کہانی در کہانی

یہ تحریر 151 مرتبہ دیکھی گئی

بیسویں کہانی:

کُھل جاسم سم: دیال سنگھ کالج کی دوباتیں، دو یادیں:

کیا دورتھاکیا زمانے تھے کہ دوڑ پیچھے کی طرف اےگردش ایام تُوکہنے کو جی چاہتاہےمگر گردش ایام نہ کبھی پیچھے کی طرف دوڑی ہے نہ دوڑے گی تو چلئے ہم خود ہی اُس کی طرف دوڑتے ہیں-یہ ۱۹۶۴کے اواخر کا ذکر ہےکہ میں نےمیٹرک کاامتحان اچھےنمبروں میں پاس کیااور چاہتے ہوئےایف سی کالج میں،نہ چاہتے ہوئےگورنمنٹ کالج میں بوجوہ داخل نہ ہوسکا تھاجس کی تفصیلی روداداپنی کتاب”لاہورمیرےاندرمیرے باہر”میں بیان کر چکا ہوں۔

چنانچہ جائے مستقر دیال سنگھ کالج ٹھہری جہاں پہنچ کرسم سم کہا اور پھرسب کے سب دروازے کُھلتے چلےگئےاور میں آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا-آئیے پہلے اس کالج کےپس منظر پر ایک نظر ڈالتےہیں تاکہ پھر اپنی کہانی سنائی جاسکے-۱۸۹۳میں سرداردیال سنگھ مجیٹھیا کی وصیت کے مطابق یونین اکیڈمی کے نام سے لاہور میں ایک تعلیمی درسگا ہ قائم کی گئی تھی جوبالآخر۱۹۱۰میں دیال سنگھ کالج کےنام سےموسوم ہوئی سردار دیال سنگھ کا تعلق واہگہ کے ایک گاؤں سےتھااوراُن کے کثیرمتروکہ اثاثوں سےاُن کی خواہش کے عین مطابق تعلیمی ٹرسٹ قائم کیا گیاتھا جو لاہور میں دیال سنگھ کالج اوردیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری کو چلاتا رہاہے،کالج کےبانی پرنسپل پروفیسرایم جی ولنجر ۱۹۱۶تک پرنسپل رہے،۱۹۴۷ میں قیام پاکستان کے بعدمعروف شاعر اور دانشورسیدعابدعلی عابد کالج کے پرنسپل مقرر ہوئے جو ۱۹۵۶ تک یہاں رہے-عابد صاحب نے کالج کی اعلئ ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعےاس کی شہرت کوچار چاند لگا دئےتھےاورمیرے دورتک پہنچتے پہنچتے یہ کالج اوج ثریا کو چُھو رہا تھا بلکہ نجی شعبےکے کالجوں میں بہت آگےتھا،بعدمیں قومیائےگئے دیگر کالجوں کی طرح اس کابھی وہی حشر ہواجوہماری آنکھوں کےسامنےہے بلکہ ستم ظریفوں نےاس کا اصل نام تبدیل کرکے ڈی ایس کالج رکھ دیا اورموسس کانام بھی مٹادیا تھا-چلئےاس کہانی کوپھروہیں سےشروع کرتےہیں جہاں چھوڑی تھی، دیال سنگھ کالج میں وسیع و عریض کھیل کےمیدانوں کےساتھ رام موہن رائےاورمجیٹھیا ہال کے نام سے دو بڑے ہوسٹل تھےجو اپنی سہولیات کےاعتبار سے معروف تھے،فیکلٹی جید اساتذہ پرمشتمل تھی-انگریزی زبان و ادب کے معروف استاد ڈاکٹرمحمدصادق پرنسپل تھےاور اُن کےجانےکےبعدمیرےآخری دور میں ڈاکٹر غلام یاسین خان نیازی آ گئے تھے،کالج کےاساتذہ میں پروفیسر منٹو،انجم رومانی،نذیرمہل،سید سرور حسین،اظہرالدین،احمدرفیق اختراور منظورالہئ جیسے نام فوری ذہن میں آرہے ہیں جو اپنے اپنے شعبے کے معروف اساتذہ تھےمحل وقوع کے اعتبار سے بھی کالج لاہورکے مرکزی مقام پراورشہر کی علمی،ادبی،صحافتی، تہذیبی و ثقافتی مراکز کے جھرمٹ میں تھا-ریڈیوپاکستان،پی ٹی وی، اخبارات مشرق،امروز،کوہستان، پاکستان ٹائمز،مجلہ چٹان،ریسٹورانٹ فلمی ستاروں کا مرکز کنگ سرکل،طلبہ کا مرکزتسکین،تمام بڑےبڑے سینما رتن،نشاط کیپیٹل،الفلاح یہ سارے کالج کےایک میل کے ریڈیئس میں آتے تھے،یہ توتھی بیرون کالج ثقافتی ماحول کی تفصیل،کالج کے اندربھی صورتحال کچھ مختلف نہیں تھی کہ یہاں بھی سٹوڈنٹس یونین کے علاوہ ہرمضمون کی سوسائٹی اور پھرانتہائی فعال بزم ادب اورڈیبیٹنگ سوسائٹی کے ہم قدم ڈرامیٹک کلب بھی کام کر رہا تھااور سال میں لازمی طور پر ایک ڈرامہ پیش کرتا تھا،ورائٹی شوز اس کےعلاوہ تھےجو سال میں ایک سے زیادہ مرتبہ منعقدہوتے تھےوہ جو کہتے ہیں کُھل کھیلنا،دیال سنگھ کالج میں واقعی چارسال (۱۹۶۴-۶۸) خوب کُھل کھیلا ہوں،ڈرامہ،ڈیبیٹ، مضمون نویسی،صحافت، شاعری، ایڈیٹری، لیڈری،غرض کیا ہےجو یہاں نہیں کیااورپنجابی محاورےمیں گج وج کےکیا-سٹوڈنٹس یونین کا جوائنٹ سیکرٹری رہا”افشاں” دیال سنگھ کالج کا ادبی مجلہ تھاجس کا ایڈیٹر رہا، ایڈیٹری کےاسی تجربے نے آگے چل کرمیرے یونیورسٹی کے ادبی مجلے”محوراوریونیورسٹی کرانیکل کے ایڈیٹر بننے کی راہ ہموار کی،دیال سنگھ کالج کے چار سالوں میں بطور مقرر میں نے پورے ملک کی سیر کرلی اور ہر چھوٹے بڑے شہر سے کوئی نہ کوئی انعام یا ٹرافی مباحثے میں جیت کر لایا، پینسٹھ کی جنگ نہ چھڑتی تو ڈھاکہ یونیورسٹی کا بھی چکر لگ جاتا-

