اسلام ، پاکستان اور مغرب: چند سوال

یہ تحریر 664 مرتبہ دیکھی گئی

۲۱ جون ۲۰۲۲ کو اقبال انسٹی ٹیوٹ اوف ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ كے زیر اہتمام اسلامی مدارس کے اساتذہ کی  ایک مجلس میں پڑھا گیا۔

ہم جس عہد میں زندہ ہیں، اس میں ہر فرد شعور کی عمر کو پہنچتے ہیں چند سوالات سےضرور دوچار ہوتا ہے۔ بے فارم سے لے کر پہلے سکول کے داخلہ فارم تک  یہ وضاحت ضروری ہے کہ ہم کون ہیں؟ ہمارا عقیدہ کیا ہے، ہماری قومیت کیا ہے اور ہماری جنس کیا ہے؟ جو بات ان دونوں فارمز پر لکھی جاتی ہے، وہی ہماری پہچان بن جاتی ہے۔ خواہ ان کے لکھنے اور طے کرنے میں ہمارا ہاتھ ہو یا نہ ہو۔  لیکن جب ہم سوچنے سمجھنے کا آغاز کرتے ہیں تو بات صرف کیا تک محدود نہیں رہتی بلکہ کیوں اور کیسے تک بھی پہنچتی ہے۔ اب سے چالیس پچاس برس پہلے تک  اس سوال کا جواب  بڑوں کی ایک جھڑکی اور ڈانٹ ڈپٹ سے ملتا تھا۔ اس زمانے کے چھوٹے بھی ذرا مسکین سے ہوتے تھے اور خاموش ہو جاتے تھے۔ اب ایسا نہیں ہوتا۔ انسان کا ذہن ارتقا کی اگلی منزل تک پہنچ گیا ہے۔ اب ہم ڈانٹ ڈپٹ کر  ان سوالوں سے پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔ ہمیں ان کے جواب ڈھونڈنے پڑیں گے۔

خاص طور پر یہ دور جس میں ہم زندہ ہیں، قدم قدم پر ہماری شناخت مانگتا ہے۔ ڈرائیونگ لائسنس سے لے کر بنک اکاؤنٹ کے اور ان کے درمیان آنے والی ہر منزل پر شناختی کارڈ ہماری پہچان ہے،ملکوں کی سرحدیں پار کرنی ہوں تو پاسپورٹ ہماری شناخت ہے، نوکری، عہدہ و منصب اور سماجی حیثیت کا معاملہ ہو تو جنس بھی ہماری زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے ، خواہ ہم اسے تسلیم کریں یا نہ کریں۔

یہ مسئلہ جو قومی یا سماجی سطح پر طے ہوتا ہے دراصل ہر فرد کا ذاتی اور وجودی مسئلہ بھی ہے۔ مثال کے طور پر میں ایک عورت ہوں، مسلمان ہوں اور پاکستانی ہوں۔  شناخت کے یہ سب پہلو میری ذاتی زندگی اور حیثیت پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ انھی کی مدد سے میری ذاتی اور سماجی حیثیت کا تعین ہوتا ہے۔ ملک کے اندر اور باہر قدم قدم پر مجھے اس حیثیت کے بارے میں جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔ اس لیے ان موضوعات پر سوچنا میری مجبوری بن چکا ہے۔

میں مسلمان ہوں کیوں کہ میں ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئی۔ میں یقین سے نہیں کہ سکتی کہ اگر میں کسی اور مذہب یا عقیدے سے تعلق رکھنے والے والدین کی اولاد ہوتی تو   کبھی مسلمان ہونے کا موقع ملتا یا نہیں۔ لیکن میں نے اس مذہب اور اس کی سچائی کومحض  موروثی مذہب  کے طور پر پر نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی  اور آزادانہ رائے  کے تحت دل و جان سے قبول کیا ہے۔ اس کے باوجود میں محسوس کرتی ہوں کہ اسلام کاوہ مثالی تصور، جو  میرے دل و دماغ میں ہے، جس کی بنیاد پر میں مسلمان ہونے پر خوشی، اطمینان اور فخر محسوس کرتی ہوں، اُسمثالی تصورِ اسلام  کی عملی صورت مجھے ریاستِ مدینہ کے علاوہ، نہ تو تاریخ کے کسی عہد میں دکھائی دیتی ہے، نہ معاصر  زمانے میں نظر آتی ہے۔ میں بہت وضاحت اور یقین سے اپنے دل میں جانتی اور سمجھتی ہوں کہ اسلام اصل میں کیا ہے؟ لیکن ایک اسلامی معاشرے اور ایک ایسے اسلامی ملک میں، جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا،  رہنے کے باوجود ، میں پورے یقین سے کہ سکتی ہوں کہ ہمارا معاشرہ اسلام کےاصل اور بنیادی  تصور کو عملی شکل  دینے سے قاصر رہا ہے۔

