انیس احمد کا “نکا” بڑا ناول ہے

یہ تحریر 224 مرتبہ دیکھی گئی

ایک:
یاد نہیں کہ پچھڑی جاتیوں یا نیچ اور حقیر سمجھی جانے والی کمیونٹیوں کی دکھ بھری زندگیوں پر پاکستان میں کوئی اردو ناول لکھا گیا ہو۔ اردو فکشن میں جوگیوں, سپیروں, کمہاروں, چماروں، چنگڑوں، سانسیوں، ماچھیوں، نائیوں اور چوہڑوں کا کردار مختصر کہانیوں ہی میں ملتا ہے۔ ناول میں ان طبقوں کی نمائندگی عموما کسی کم اہم کردار ہی کے روپ میں کی جاتی رہی ہے۔ مستنصر حسین تارڑ کے ناول “خس و خاشاک زمانے” میں سرو سانسی کا کردار اس کی ایک مثال ہے۔ تاہم انڈیا میں ایک ناول “چمراسر” کے نام سے شموئل احمد نے لکھا ہے جس میں چھوٹی جاتی کے کردار کی سیاسی اور سماجی مشکلات اور ان کے پس منظر کو سادہ مگر تہہ دار اسلوب میں بیان کیا گیا ہے۔ انڈیا ہی کی دوسری زبانوں,مثال کے طور پر مراٹھی, گجراتی، کنڑ، پنجابی اور ہندی میں تو چھوا چھوت پر اچھا خاصا ادب لکھا گیا ہے جسے کہانیوں, ناولوں اور آپ بیتیوں کے ترجموں کی صورتوں میں اجمل کمال کے رسالے “آج” کے مختلف شماروں میں پڑھا جا سکتا ہے۔
ایسا اردو ناول, جس میں اوپر ذکر کی گئی ساری کی ساری پچھڑی جاتیوں کے کرداروں کے المیے کو ایک خاص ماحول اور وقت میں ایک ساتھ تفصیل سے بیانیے میں لایا گیا ہو,انیس احمد کے حال ہی میں شائع ہونے والے ناول “نکا” سے پہلے، میری نظر سےنہیں گزرا تھا۔

دو :
انیس احمد کون ہیں؟ وہ کب سے فکشن لکھ رہے ہیں۔ ان کی اب تک کی فکشن کی کتنی کتابیں آئیں اور وہ کہاں سے شائع ہوئیں ہیں؟ یہ وہ سوال ہیں جن کے جواب سے میں اور میرے احبابجن میں زیادہ تر ناول نگار, افسانہ نگار, شاعر اور کتاب بین ہیں لاعلم ہیں۔ بھلا ہو دوست مقصود خالق کا جن کی محبت اور وساطت سے مجھے انیس احمد کے ناول “نکا” کو پڑھنے اور انجمن ترقی پسند مصنفین کے اجلاس میں اس پر اظہار خیال کا موقع ملا۔ اس محفل میں انیس احمد سے جتنا تعارف ہو سکا وہ میں قارئین کے سامنے رکھنا چاہوں گا۔
انیس احمد 1949 کو بہاولپور میں پیدا ہوے۔ ایم اے تک تعلیم مکمل کرلینے کے بعد 1975 کو ناروے چلے گئے جہاں وہ تاحال مقیم ہیں۔ وہ نارویجین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن اور ناروے ٹیلی ویژن پر کام کرتے رہے ہیں۔ انھوں نے لکھنا خاصی دیر سے شروع کیا۔ 2013 میں ان کا پہلا ناول “جنگل میں منگل” اور 2019 میں دوسرا ناول “نکا” شائع ہوا۔ “نکا” کی ناقص طباعت کے سبب اس ایڈیشن کو غالبا ضائع کردیا گیا اور ناول کو 2024 میں از سر نو شائع کیا گیا۔
