قبر کی رات ہے ، اِس شہر میں رہنا پھر بھی ہم نے سمجھا ہے ...

یاد بھی کون مِرگ شالا ہے‎ بھِڑ کے چھتّے میں ہاتھ ڈالا ہے‎ تجزیے، تبصرے ...