کشمیر پالیسی اور عکسی محاذ پر پسپائی

یہ تحریر 519 مرتبہ دیکھی گئی

ادب اور آرٹ وہ آئینہ ہیں جس میں قوموں کو اپنے خد و خال کئی گُنا شفاف اور واضع نظر آتے ہیں۔ پچھلے ڈیڑھ سو برس میں فوٹوگرافی نے ان دونوں اصناف کے منظرنامے اور موضوعات کو حیرت انگیز وسعت عطا کی ہے۔ آج کے زمانے میں بحث “فوٹوگرافی کیا کرتی ہے؟” کی بجائے “فوٹوگرافی کیا کُچھ کرسکتی ہے” پر ہونے لگی ہے۔ تصویرکشی کے نئے ممکنات کے مؤثر استعمال سے بیشتر اقوام نے اپنے تہذیبی تشخص کی تعمیر نو کا آغاز کر لیا ہے مگر کئی ہٹ دھرم معاشرے جہاں انفرادی و اجتماعی ترقی کا پیمانہ اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بجائے بناوٹی صداقت و امانت داری کے پرچار تک محدود ہو، وہاں غفلت آمیز رویوں کے نتیجے میں نا درست بیانیے جگ ہنسائی کا موجب بنتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں ایسے رویوں کا نتیجہ ڈونلڈ ٹرمپ کے غُصیلے اور مُشتعل امریکہ یا مُودی کے مُتعصب و مُتشدد ہندوستان کی شکل میں دُنیا کے سامنے آیا ہے۔ بدقسمتی سے اس روش پر چلنے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان بھی شامل ہے جہاں بنیادی ترجیحات کے دھارے سے علم، تحقیق اور فنون کی ضرورت ختم ہو جانے کے بعد معاشرتی سوچ کا بڑا مصرف چینلز پر ہمہ وقت جاری گمراہ کُن مباحث کی مدد سے عوام کو سیاسی مسائل میں اُلجھائے رکھنا رہ گیا ہے۔

پاکستان میں 1977 کے مارشل لاء کا براہ راست نقصان فنون و ادب کے جمالیاتی تصور کو پہنچا۔ خود ساختہ فتووں کی آڑ میں کئی فنون سرے سے حرام قرار پائے اور جو بچ رہے بوقت ضرورت نام نہاد “فیس سیونگ” کے لیے رہ گئے۔ ادب و فن کی ہر نئی تحریک کو قومی نظریات سے مُتصادم ٹھہرا کر جنسیت نگاری یا فحاشی کہہ کر رد کیا گیا۔ فنون میں سب سے سخت پابندی کا سامنا فوٹوگرافی اور فوٹوجرنلزم کو رہا۔ ادارے اس مُغالطے کا شکار ہو گئے کہ فوٹوگرافی ریاستی مُفادات کے خلاف کوئی عمل ہے جس کا فروغ معاملات پر بالادستوں کی گرفت کمزور کر سکتا ہے۔