تین :
ناول کے موضوع کے انتخاب میں اہم نکتہ یہ ہے کہ ناول نگار زبردست جنون اور حساسیت کے ساتھ ایسے موضوع کو چنے جو تخلیقی, اختراعی اور تازہ ہو۔ موضوع جتنا اختراعی ہوگا اتنا ہی نیا اور حیران کن محسوس ہوگا۔ ظاہر ہے پڑھنے والوں کے لیے اس میں کشش ہوگی۔ایک ناول نگار انسانی وجود کی ایک بالکل نئی تہہ دریافت کر کے اسے ناول کی صورت میں لانے کی کوشش کرتا ہے۔انسان ایک پیچیدہ وجود ہے۔ وجود کی پیچیدگی کی گتھیاں سلجھانے کے لیے خاص تجربہ, مہارت, سہجتا اور چالاکی درکار ہوتی ہے۔ یہ چاروں کمالات صرف ناول نگار ہی کے پاس ہیں۔
موضوع کے چناؤ کے بعد موضوع کی فنکارانہ اور تخلیقی پروسیسنگ بہت اہم ہے۔ یعنی موضوع کو کس طرح دلچسپ, تہہ دار اور ریلونٹ بیان میں لکھنا ہے۔ ناول کی ہیئت کیسی رکھنی ہے۔ اس کے حصوں کی تقسیم کیا ہوگی۔ کونسے اور کتنے کردار کس ڈھب کے واقعات میں سے گزریں گے۔ انھی کے پہلو بہ پہلو مکالمے, مناظر, ماحول وغیرہ چلتے ہیں۔
یہ ساری باتیں درسی نوعیت کی معلوم دے سکتی ہیں مگر سچ یہی ہے کہ ایک ناول نگار جب ناول لکھتا ہے تو یہ ساری چیزیں, کسی نہ کسی ترتیب اور کسی نہ کسی انداز میں, اس کے دماغ کے اندر نہ صرف موجود ہوتی ہیں بلکہ ناول نویسی کے ہنگام وہ انھی کو بروئے کار لاتا ہے۔ کوئی کچھ بھی کہے, ناول لکھنے کے تمام مرحلے ٹھوس منطقی اقدامات سے طے ہوتے ہیں۔ مجھے یہ بتاتے ہوے طمانیت محسوس ہورہی ہے کہ یہ سارے نکات “نکا” پڑھتے ہوے ذہن کی سطح پر ابھرے۔
چار :
ناول “نکا” وسیب کے ماحول کی کہانی ہے۔ شہر سے دور, دریا سے ادھر، ریگستان کے پہلو میں بسی جھگیوں پر مشتمل ایک ایک بستی ہے۔ اس بستی کے ایک جھگے میں سلامو لکڑہارا اپنی بتیس سالہ اونچی لمبی چھریرے بدن کی بیوی امیر مائی اور تین بچوں کے ساتھ رہتا ہے۔ سب سے چھوٹا بچہ ناول کا مرکزی کردار نکا ہے جو بستی کی ریتیلی کچی گلیوں میں پھیتا دوڑاتے دوڑاتے جیون کی اونچ نیچ میں سے گزرتا٫ عشق کرتا, ماریں کھاتا, جوگی بن جاتا ہے۔ جب جوگ میں بھی اسے من کی شانتی نہیں ملتی تو وہ تبت کا رخ کرتا ہے۔
کہانی اتنی سادہ نہیں ہے!
