حسرت

یہ تحریر 214 مرتبہ دیکھی گئی

بغیر آلارم لگائے
میں سونا چاہتا ہوں
تمہاری یادوں کو بھلائے
کدورتیں مٹائے
میں سونا چاہتا ہوں
میں چاہتا ہوں کہ نیند ایسی آئے
جس میں نہ تم ہو، نہ میں ہوں
اور نہ ہی زندگی کا یہ تصور ہو
نہ خواب ادھورے ہوں
نہ خواہشیں ناصبوری ہوں
نہ ہو چاہت تمہاری
اور نہ ہی یہ عالم وحشت
میں چاہتا ہوں کہ نیند ایسی آئے
جس میں
ایک ہی یاد، ایک ہی لمحہ اور ایک ہی منظر ہو
وہ منظر جو کھو گیا تھا
وہ لمحہ جو ٹھہر نہ پایا
اور وہ یاد جو بکھر گئی تھی