کیمرے کی اس صلاحیت پر تو شُبہ نہیں کہ یہ انسانی اور جمہوری اقدار کے پھیلاؤ کا نہایت زود اثر وسیلہ ہے اور تصویریں عوامی سوچ کے دھاروں کو موڑنے کی طاقت رکھتی ہیں۔ اسی خدشے کے تحت ضیا الحق نے پاکستان میں بدترین میڈیا سنسرشپ نافذ کی۔ معروف صحافیوں اور فوٹوجرنلسٹس کو قید ہوئی یا کوڑے لگے۔ کئی اخبارات و رسائل فی الفور بند کر دیے گئے۔ روزنامہ “مساوات” بھی ان میں شامل تھا۔ نامور پاکستانی فوٹوجرنلسٹ اظہر جعفری کی “روزنامہ مساوات” کے لیے بنائی گئی تصاویر اور نیگیٹوز کا بیشتر ذخیرہ ضبط یا ضائع کر دیا گیا۔ ان میں خاصی تعداد نصرت بھٹو کے زیر قیادت پاکستان پیپلز پارٹی کی مارشل لا کے خلاف جدوجہد کی تصاویر کی بھی تھی۔ ریاستی سطح پر صرف ایسی تصاویر کی تشہیر کی گئی جن سے اسلام یا نظریہ پاکستان کی ترویج ہوتی ہو۔ حتیٰ کہ قائد اعظم کی مغربی لباس میں بلیئرڈ کھیلتے، صوفے پر نیم دراز ہو کر سگار کے کش لگاتے، پالتو کتوں کو سہلاتے یا گھُڑ سواری کے لباس میں انتہائی باوقار تصاویر کو پس منظر میں دھکیل کر جناح کیپ اور شیروانی میں ملبوس تصاویر کو سرکاری سرپرستی میں فروغ دیا گیا۔ ضیا الحق کے سجھائے ہوے راستے کو بعد میں آنے والے سب سویلین اور فوجی حکمرانوں نے اپنایا۔ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر اختیار، چال بازی، تسلط یا سنسرشپ نے پاکستانی فوٹوجرنلسٹس اور دیگر شعبوں میں کام کرنے والے عکس کاروں کی شدید حوصلہ شکنی کی۔ عوام میں شعور و آگہی اُجاگر کرنے والی تصاویر کی اشاعت محدود کر کے سیاسی اشتہاربازی، شخصیت پرستی، مذہبی تقریبات و مُقامات مُقدسہ، فیشن، گلیمر اور انٹرٹینمنٹ کو زیادہ سے زیادہ جگہ دی گئی۔ رفتہ رفتہ پاکستان کا ثقافتی امیج گہنانے لگا اور ہمیں عالمی سطح پر اپنی ثقافتی اور تہذیبی رنگارنگی کو اُجالنے کے لیے بھی تصاویر بین الاقوامی امیج سٹاک ایجنسیوں سے بھاری معاوضوں کے عوض حاصل کرنا پڑیں۔ یہ صورت حال آج بھی جوں کی توں ہے۔ حُب الوطنی کے جعلی نسخوں کی آڑ میں امیج سنسرشپ کے تمام حربے مہلک ثابت ہوے اور قوم کی ثقافتی و عکسی شناخت مسخ ہو کر رہ گئی۔

فوٹوجرنلزم اور تصویر کشی کو مسلسل نظر انداز کیے رکھنے سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ تصویر کو تاریخی حوالے اور ہمارے گرد و پیش میں رونما ہوتے اہم واقعات کے عکسی ثبوت کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہی نہ رہی۔ پاکستانیوں کی اکثریت کے نزدیک تصویر میڈیا امیج کے لیے ہے اور سماجی و تمدنی شعور، زندگی موت کے ثبوت، اظہار فن یا جمالیاتی تصورات کے ساتھ اس کا کوئی واسطہ نہیں۔ اس ذہنیت کا خِفت آمیز مؒظاہرہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس 2017 میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کے خطاب کے دوران دیکھنے میں آیا۔ پاکستانی مندوب نے اپنی دھواں دھار تقریرمیں بھارت کو “جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی جڑ” قرار دیتے ہوے ہاتھ بُلند کر کے ایک کشمیری بچی کی تصویر لہرائی جس کا چہرہ بھارتی فوجیوں کی بندوق کے چَھرّوں سے بُری طرح چِھدا ہوا تھا۔ ملیحہ لودھی نے اس عکس کو کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی سچی تصویر قراردیا۔ اس تصویر کے سامنے آتے ہی میڈیا پر واویلا مچ گیا کیونکہ جنرل اسمبلی میں پیش کی جانے والی تصویر غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے میں زخمی فلسطینی لڑکی کی تھی جسے انتشار زدہ علاقوں میں کام کرنے والی امریکی فوٹوگرافر ہیڈی لیوائن نے 2014 میں کیمرے میں محفوظ کیا تھا۔