اگر یہ محرومی صرف ہمارے معاشرے کے اندر تک محدود رہتی تو بات کچھ اور تھی، مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس اسلامی معاشرے میں رہتے ہوئے جو عمل بھی کرتے ہیں، وہ  صرف ہمارا ناقص عمل نہیں رہتا ، وہ اسلام کا چہرہ بن جاتا ہے۔ اسلامی دنیا سے باہر موجود دنیا اسلام کو اسلام کے مثالی تصور کی مدد سے نہیں بلکہ مسلمانوں کے طرزِ عمل سے سمجھتی ہے ۔ دنیا بھر کا مسلمان جو عمل بھی کرتاہے ، غیر مسلم دنیا میں  اسے اسلام کی تعلیمات کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی  کے جہاں بہت سے مثبت اور منفی پہلو ہیں وہاں ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اب دنیا کے کونے کونے میں   ہونے والا ہر عمل دنیا بھر کے سامنے پل بھر میں آشکار ہوجاتاہے۔   اب سے سو پچاس برس پہلے تک ایسا نہیں تھا۔  دنیا کے مختلف علاقوں  اور ان کی صورت حال کی خبر صرف انھی کو ملتی تھی جو اسے ڈھونڈنے کا اہتمام کرتے تھے۔ اب کسی اہتمام، بلکہ خواہش کے بغیر ہی سب کچھ ہر ایک  پر عیاں ہو جاتاہے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جو کچھ اسلامی معاشروں میں ہوتا ہے، وہ سب کچھ اسلام کی تعلیمات کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔ ہم بدعات وغیرہ کی مذمت میں تو بہت  مستعد رہتے ہیں لیکن اسلام پر لگنے والے ان الزامات اور دھبوں کو مٹانے کی طرف سے مسلسل غافل ہیں۔

اسلامی معاشروں اور  مسلمانوں کے بارے میں رائے قائم کرنے کا یہ تعمیمی رویہ صرف عوام تک محدود نہیں ، علما اور دانش ور بھی یہی سوچتے ہیں۔ اس کی صرف ایک مثال معروف امریکی سکالر اور پروفیسر کارلارنسٹ کی ہے جو اسلام کے بارے میں انتہائی نرم گوشہ رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجوداسلام اور مسلمانوں کی وکالت کرتے ہوئے وہ  یہ کہتے ہیں کہ سب  اسلامی معاشرے ایک جیسے نہیں۔ دنیا کے مختلف خطّوں میں رہنے والے مسلمان ایک دوسرے سے تہذیبی اعتبار سے مختلف ہیں لہٰذا سب کو ایک جیسا ( یعنی انتہا پسند)   نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ بات انھوں نے نیک نیتی سے کہی ہے مگر اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اسلام کی روح جو تمام مسلمان معاشروں کی تہذیبی زندگی کی جان ہے، علاقائی یا جغرافیائی اختلاف کے باوجود  ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہوسکتی۔ یہ ایک الگ مسئلہ ہے اور یہاں اسے تفصیل سے بیان کرنے کا محل نہیں۔یہاں صرف یہ کہنا مقصود ہے کہ مسلمان معاشروں میں جو تہذیبی اختلاف کارلارنسٹ جیسے دانشوروں کو نظر آتا ہے، اس کا بنیادی سبب  یہ ہے کہ مسلمان معاشرے اس اسلامی روح سے محروم ہو گئے ہیں جو تہذیبی اختلاف کے باجود ہر مسلمان کو  ایک لڑی میں پرو سکتی تھی۔

حاضرین کرام!      یہاں اس محفل میں یہ دہرانے کی ضرورت نہیں کہ دنیا مسلمان معاشروں کے بارے میں کیا سوچتی، سمجھتی یا رائے رکھتی ہے۔ اس رائے کے اسباب کثیر الجہت ہیں۔ اسلاموفوبیاکا ایک پس منظر یہ ہے کہ  عالمی سطح پر معاشی مفادات، سیاسی ترجیحات اور  تاریخی عوامل  مل جل کر اسلام کے بارے میں ایک مخصوص ذہنیت کو فروغ دیتے ہیں۔ ان سب باتوں پر بھی سوچنے اور ان کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے اور اہل علم میں سے کچھ نہ کچھ ضرور اس معاملے میں سنجیدگی سے غور و فکر  کر رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اس بات پر بھی زیادہ سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ مسلمان معاشروںکے بارے میں باقی دنیا میں جو کچھ سوچا جا رہا ہے اس کا سبب کیا ہے؟  یہاں  یہ سوال بھی برمحلہوگا کہ باقی دنیا سے کیا  مراد  ہے؟  کیا افریقہ، چین، لاطینی امریکہ یا مشرق بعید کے سبھی ممالک اس باقی دنیا میں شامل ہیں یا کسی مخصوص خطے یا سوچ کے افراد  مراد ہیں۔

 میں یہ واضح کرنا چاہتی ہوں کہ یہاں باقی دنیا سے مراد اس تہذیب سے تعلق رکھنے والے تمام معاشرے ہیں جو اس وقت عسکری، سیاسی اور معاشی اعتبار سے دنیا بھر پر غالب آ چکی ہے اور جس کا بیانیہ پوری دنیا کا بیانیہ قرار دیا جاتا ہے۔ اپنی آسانی کے لیے ہم اسے مغرب کہ لیتے ہیں اگرچہ یہ اصطلاح اب  اس مقصد کے لیے ناکافی معلوم ہوتی ہے مگر چوں کہ رائج ہو چکی ہے تو ہم اسے  ہی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ البتہ  یہ وضاحت ضروری ہے کہ مغرب  سے میری مراد کیا ہے؟