نکے اور اس کے ٹبر کے جیون سے آدھی درجن بھر اور کردار بھی جڑے ہیں جنھیں ناول نگار نے اپنی قوت مشاہدہ اور وسیب کی زندگی کے ذاتی تجربے کی بدولت اردو فکشن کے قابل ذکر کردار بنادیا ہے۔ ان میں پہلا کردار جنداں کا ہے جو بستی میں ایک چھپر تلے دن بھر اپنے تنور کے ساتھ ساتھ مانے قصائی اور گلو جیسے حرامی مردوں کے دل بھی تپائے رکھتی ہے۔ کس کی روٹی پہلے لگانی ہے, کس کی بعد میں، کس مرد کے ٹھرک کی سزا کھرپے کی سلاخ کی کاری ضرب سے دینی ہے اور کس کی رال ٹپکاتی حرامزدگی کو نظر انداز کرنا ہے, اس کا فیصلہ جنداں ،روز کے روز, موقع محل دیکھ کر کرتی ہے۔ برخلاف امیر مائی کےجو نکے کی پیدائش سے پہلے اپنے پیر سائیں جمال زادہ سے نرینہ اولاد کی دعا کراتی کراتی ریپ کروا بیٹھتی ہے جس کے نتیجے میں نکا پیدا ہوتا ہے, اور جو دوسری بار زمیندار گام صاحب کی جنسی بھوک مٹانے کے بعد دریا میں کود کر جان دے دیتی ہےجنداں بے مردی ہونے کے باوجود زیادہ بیباک اور معاملہ فہم ہے۔ وہ مردوں سے اٹے ماحول میں زندگی کرنے کا ہنر سیکھ چکی ہے۔ ناول میں جنداں جیسا منھ پھٹ اور دلیر کردار کوئی اور نہیں ہے۔ ایک مرتبہ جب جنداں کے تنور کے قریب سے مادہ سانپ نکل آتی ہے تو جنداں کے عاشقوں_ گلو, مانا, مولوی صاحب_ سمیت روٹیاں لگوانے آیا ہوا ہر گاہک زہریلی ناگ کو پکڑنے میں ناکام رہتا ہے۔ تب جنداں کڑیل مردوں کو ان کی اوقات یاد دلانے کے لیے آگے بڑھ کر للکارتی ہے:
“میں کچلتی ہوں اس کا سر۔ یہ چوڑی چوڑی چھاتیوں والے چوہے بس اپنی رنوں کے آگے ہی شیر ہوتے ہیں۔ یہ کیا ماریں گے اسے۔”
ناول کے دوسرے نسائی کرداروں کی تخلیق میں بھی ناول نگار کی مہارت قابل تحسین ہے۔ امیر مائی کی ساس بھاگ بھری,جو مجبورا ہندو سے مسلمان تو چکی ہے مگر اس کے من میں اب بھی بھگوان ہی بسیرا کیے ہوے ہیں, فیصلہ سازی کی طاقت اپنے مرد سے زیادہ رکھتی ہے۔ نکے کی لڑکپن کی دوست اور معشوقہ نازو, نکے کی بے وفائی کا شکار ہوکر بھی نہیں بکھرتی۔ چنن پیر کے میلے میں گم ہوتی ہے۔ مرضی کے خلاف قادرے سے شادی رچاتی ہے اور رب سائیں کی مرضی سے “ہنسی خوشی” زندگی گزارتی ہے۔
تاہم نکے کی شہری معشوقہ روبینہ ایک کمزور کردار ہے۔ ممکن ہے ناول نگار نے شہری لڑکی کو وسیبی عورت کے مقابلے میں بیوقوف اور کمزور دکھانے کا ارادہ کرکے اس کردار کو تخلیق کیا ہو۔ لیکن قصہ صرف روبینہ کے ناقص کردار تک محدود نہیں رہتا۔ ناول کے اختتام سے کچھ پہلے ناول کا ماحول شہری زندگی ہے۔ نکا روبینہ کے گھر میں خود کے حرامزادہ ہونے کے راز کو فاش کرتا ہے تو اس کی معشوقہ روبینہ اور روبینہ کا باپ جو ردعمل دیتے ہیں, ناول میں وہ بہت غیر فطری محسوس ہوتا ہے۔ شہری ماحول کا بیان متاثرکن نہیں ہے۔ لیکن 512 صفحات کے طاقتور بیانیے میں پندرہ بیس صفحوں کی کمزوری کچھ معنی نہیں رکھتی!
