وہ کہتے ہیں : ہمیں ہر رنگ کے پھول بھیجو ، ہماری جانب خوشبوئیں روانہ ...

اپنی اپنی گود اپنا اپنا چاند اپنے اپنے آسمان پر اپنا اپنا تخت اپنی اپنی ...

دیواروں سے ٹکرانا سَر رُکنا مت پانی ہو جائیں گے پتّھر رُکنا مت دِہلیزیں، زنجیریں ...

ہم کہ دنیا آپ ہیں، سمجھیں گے کیسے کس لیے ہم ہیں یہاں پہ اور ...

O اِس جہاں سے کہ اُس جہاں سے آئی خاک میں روشنی کہاں سے آئی ...

تری گلی سے جھکا کر نظر گیا تھا میں مجھے لگا کہ اسی روز مر ...

چھٹا صفحہ: چلئے پھر آغازکرتے ہیں اپنی گفتگو کااور پہلے ذکر   انسانی رویوں کا- تین ...

یہ کون سی سڑک ہے ؟ ایک ہجوم ہے گاڑیوں کا ، ایک جلوس ہے ...

چلتے چلتے آ نکلا ہے شہر میں لڑکا گاؤں کا دھوپ بہت دیکھی ہے اس ...

بڑے بڑے ادیبوں نے ایک غلط فہمی پھیلا رکھی ہے کہ کسی غیر ملکی زبان ...