میری عاجزانہ رائے یہ ہے کہ مغرب یا مغربی  معاشروں سے مراد وہ تہذیب ہے جو پندرھویں صدی اور اس کے بعد برّاعظم یورپ  کے مختلف خطوں میں پروان چڑھی اور نشاَۃ ثانیہ کے نتیجے میں مذہب، مابعدالطبیعیاتی حقائق اور روحانی تجربات کو رد کر کے عقلیت مادیت اور افادیت پرستی  پر قناعت  کر گئی۔ خدا کو اس کائنات سے بے دخل کر دیا گیا اور اس خلا کو پُر کرنے کے لیے خود انسان کو خدا بننا پڑا۔ مابعدالطبیعیاتی حقائق سے انکار ہوا تو پوری توجہ کائنات کے مطالعے اور تسخیر پر مرکوز ہوگئی۔اس تحدید کی وجہ سے علم کائنات میں گہرائی پیدا ہوگئی۔سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی جس کے بے شمار مثبت پہلو ہماری زندگی کو بہتر بنا رہے ہیں، اسی کا نتیجہ ہیں۔ روح ناقابلِ قبول ہوئی تو جسم  کی تسکین و تزئین ہی زندگی کا مقصد بن گیا۔آخرت اور سزا جزا کا اخروی تصور ، جس کے نتیجے میں ہر انسان یہ سوچ کر برائی سے اجتناب کرتا تھا کہ خدا دیکھ رہا ہے، رد کر دیا گیا اور معاشروں کے لیے انسانی قوانین وضع لیے گئے جس میں خطا سے بچنے کا تصور داخلی نہیں ، خارجی تھا۔ اگر خدا نہیں دیکھ رہا تو کیمرے کی آنکھ دیکھ رہی ہے۔ مگر جہاں کیمرے کی آنکھ نہیں ہے وہاں کون دیکھے گا۔ اس لیے جرم سے روکنے کی اندرونی قوت ختم ہوگئی اور پولیسنگ اور  سزا کا خارجی تصور رائج ہو گیا جہاں اگر آپ سزا سے بچ سکتے ہیں تو آپ کو جرم سے کوئی نہیں روک سکتا۔ انفرادی سطح پر ضمیر یا سماجی اخلاقیات کا تصور ضرور موجود رہا لیکن اس تصور کو پختہ کرنے کے لیے جس نوع کی اخلاقی تربیت کی ضرورت تھی وہ ہر جگہ یکساں طور پر مہیا نہیں کی جا سکی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ جن معاشروں میں بلیوں اور کتوں کے بھی حقوق ہیں ، ان معاشروں میں دوسری اقوام کے انسانوں، بچوں اور بوڑھوں کو، جو ایک مخصوص جغرافیائی حدود سے باہربستے  ہوں،  گولیوں سے بھون ڈالنے، بم مار کر اجاڑ دینے اور ہر طرح کی انسانیت کُش واردات  کرنے  پر ، ایک عمومی بے حسی طاری رہتی ہے۔ مادہ پرستی اور افادیت  پسندی نے نہ صرف دوسرے انسانوں کے مقابلے میں خودغرضانہ جذبات کو فروغ دیا بلکہ  عالمِ فطرت کی تسخیر کے نام پر قدرتی وسائل کے استحصال  کے ساتھ ساتھکرۂ ارض کے طبعی توازن کو بھی بگاڑ کر رکھ دیا۔

 یہ چند  مختصر اشارے ہیں، جن میں سے ہر ایک پر تفصیل سے بات ہو سکتی ہے لیکن یہاں صرف یہ کہنا مقصود ہے کہ مغرب سے میری مراد ہے وہ تہذیب، وہ طرزِ فکر  و عمل اور وہ نظامِ زندگی جو ان فکری بنیادوں پر استوار ہے جن کا ابھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس اعتبار سے مغرب صرف مغرب کی سمت میں واقع نہیں ہے اور نہ یہ صرف یورپ کے خطے تک محدود ہے۔ یہ تہذیب جس طرف بھی رائج ہوئی ، خواہ وہ مشرق ہو یا شمال ، مغرب یا مغربی تہذیب ہی کی نمائندگی کا حق دار ہے۔ یورپ سے نکل کر یہ تہذیب، امریکہ، آسٹریلیا، نیوزیلینڈ، سکینڈےنیویا  میں پھیلی اور پھر دنیا کے جن خطوں میں بھی یورپی اقوام نے نوآبادیاں بنائیں، ان میں بھی اس تہذیب کے اثرات قائم ہوئے۔ جنوبی ایشیا اور خود ہمارا ملک پاکستان بھی اس اعتبار سے مغربی ہے کیوں کہ ہمارا  بنیادی معاشرتی ڈھانچا برطانوی طرز پر تعمیر ہوا ہے۔ ہمارا قانون، ہمارا طرزِ حکمرانی، ہمارانظامِ تعلیم، ہمارا عدالتی نظام، ہماری بیوروکریسی یا نوکر شاہی، ہماری پولیس اور تھانے، غرض ہمارے ملک کا ہر نظام مغربی طرز پر قائم ہے۔ اس کے باوجود دو باتیں تشویش ناک ہیں۔پہلی یہ کہ  ہمارا معاشرہ ان تمام فوائد اور ثمرات سے محروم نظر آتا ہے جو  مغربی معاشروں کو اس نظام کی بدولت حاصل ہیں۔ دوسری یہ کہ ہم ایک دینی اور روحانی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں اور اس کے دعوے دار بھی ہیں لیکن ہم ان دینی و روحانی فیوض و برکات سے بھی محروم ہیں جن کے نتیجے میں مغربی تہذیب سے مختلف، زیادہ پائیدار، زیادہ انسان دوست اور زیادہ مہذب معاشرہ قائم کیا جا سکتا تھا۔