نسائی کرداروں کے مقابلے میں ناول کے مرد کرداروں میں دو ہی کردار یاد رہ جانے والے ہیں: پہلا کردار پیر عظام الدین جمال زادہ کا ہے۔ پیر صاحب کے بزرگ کا مزار جاگیر کے بیچ واقع ہے جس کی ساری زمین انگریز سرکار اور پرانے نوابوں کی دی ہوئی ہے۔ پیر صاحب کے بزرگ دو صدیاں پہلےتبلیغ کے لیے یہاں آئے تھے, پھر یہیں آباد ہو گئے۔ جب انھوں نے زمینیں اپنے نام کروالیں تو ان کا شمار وڈیروں میں ہونے لگا۔ ان کے رسوخ کا یہ عالم ہے کہ وہ ہمیشہ الیکشن جیت کر اسمبلی میں پہنچتے ہیں۔ ان کا حکم سارے میں چلتا ہے۔ چنانچہ پنجاب اور سندھ کے دوسرے جاگیردار پیروں کی طرح وہ بھی اندر سے ایک نمبر کے حرامی ہیں۔ نکا ان کے حرامی پن ہی کی پیداوار ہے۔ پیر صاحب کے حرامی پنے کی حد نہیں: وہ مریدوں سے نذرانوں کی صورت میں پیسہ, عزت, جان, بکریاں, گائیں, سونے اور چاندی کے زیورات تک لوٹنے میں نہیں جھجکتے۔ لیکن ایک اچھی بات یہ ہے کہ وہ وہسکی پی کر بھی رب سائیں کے کرم کو فراموش نہیں کرتے۔
ایک اور کردار اربوں کی جائداد کے مالک وڈیرے گام صاحب کا ہے جو اپنے حرامی پنے میں پیر صاحب سے بھی پانچ ہاتھ آگے ہے۔ وہ نہ صرف امیر مائی سے جنسی زیادتی کرتا ہے بلکہ امیر مائی کے بھائی سجاول کی نئی نویلی دلہن بیگو کو بھی دلہا کی سہاگ رات سے پہلے کئی دن تک ہوس کا نشانہ بنائے رکھتا ہے۔ محتاج ایسا ہے کہ ٹٹی پیشاب کرنے کے لیے خود اٹھ کر غسل خانے بھی نہیں جاسکتا۔ اس کام کے لیے ہی اس نے سجاول کو ملازم رکھا ہوا ہے۔
ناول نگار نے پیر صاحب اور گام صاحب کی ایسی بہترین کردار نگاری کی ہے کہ دونوں ٹائپ کیریکٹر کی سطح تک پہنچ گئے ہیں۔ مسلم شاہی تاریخجس میں عربی, ایرانی اور ایشیائی سبھی بادشاہان عظام کو شامل سمجھیے پیروگام جیسے ناسوروں سے خالی نہیں تھی۔
“نکا” کی کردار نگاری تو قابل داد ہے ہی, اس میں جگہ جگہ منظر نگاری اور واقعات نگاری بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔ جنداں تنور والی کے چھپر میں سانپ کے نکل آنے کا منظر بڑا جاذب ہے۔ ادھر مولوی کے کردار پر کہیں خفیف تو کہیں چبھتا ہوا طنز شیکسپئر کے ڈراموں کے لازمی عنصر Comic Relief کی یاد تازہ کردیتا ہے۔ مولوی, جو خیالوں ہی خیالوں میں جنداں کے جوان بدن کے پسینے کو آنکھوں کا سرمہ بنائے رکھتا ہے اور پوری بستی کے مردوں کو نکما, گندا اور گنہ گار سمجھتا ہے, سانپ دیکھتے ہی مارے خوف کے انھی مردوں کے پیچھے چھپنے پر مجبوری ہے۔
اسی طرح کے کئی اور دلچسپ مناظر ناول میں چمکتے نگوں کی طرح پڑھنے والوں کو حظ بخشتے ہیں۔ ناول “نکا” اردو دنیا میں ایک وقیع اضافہ ہے۔ یہ ایک خوش کن دریافت ہے۔ یہ دریافت, کم سے کم مجھے, یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ اچھے ناولوں کی تلاش کا صرف سوشل میڈیا پر انحصار نہ کیا جائے۔ ورڈ اوف ماوتھ کو بھی اہم جانا جائے۔ جہاں کہیں اعلی ادب پارے کے متعلق کچھ سنائی دے, اسے علمی دیانتداری سے عام کیا جائے۔ ہمیشہ یاد رکھا جائے کہ علمی چپیٹ جہلا کا وتیرہ ہے۔