مرنے والوں کے اشارے جو بتا کر گئے تھے لفظ تاریخ کے پہلے ہی صدا ...

باہر بوڑھی کتیا لش لش گرم جوان لہو سے استنجا کرتی ہے، اندر ہم تم ...

اس کا شمار شہر کے جانے پہچانے لوگوں میں ہوتا تھا۔ اس کے آباؤاجداد صدیوں ...

ہووے گا تماشا پسِ افلاک کہیں اور پہنچے گی ِمرے بعد مِری خاک کہیں اور ...

مہ و ستارہ و گل بن کے آرہے ہو تم ہمارا آئنہ دل سجا رہے ...

کتنا اچھا لگتا ہے ! جب آپ کے سینے میں ایک استاد کا دل دھڑکتا ...

رنج اتنا کہ جئیں اور مریں ساتھ کے ساتھ بات ایسی کہ کہیں اور نہ ...

اس بدلتے خواب کو اب کون سا جامہ پنھائیں؟ اس بدکتے خواب کو سیدھا کریں، ...

حسب عادت دوپہر کا کھانا کھاتے کھاتے وہ ایل سی ڈی کی سکرین پر خبریں ...

کون ہوں مَیں، کہاں ہوں مَیں مجھ کو کوئی پتہ نہیں چاند ہوں یا کہ ...