تو میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ آخر پاکستان کا مسئلہ کیا ہے؟ کیوں ہم نہ پورے تیتر ہیں، نہ پورے بٹیر؟ تیتر کہتے ہیں، تیتر ہو جاؤ اور بٹیر کہتے ہیں، بٹیر بن جاؤ۔ ہم ان دو دنیاؤں کے درمیان معلق ہیں۔ ہم ایسے کیوں ہیں؟ مغرب پسند کہتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ابھی تک اسلام کے قدیم اور قبائلی نظام سے چمٹے ہوئے ہیں اور ترقی کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اسلام پسند کہتے ہیں، کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم مغربی ہو گئے ہیں۔ ہم نے لادینیت اختیار کر لی ہے، ہم نے اسلام کو ترک کر دیا ہے، اس لیے ہم   ناکارہ ہو گئے ہیں۔

ایک بات تو بالکل واضح  ہے اور پاکستان کی پچھتر سالہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ  اس خطے کے باشندوں کی بہت بڑی اکثریت مسلمان رہنا چاہتی ہے اور اسلام سے عملی طور پر نہ سہی، جذباتی طور پر وابستہ ہے۔ اس وابستگی کے لیے وہ کوئی بھی قیمت چکانے کو تیار ہے۔ حتیٰ کہ اپنی جان کی بھی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح ہے کہ اس نظام تعلیم  اور دیگر کئی عوامل کے نتیجے میں معاشرے کا ایک طبقہ مذہب سے بیزار ہے اور سمجھتا ہے کہ ہمیں مغرب  کی راہ اپنانی چاہیے اور مذہب کو کم از کم اجتماعی زندگی سے ضرور نکال دینا چاہیے۔ ذاتی سطح پر اگر کوئی مسلمان رہنا چاہتا ہے اور اس کے لیے کچھ رسوم ادا کرتا ہے تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں۔ان کے اس اعتراض کے پیچھے ایک طویل تجربہ ہے جو یہ بتاتا ہے کہ مذہب انسانی جذبات کے استحصال کا سب سے آسان طریقہ ہے۔ اس طبقے کے پاس اپنی بات کے حق میں دلائل بھی ہیں اور مثالیں بھی۔ ان دلائل کے جواب میں ایک عام مسلمان کو کافی جواب نہیں  ملتا۔

حاضرین کرام، مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجیے کہ اس سوال کا جواب دینے کی ذمہ داری یوں تو ہم سب پر ، جو مسلمان ہیں اور رہنا چاہتے ہیں، عمومی طور پر عائد ہوتی ہے لیکن  سب سے زیادہ  یہ ذمہ داری آپ حضرات پر عائد ہوتی ہے۔آپ سے توقع کی جاتی ہے کہ چوں کہ  آپ علم ِ دین کی سند رکھتے ہیں اور دین کی تعلیم دینے پر مامور ہیں اس لیے آپ  اپنے علم اور عمل دونوں سے  اسلام کا نمونہ  پیش کریںاور  مثالی مسلمان کی تصویر دنیا کے سامنے رکھیں ۔ صرف یہی نہیں ، اگر ایک عام مسلمان  دین کی روح سے بیگانہ ہے  اور ایسی شخصیت  و کردار کی تعمیر سے عاجز ہے جسے مثالی مسلمان شخصیت کہاجا سکے  تو اس کی ذمہ داری اگر صرف آپ کی نہیں تو بھی بڑی حد تک آپ کی ضرور ہے۔

