اُٹھ پائے تو اِس اُفتاد نگر سے نکلیں گے لامعلوم ہیں ہم معلوم کے ڈر ...

نہ یہاں ہوں مَیں، نہ وہاں ہوں مَیں جو کہیں نہیں تو کہاں ہوں مَیں ...

سر افلاک ہے بکھرا ہوا شیرازہ انجم کا “نشاں چھاتی پہ ہے میری کسی کے ...

O ہوس کے پاؤں مدھم پڑگئے ہیں بہت اچھا ہوا غم پڑ گئے ہیں ہمیں ...

میں زندگی کے کسی لمحے پر شرمندہ نہیں ہوں: بلراج مین را بلراج مین را ...

“ناحق کو خوں لیا میں سر پر کبوتروں کا”* کابک سے آلگا ہے پتھر کبوتروں ...

ہم نے اس دن کتنی بہت سی باتیں کی تھیں یاد ہے تم نے مجھ ...

حصہ دوم اس حصہ میں ہم روشن خیالی کے بنیادی اشاروں کی وضاحت کے ساتھ ...

خاموش ہوں میں پیڑ کی مانند اگرچہ کہتا ہوں کہانی میں ہواؤں کی زبانی جو ...