دیال سنگھ کالج محض ایک تعلیمی ادارہ ہی نہیں تھا بلکہ نئی نسل کی تربیت گاہ تھی اور مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ میری تمام ترفطری اورتخلیقی صلاحیتوں کی تشکیل و تربیت میں اس درسگاہ کا اہم کردارہے،یہاں اپنے اساتذۂ کرام سرورحسین،اظہر الدین،کلیم الدین،احمدرفیق اختر، بی اےخان،انجم رومانی،احمد سعید اورمنظورالٰہی کوعقیدت واحترام کانذرانہ مجھ پرواجب ہےکہ جنہوں نےمجھ ناچیز ذرہ کوزمین سے اُٹھا کرآفتاب بنا دیا،مولا علئ ع کا قول ہے کہ جس نے مجھے ایک حرف بھی بتایا،میں اُس کا غلام ہوں،وہ چاہے مجھے بیچے، آزاد کرےیاغلام بنائےرکھے-اس بات میں کوئی مبالغہ نہیں کہ دیال سنگھ کےسٹیج پر پیش کئے جانے والے ڈرامے انگریزی محاورے میں ٹاک آف دی ٹاؤن ہوا کرتےتھے، اُن دنوں بانو قدسیہ کا لکھا ہوا ڈرامہ “اک ترے آنے سے پہلے” پیش کیا گیا تھا،پروفیسر کلیم الدین ہدایت کار جبکہ پروفیسرمنظورالٰہی ہیروتھے چونکہ اُس وقت یہ صرف مردانہ کالج تھا ہیرؤئن اور دیگرزنانہ کردارآرٹس کونسل سے لئے جاتے تھے چنانچہ اس ڈرامے کی ہیرؤئن عطیہ شرف تھیں میرابھی ایک معمولی سا کردار تھااورپھرپردےکھینچنے پرڈیوٹی بھی تھی-میری شاعری کاآغاز بھی اسی کالج میں ہوا،اُس دورکی ایک غزل کے اشعار-زندگانی موت کا پیغام ہے/صبح کاانجام آخر شام ہے/کامیابی نے صدا چومے قدم/ اس لئےاپنامظفرنام ہے-واہ کیازمانہ تھا جوانی کی راتیں مرادوں کے دن کہ اب انہیں ڈھونڈ چراغ رُخ زیبا لے کر-کالج میں مشاعرےبھی ہوا کرتےتھےجن میں ملک کے بڑے بڑے شعراء شرکت کیا کرتے،میں نے تمام بڑے شعراء کو پہلی مرتبہ دیال سنکھ کالج میں سنا تھا-ظہیر کاشمیری نےاپنی یہ شہرہ آفاق غزل کالج کےمشاعرےمیں پڑھی تھی:
لوح مزار دیکھ کے جی دنگ رہ گیا/
ہر ایک سر کے ساتھ فقط سنگ رہ گیا/ بدنام ہو کے عشق میں ہم سرخ رُو ہوئے/اچھا ہوا کہ نام گیا ننگ رہ گیا/ ہوتی نہ ہم کو سایۂ دیوار کی تلاش/لیکن محیط زیست بہت تنگ رہ گیا/ سیرت نہ ہو تو عارض و رخسارسب غلط/خوشبواُڑی توپھول فقط رنگ رہ گیا/ اپنے گلے میں اپنی ہی بانہوں کو ڈالیے/ جینے کا اب تو ایک یہی ڈھنگ رہ گیا/کتنےہی انقلاب شکن در شکن ملے/آج اپنی شکل دیکھ کے میں دنگ رہ گیا/کل کائنات‌ فکر سے آزاد ہوگئی/انساں مثال‌ دست تہ سنگ رہ گیا/ ہم ان کی بزم نازمیں یوں چپ ہوئےظہیرؔ/
جس طرح گُھٹ کےساز میں آہنگ رہ گیا-غالب اپنے مکتوب کے آخر میں کبھی کبھی لکھا کرتے تھے کاغذ نبڑ گیا،میرا کاغذ تو نہیں بنڑا ہاں البتہ یادداشت اب کچھ جواب دےرہی ہے کہ عرصہ بھی توکتناہوگیا؟پورے ساٹھ سال! اپنےدوست ڈاکٹراجمل نیازی کےاس شعر پر بات کوختم کرتا ہوں؀

ایک ہی کالج،ایک ہی کمرہ،ایک ہی سب کا حال

دو باتیں، دو یادیں اجمل دو گھڑیاں دو سال