میں معافی چاہتی ہوں، میں خود کو اور دیگر طبقات کو کسی طرح کا این آر او نہیں دینا چاہتی اور مجھے یہ بھی احساس ہے کہ سوشل میڈیا کی اس دنیا میں کسی ایک طبقے پر پوری قوم کی کردار سازی کی ذمہ داری رکھنا  غیر حقیقی بات ہے۔ مگر ہم سب اس حقیقت سے واقف ہیں کہ ہر مسلمان گھرانے کا بچہ، سکول جانے سے پہلے یا اس کے ساتھ ہی قرآنی قاعدہ اٹھا کر   مولوی صاحب کے پاس  جاتا ہے ۔ یہ مولوی صاحب انھی مدارس کے سند یافتہ ہوتے ہیں۔ اگر اس کچی عمر میں بچے کو الف با تا کے ساتھ ساتھ  عام اخلاقی معاملات میں بھی رہنمائی دی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ دس پندرہ برس کے عرصے میں ایک ایسی نسل پروان  نہ چڑھ پائے جو ایک اچھے مسلمان کی تصویر پیش کر سکے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ ہمارے دینی طبقے کی ترجیحات مختلف ہیں۔ ہم زبانی تو یہ کہتے ہیں کہ دین و دنیا میں کوئی تفریق نہیں لیکن عملی طور پر اس کے قائل نہیں۔ ہم دین کے چند پہلوؤں پر زور دینا ہی کافی سمجھتے ہیں اور اس کے نتیجے میں عوام کے ذہنوں میں یہ بات راسخ ہو جاتی ہے کہ  ان چند رسومات کو پورا کرنے سے ہی ہم دین کی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر سب سے زیادہ زور ظاہری حلیے پر دیا جاتا ہے۔ ظاہر و باطن دونوں کی پاکیزگی  دین کا حصہ ہے لیکن اگر دونوں میں سے کسی ایک کو چننا پڑے تو میں ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر باطن کو ترجیح دوں گی۔ اس کے برعکس ہمارا مذہبی طبقہ  ظاہر پر قانع ہوجاتا ہے کیوں کہ یہ سب سے آسان راستہ ہے۔ بلکہ ظاہر بھی پورا نہیں، محدود اور اپنی مرضی کا۔ مرد کی ڈاڑھی اور عورت کا پردہ یقیناً اسلام کا لازمی حصہ ہے مگر کیا اسلام  کے نزول کا مقصد صرف یہی تھا؟ ہر گز نہیں۔ یہ اسلامی مقاصد کے حصول کا ایک وسیلہ ہیں، بذاتِ خود مقصد نہیں ہیں۔بیٹھ کر پانی پینا  یا دایاں پاؤں پہلے رکھنا بھی اہم ہے کیوں کہ ہمارے پیارے نبیﷺ کی سنّت ہے لیکن  جگہ جگہ تھوکنا اور جہاں موقع ملے غلاظت پھیلانا کیا اسلام میں پسندیدہ عمل ہے کہ ہم اپنے طالب علموں سے اس کی پابندی پر اصرار نہیں کرتے؟  کیا سبب ہے کہ  جس دین میں صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہو اور جس میں طہارت اور وضو اور غسل کے مسائل  پر دفتر کے دفتر لکھے گئے ہوں ، اس  دین کے ماننے والے دنیا بھر میں  جسمانی اور ماحولی صفائی ستھرائی سے سب سے زیادہ  دور ہوں۔  یورپ تک میں،جہاں شہر آئینے کی طرح چمکتے ہوں،  مسجدوں کے غسل خانے بے ترتیبی اور کثافت کا نمونہ نظر آتے ہیں۔

مغرب میں  اسلام اور مسلمانوں پر سب سے زیادہ اعتراض جن چند باتوں کے حوالے سے کیا جاتا ہے ان سے ہم صدیوں سے واقف ہیں۔ ہم نے اپنے عمل سے اب تک ان اعتراضات کو دور نہیں کیا۔ اس میں پہلی بات  اسلام میں عورت کا مقام ہے۔ میں پوری دیانت داری سے یہ سمجھتی ہوں کہ اسلام میں عورت کو جو مقام دیا گیا ہے وہ کسی مہذب  سے مہذب معاشرے نے بھی آج تک نہیں دیا۔ مگر اس کے باوجود ہم اس اسلامی پہلو کا دفاع کرنے سے قاصر ہیں کیوں کہ یہ مقام اور یہ حقوق جو اسلام نے عورت کو دیے ہیں، مسلمانوں نے ہر گز نہیں دیے۔ اسلامی معاشروں میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص  ،مذہبی طبقوں نے وراثت میں عورت کے حصے  کے حق کے دفاع  میں  کبھی آواز بلند نہیں کی۔  کبھی کسی نے یہ فتویٰ نہیں دیا کہ عورت کو وراثت میں حصہ نہ دینے والا شخص گناہ گار ہے اور یہ اسلام کے خلاف ہے۔ قرآن نے شادی کے لیے عورت کی مرضی کو بھی اتنا ہی لازمی قرار دیا ہے جتنا مرد کی مرضی کو۔ کیا وجہ ہے کہ ہمارا مذہبی طبقہ عورت کے اس حق کے دفاع کے لیے اٹھنا تو درکنار، اس کے خلاف  کھڑا نظر آتا ہے۔ عورت کے پردے پر اصرار بجا سہی مگر کبھی مرد کو یہ یاد کروانے کی ضرورت نہیں محسوس کی گئی کہ اس کے لیے  بھی دوسری نظر ڈالنا ممنوع ہے۔ چار شادیوں کی مشروط اجازت کو جس طرح اسلامی حکم بنا کر پیش کیا گیا اوراس کے نتیجے میں مسلسل عورت کا استحصال کیا گیا، اس کے خلاف کبھی  مذہبی طبقے  نے اصلاح کا علم نہیں اٹھایا۔ الرجالقوامون علی النسا ء کی من مانی تشریح و تعبیر کے ذریعے جس طرح عورت کی انسانی آزادی کو پامال کیا گیا، اسی کے نتیجے میں مسلسل عورتوں کو جلا ڈالنے اور مار ڈالنے والے واقعات رونما ہو   رہے ہیں اور یہی ہماری اسلامی پہچان بن گئے ہیں۔ صرف ہماری نہیں، بلکہ اسلام کی پہچان۔ افسوس کہ ہم نے اسلام کی عزت کو محض اپنی غفلت سے پامال کر دیا ہے۔