بھارتی وفد نے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوے کہا، “پاکستانی مندوب کے پاس جھوٹ پر مبنی دعوے کے حق میں کوئی ثبوت نہیں۔ سنگدلی سے ایک گھائل لڑکی کی تصویر اس فورم پر لہراتے ہوے کسی نے علم و تحقیق کا سہارا لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ کشمیر معاملے پر پاکستان دُنیا کو ہمیشہ سے اسی طرح گُمراہ کرتا آیا ہے۔” وفد نے بھارتی فوج کے لیفٹیننٹ عُمر فیاض کی تصویر پیش کی جسے لشکر طیبہ اور حزب المُجاھدین کے عسکریت پسندوں نے مئی 2017 میں مقبوضہ کشمیر سے اغوا کر کے قتل کر دیا تھا۔ اس پر پاکستانی کمیشن نے رسمی بیان جاری کیا کہ “بھارت کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے سارے معاملے کو تصویر کے پیچھے دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔” کسی نے اس سنگین غفلت سے کوئی سبق سیکھا یا نہیں یہ الگ قِصّہ ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ پاکستان میں کسی ایک حکومت نے کبھی ضرورت محسوس نہیں کی کہ اپنے مؤقف کی حمایت میں ہمارے آرکائیوز میں ہمارے اپنے فوٹوجرنلسٹس کا کام ہونا چاہیے۔ کیا کشمیر یا دیگر علاقوں میں جاری کشمکش اور تحریک آزادی کی تصاویر پاکستانی خارجی و داخلی ترجیحات کا حِصّہ نہیں ہیں؟ بین الاقوامی مُبصرین کو لائن آف کنٹرول کے دورے کروانے کے ساتھ ساتھ مُعتبر پاکستانی فوٹوجرنلسٹس کو کشمیر پر کام کرنے کے لیے کیوں نہیں کہا جاتا؟

دوسری جانب ہندوستان نے کشمیر معاملے پر روز اوّل سے بھرپور توجہ رکھی اور اپنے ناجائز تسلط کے باوجود مقبوضہ کشمیرکے لینڈ سکیپ، بود و باش، رسوم و رواج اور تاریخ پر معروف بھارتی عکس کاروں اور فوٹوجرنلسٹس کی نہ صرف بے شُمار نُمائشیں مُنعقد کیں بلکہ تصویری کتب بھی شائع کیں۔ سِری نگر سے ٹائمز آف انڈیا کے نامی فوٹوجرنلسٹ ست پال ساہنی کی 1948 سے 1965 تک جموں و کشمیر اور لداخ میں بنائی ہوئی تصاویر بھارت کے کشمیر آرکائیوز کا خزانہ شُمار ہوتی ہیں۔ 1983 میں فوٹوگرافر رگھوبیر سنگھ کی کشمیر پر ڈاکومنٹری طرز کی تصویری کتاب Kashmir: Garden of Himalayas شائع ہوئی۔ اس کتاب کی اہمیت اور موضوع کو مدنظر رکھتے ہوے جواہر لعل نہرو کا کشمیر پر طویل مضمون بطور پیش لفظ شامل کیا گیا۔ آج بھی کشمیر میں لاک ڈاؤن کے باوجود بھارتی فوٹوجرنلسٹس کی بنائی ہوئی تحریک آزادی کی تصاویر کی نُمائش پر خاص پابندی نہیں لگائی گئی۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر دفتر خارجہ کی ٹیم پاکستانی مؤقف کی حمایت میں بھارتی فوٹوجرنلسٹس مُزمل مٹو، فیصل خان، جُنید بھاٹ یا آوانی رائے کی 2014 سے 2016 کے دوران بنائی گئی اثرانگیز تصاویر (بھارتی فورسز کے ہاتھوں عورتوں کے ریپ، بچیوں کے جنسی استحصال، بانڈی پورہ میں بارہ سالہ لڑکے کے جنازے پر فائرنگ، بندوقوں کے چَھرّوں سے زخمی آنکھوں والے بچوں اور آنسوگیس اور بلااشتعال فائرنگ سے چھلنی دیواروں والے ریہاشی مکانوں) میں سے کسی کا انتخاب کر لیتی تو جنرل اسمبلی میں بھارت کے پاس اس کے اپنے فوٹوجرنلسٹس کے بنائے ناقابل تردید عکسی ثبوت کو جھُٹلانے کا کوئی بہانہ نہ بچتا اور ہم بھی حساس عالمی فورم پرعلمی و تحقیقی پسماندگی کا شکار ایسی ریاست کے طور پر نہ جانے جاتے جہاں سنگین غفلت پر بھی کوئی کسی کو جوابدہ نہیں۔