o کچھ نہیں عذر گرفتارِ بلا ہونے میں دل کے خوں ہونے مرے آبلہ پا ...

پیچھے پڑا ہے وقت کہاں خود کو چھپا لیں بے ساختہ دوڑیں کہ زمیں کو ...

O آج پھر ذہن میں یکجا ہیں زمانے تینوں اے زباں بول کہ لب سے ...

ہمیشہ سے لوگ درباروں پرپھول چڑھایا کرتے ہیں ہمیشہ سے میں درباروں کے پھول چرایا ...

تمھیں یاد ہی کہاں ہے کہیں گھر بھی تھا تمھارا۔ اسی گھر میں تھا ستارہ ...

o کچھ نہیں عذر گرفتارِ بلا ہونے میں دل کے خوں ہونے مرے آبلہ پا ...

درد الجھے رہیں گے مناجات سے ہم کو فرصت نہیں ہے کمالات سے غم کو ...

ٹھہرو۔۔۔۔۔۔۔! کسی نے افواہ چھوڑی ہے، کہ مجھے، تم سے محبت ہے۔ سنو!  مجھے تم ...

دھوپ دریا کے اس پار ہے اور کشتی اس کنارے پانی کسی کا طرف دار ...

O کہاں گئے وہ زمانے کہ آدمی کے لیے فروغِ جلوہ باطن اصول ہوتا تھا ...