دوسرا پہلو جومعترضین اور دشمنوں کے ہاتھ میں اسلام کے خلاف ایک ہتھیار بن گیا ہے، مسلمانوں کی انتہا پسندی ہے۔  کہا جاتاہے کہ مسلمان  کا عقیدہ ہے کہ یا سب کو مسلمان بنا لو یا سب کو مارڈالو۔ ہم میں سے کون یہ نہیں جانتا کہ یہ بات سراسر خلافِ اسلام ہے۔ جس دین کی بنیاد اس قرآنی آیت پر رکھی گئی ہو کہ لا اکراہ فی الدّین۔ اس پر اس طرح کا الزام بے معنی اور لغو ہے لیکن ہمارے ہی مذہبی طبقات میں سے کچھ نے ایسے نعرے اور جملے ایجاد کر لیے اور جلسوں جلوسوں میں اس شد ّت، تکبّر اور بلند آہنگی سے لگائے جاتے ہیں کہ اسی کو اسلام کا بیانیہ قرار دینے میں  غیروں کو ذرّہ برابر تاَمّل نہیں ہوتا۔ وہ ہماری کتابیں نہیں پڑھتے، ہمارے لیکچر نہیں سنتے، سوشل میڈیا پر ان جلسوں اور جلوسوں کی وڈیو دیکھ کر فیصلہ کر لیتے ہیں کہ یہی ہے اسلام کی تعلیم۔ مذہبی طبقے کی طرف سےاس نعرے بازی  کے مقابلے میں  اٹھنے والی آواز یا تو معدوم ہے، یا اتنی دبی دبی ہے کہ خود ہمیں بھی سنائی نہیں دیتی۔ پہلے تو صرف تکفیر کے فتوے کا ڈر ہوتا تھا، اب تو جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ جو لوگ اسلام کانام لے کر اس قسم کے غیر اسلامی افعال سر انجام دیتے ہیں، کیا انھیں اپنی ہی صفوں سے کسی مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا؟ کیا انھیں روکنے یا تھامنے والا کوئی نہیں رہا؟ کیا سب کوکلمۂ حق بلند کرنے میں خوف مانع آنے لگا ہے؟

تیسرا پہلو جس پر غیر بھی معترض ہوتے ہیں اور خود ہمارے اندر بھی ردعمل پیدا ہوتا ہے، اسلامی معاشرے میں عمومی انسانی تربیت  اور اخلاقی پہلوؤں کا فقدان ہے۔اخلاق صرف مر دو زن کے مابین معاملات سے متعلق نہیں، حیا صرف  ستر ڈھانپنے کا نام نہیں، پاکیزگی صرف جسمانی طہارت کو نہیں کہتے، کردار صرف نماز روزے سے نہیں بنتا۔ سچائی، ایفائے عہد، دیانت داری، وقت کی پابندی،  ایثار و قربانی، معاشرتی ذمہ داریاں، قانون کا احترام، باہمی روابط میں رواداری، نرم مزاجی، خوش خُلقی اور ماحول کی حفاظت جیسے اوصاف کیوں  مذہبی طبقے کی ترجیحات سے   خارج ہوتے چلے گئے ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ ہم بد عنوان افسر، بے ایمان تاجر  اور کام چور ملازم کے عمل کو اسلامی تعلیمات کے خلاف قرار دے کر اسے معاشرے میں ناقابلِ قبول قرار نہیں دیتے۔معاشرے کے ہر طبقے میں  چور بازاری، خیانت، وعدہ خلافی، بد کلامی، دشنام طرازی، غیبت، بہتان تراشی اور حق تلفی کا چلن عام ہے۔ مسجدوں کے منبروں سے ان کے خلاف کوئی صدا بلند نہیں ہوتی۔مذہبی حلقوں میں سے  کوئی اس بات کا مطالبہ نہیں کرتا کہ راشی و مرتشی کو سزا دی جائے تاکہ عوام کے حقوق کی حفاظت ہو سکے۔ کوئی پولیس کے، عدالت کے اور وکالت کے نظام میں موجود  اخلاقی برائیوں کی نشان دہی نہیں کرتا۔ کوئی دیہات اور قصبوں میں مسجد سے یہ اعلان نہیں کرتا کہ سکول جائے اور بچوں کو تعلیم  دیے بغیر استاد کی تنخواہ حلال نہیں ہوتی۔یہ سب چیزیں مل کر اسلامی شخصیت کی تعمیر کرتی ہیں۔ عبادات کے ساتھ ساتھ معاملات بھی اسلامی تعلیمات کا ناگزیر جزو ہیں۔  ہمارا دینی طبقہ، چند مخصوص پہلوؤں کی ترویج و تبلیغ ہی کو اسلام سمجھ بیٹھا ہے جس کے نتیجے میں مسلمانوں کی شخصیات ادھوری اور یک رُخی ہو گئی ہیں۔

