو گی۔ 

اور وہ عشق 

اس عاشق کا نام ہے 

جس کے ہاتھ میں ریشہ آ چکا ہو

مگر قلم، ہنوز محو جنبش ہو۔

جنبش سے ایک ہی صدا آ رہی ہو

تم سے تمہارا چھینا ہوا وہ،

ابھی تک،

اسی دوراہے پر کھڑا

 محو خیال ہے!

 کہ تمہاری سوچوں میں 

سوچ اسی کی ہو گی۔