یہاں میں مذہبی حلقوں اور مدارس کے اساتذہ سے یہ مطالبہ نہیں کر رہی کہ وہ اپنی بات کے حق میں پر تشدد مظاہرے کریں۔ میری درخواست تو صرف اتنی ہے کہ مدراس میں اس بات کی تعلیم دیں کہ  جمعے کے خطبے میں مسلمان عوام کو ارکانِ اسلام کی پابندی کے ساتھ ساتھتہذیب و شائستگی، دیانت داری اور بلند اخلاقی کا بھی سبق پڑھائیں۔ کیا کوئی اچھا مسلمان ناشائشتہ اور غیر مہذب ہو سکتا ہے؟ کیا کوئی پانچ وقت کا نمازی  نجاست پسند یا نجاست کو قبول کرنے والا ہو سکتا ہے؟ کیا کوئی حافظِ قرآن بد دیانت، ناجائز منافع خور  یا  دوسرے مسلمانوں کی حق تلفی کرنے والا ہو سکتا ہے؟ اسلام کی روح پر عمل کیا جائے تو ایسا نہیں ہو سکتا لیکن بد قسمتی سے ہمارے چاروں طرف ایسی مثالیں عام ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مولوی، مولانا اور حافظ جیسے القابات ، جو پچیس تیس سال پہلے تک احترام اور عزت کی علامت سمجھے جاتے تھے، اب طنز و تضحیک اور تمسخر کا نشانہ بن گئےہیں۔اب مولوی یا مولانا کہلانا کوئی بھی پسند نہیں کرتا۔ میں جانتی ہوں کہ اس میں سارا قصور مولویوں کا نہیں ہے لیکن ایسا بھی نہیں کہ وہ بالکل بے قصور ہوں۔ مجھے اس بات کا بھی اعتراف ہے کہ زوال کی یہ علامت صرف مولویوں کے طبقے میں نہیں ، خود ہمارے طبقے یعنی سکولوں اور کالجوں کے اساتذہ میں بھی اسی شدت سے نمودار ہوئی ہے اور ہم سب کہیں نہ کہیں ، کسی نہ کسی سطح پر قصور وار ہیں اور بہت قصور وار ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہماری خامیاں ہماری ہی خامیاں سمجھی جاتی ہیں۔ یا پھر اس نظام کی خامیاں سمجھی جاتی ہیں جس سے ہم وابستہ ہیں۔ لیکن مذہبی طبقے کی خامیاں، اس طبقے کی خامیاں نہیں، بلکہ اسلام کی خامیاں سمجھی جاتی ہیں۔

یہ ہے وہ سخت ذمہ داری جو مسلمان علما اور مدارس کے اساتذہ پر عائد ہوتی ہے۔ وہ لاکھ وضاحتیں پیش کریں، صفائیاں دیں ، دیگر اسباب و عوامل پر روشنی ڈالیں، مگر غیروں کی نظر میں ان کی ہر حرکت، ہر بات، اسلام کا حکم سمجھی جاتی ہے۔ غیر تو ایک طرف خود ہمارے اندر جدید تعلیم کی پیداوار ایک بڑا طبقہ ایسا موجود ہے جو مولویوں کے طرزِ عمل کو ہی اسلام سمجھ کر اس سے برگشتہ ہو چکا ہے اور تیزی سے مزید برگشتہ  ہوتا  جا رہا ہے۔

ہمارا یہ طبقہ، اور اس سے مراد پاکستانی سماج کا ایک بڑا حصہ ہے، کچھ تو اپنے تجربات کے نتیجے میں، مگر بہت زیادہ اس پروپیگنڈے کے نتیجے میں جو اسلاموفوبیا کی منظم مہم کے بعد مسلم معاشروں  میں بھی نت نئے سوال پیدا کرنے لگا ہے، مذہبی طبقے سے اس قدر دور ہو چکا ہے کہ اچھے بھلے متوازن مزاج لوگوں کو بھی، اگر وہ مذہبی طبقے کا دفاع  کرنے پر مائل نظر آئیں تو، اسی طرح اپنے غیظ و غضب کا نشانہ بنا لیتا ہے جس طرح اسلام دشمن حضرات بناتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمارا عہد افراط وتفریط کا عہد ہے۔ جس طرح معاشی طور پر درمیانہ طبقہ تیزی سے غائب ہوتا جا رہا ہے، اسی طرح نظریاتی اعتبار سے بھی اعتدال پسندی  اور متواز ن فکری مفقود ہوتی جا رہی ہے۔ اب اگر آپ میرے ہم خیال نہیں ہیں تو لازمی میرے دشمن ہیں۔ آپ یا تو ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے دشمن ہیں۔ یہ بیانیہ جو 9/11 کے بعد امریکہ نے  عام کیا تھا اور ہماری روزمرہ زندگی کا جزو بن چکا ہے۔

ہم جمہوریت کے نعرے تو بہت لگاتے ہیں لیکن جمہوری مزاج سے بالکل عار ی ہیں۔ جس طرح مذہبی طبقہ مسلکی اختلاف کو  کفر کے فتوے تک پہنچائے بغیر چین نہیں لیتا، اسی طرح لبرل طبقہ بھی مذہب اور مولوی سے ہمدردانہ رویہ رکھنے پر دہشت گرد اور طالبان  کا حصہ ہونے  کا الزام لگا دیتا ہے۔ ایسے میں وہ یہ فراموش کر دیتا ہے کہ اس گئے گزرے دور میں، جب ٹیکنالوجی نے انسانی ذہن کو اپنا زرخرید غلام بنا لیا ہے، یہ مولوی ہی ہے جو پورے معاشرے کی تضحیک بھی سہتا ہے اور اس قوم کے بچوں کو قرآن بھی پڑھاتا ہے۔ یہ مولوی ہی ہے جس نے اسلام کی روایت کو ، خواہ وہ کتنی ہی ٹوٹی پھوٹی کیوں نہ ہو، ابھی تک سینے سے لگا رکھا ہے۔ یہ مولوی ہی ہے جو گرمی سردی، دھوپ، بارش، زلزلے ، سیلاب اور ہر طرح کی ہونی انہونی میں پانچ وقت اذان دیتا ہے اور ایک اسلامی معاشرے  کا احساس دلاتا ہے۔  سچ تو یہ ہے کہ مولوی بننا ایک ایسی زندگی  کا انتخاب کرنا ہے جس میں ہر راہ کانٹوں سے بھری ہے۔ فی زمانہ یہ ایک مشکل اور بے فیض راستہ بن گیا ہے۔ کم از کم یہ دنیا اس عمل کی جزانہیں دیتی۔ یہ جزا اللہ ہی دے سکتا ہے اس لیے کہ  اس عہد میں خواہی ، نہ خواہی، اسلام کی نمائندگی  کا قرعۂ فال مولوی  ہی کےنام نکلا ہے ۔ باقی سب طبقے ایک فرضی کلین چٹ ہاتھ میں لیے بیٹھے ہیں۔ میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں کیوں کہ آپ  ہی اسلام کی ناموس اور کھوئےہوئےوقارکے حقیقی محافظ ہیں۔

آخر میں ایک اور اعتراف ضرور کرنا چاہتی ہوں۔ ہمارے ہاں رائج جدید نظامِ تعلیم میں مخصوص مضامین کو اہمیت دینے کا جو رواج شروع ہو چکا ہے، اس نے زبانوں کی تدریس کی اہمیت کو بالکل پس پشت ڈال دیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ دنیا اب زبان کے بجائے ایموجی سے کام چلانے پر آمادہ ہے۔ حالانکہ زبان صرف ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ تخلیقِ علم اور افکار کینموکی بھی ذمہ دار ہوتی ہے۔ زبان کے ذریعے ہم منطقی، معروضی، تخیلاتی یا کسی اور طرح کے انسان بن سکتے ہیں اور زبان پر مہارت نہ رکھنے کے باعث ان اوصاف سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے والے طالب علم بات سمجھ تو جاتے ہیں مگر اسے اپنے الفاظ اور اپنے انداز میں بیان کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں۔سکولوں اور کالجوں میں اردو زبان کی تدریس تو خاص طور پر ناقص اور بے بنیاد ہوتی چلی گئی ہے۔ اس کے برعکس،  میرا تجربہ ہے کہ مدارس کے تعلیم یافتہ خواتین و حضرات  نہ صرف عربی، بلکہ اردو  زبان  پر بھی مہارت رکھتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ آئندہ بیس پچیس برس کے دوران، اگرسیاسی و سماجی صورت حال میں کوئی نمایاں تبدیلی نہ آئی، تو اردو زبان و ادب کا  کل سرمایہ صرف اور صرف اسلامی مدارس سے فارغ التحصیل افراد کی میراث قرار پائے گا اور ہماری پوری قوم اس سے مکمل طور پر بے بہرہ ہو جائے گی۔ الّا یہ کہ تبرک کے طور پر کچھ اشعار گا لیے جائیں یا چند شوخ اور بامعنی جملے سیاق و سباق سے نکال کر اقوالِزرّیں کے طور پر یاد کر لیے جائیں۔ آج میں جو کچھ لکھ رہی ہوں، اسے پڑھنے والے آپ ہوں گے یا آپ کے طالب علم ۔اسلام کے بعد ہماری  تہذیب کی اتنی بڑی روایت کی حفاظت کی ذمہ داری بھی آپ ہی کے کاندھوں پر پڑنے والی ہے۔، میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اس کے لیے آپ کو  مبارک باد پیش کروں یا آپ سے اظہارِ ہمدردی کروں۔  اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو! میری گفتگو کو صبر اور تحمل سے سننے اور برداشت کرنے کا بہت بہت شکریہ!